balochistan university

بلوچستان یونیورسٹی میں ہراسگی کیس :سابق وی سی پر جوڈیشل کارروائی کی سفارش

EjazNews

ایف آئی اے سائبر کرائم ٹیم نے ستمبر2019 میں سکینڈل بے نقاب کیا تھا۔سکیورٹی برانچ کے ایک افسر اورسرویلنس انچارج کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے ہراساں اور بلیک میلنگ کی ویڈیوزبھی برآمد ہوئی ہیں۔
بلیک میل کئے گئے طلبا میں زیادہ تعداد طالبات کی ہے جب کہ وائس چانسلر کے سٹاف آفیسر سے بھی دوران تفتیش نازیبا مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

طلبہ تنظیموں نے چانسلر جامعہ بلوچستان و گورنر بلوچستان سے سابق وی سی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ خفیہ کیمروں کی تعداد ایف آئی اے کی رپورٹ میں 12بتائی گئی ہے تاہم وہ رپورٹ مکمل سامنے نہیں آ سکی۔

جامعہ بلوچستان کا88واں سینڈیکٹ اجلاس پروفیسرڈاکٹرشفیق الرحمن کے زیرصدارت منعقد ہوا جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمدہاشم کاکڑ اور دیگر اعلی احکام نے شرکت کی۔
ہراسگی کیس بلوچستان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔ 30جون کی سماعت میں معزز عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو سینڈیکٹ اجلاس منعقد کرکے ایف آئی اے کی رپورٹ پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ہراسگی سکینڈل پر بلوچستان کی طلبہ تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو عدالت کے حوالے کر دیا ہے:اٹارنی جنرل آف پاکستان

جامعہ بلوچستان میں جنسی ہراسگی سکینڈل سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا۔
ہراسگی کیس میں جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہونے پر سکینڈل کے مرکزی کردار سابق وی سی کیخلاف گورنر بلوچستان سے جوڈیشل کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاویداقبال کیخلاف جوڈیشل انکوائری کرکے ان کے ایوارڈز اور ٹائٹلز واپس لیے جائیں۔