اقوام متحدہ

پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے:اقوام متحدہ

EjazNews

اقوام متحدہ کی جاری رپورٹ میں پاکستان کے موقف کو ایک بار پھر تقویت ملی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے۔

افغانستان میں بھارت کا بڑھتا اثر و رسوخ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کا کوئی موقع بھارت ضائع نہیں کرتا ۔ بھارت سے آئے ہوئے کئی دہشت گردی پاکستا ن میں گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔
20-2019 میں عالمی سطح پر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے رپورٹ میڈیا کیلئے بھی جاری کر دی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ایک ایسی تنظیم ہے جس کی زیادہ تر توجہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں ہے اور اس کے اراکین دہشت گردی کی دیگر تنظیموں میں بھی متحرک بھی رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 6 سے ساڑھے 6 ہزار ہے جس میں سے زیادہ تر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔ کالعدم تنظیم کو افغانستان میں سب سے بڑا دہشت گرد گروہ کہا گیا جس کی سربراہی عامر نور ولی کے پاس ہے، قاری امجد نائب سربراہ اور ترجمان محمد خراسانی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی سٹاک ایکسچینج دہشت گردی کیلئے سمز لاہور اور سرگودھا سے خریدیں گئیں

رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کے کئی سابق اراکین نے عراق میں داعش اور داعش خراسان میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے اور اقوام متحدہ کی رکن ریاستوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ گروپ اور اس کے کئی دھڑے خود کو داعش خراسان کی صف میں شامل کرلیں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ داعش خراسان، داعش کی قیادت کی نظرئیے کو نافذ کر کے عالمی ایجنڈا اختیار کرنے کی کوشش کررہا ہے جس میں افغانستان کی سرزمین کو دنیا کے بڑے خطے میں دہشت گردی کا اثر و رسوخ پھیلانے کا اڈا سمجھا جاتا ہے۔

یہ رپورٹ اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین دہشت گردی سے پاک کر دی ہے اب جن ممالک میں دہشت گردہیں ان کا فرض بنتا ہے وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کریں اور دہشت گردوں کو پاکستان میں آنے سے روکیں کیونکہ اگر ہم کہتے تو الزام تھا یہ تو خود ا قوام متحدہ کہہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب میں گونگے بہرے بچے قرآن سیکھنے لگے!