india

بھارت کا فرانس سے ہیمر میزائل خریدنے کا معاہدہ:جنگی جنون کی طرف بڑھتا ایک اور قدم

EjazNews

بھارت نے رافیل طیارو کے بعد فرانس سے ہیمر میزائل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے ۔
خطرناک ہیمر میزائل کا معاہدہ انڈیا نے فرانس کے ساتھ کیا ہے ۔ یہ میزائل خطرناک پہاڑی علاقوں میں ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

60سے 70کلو میٹر کے فاصلے تک مار کرنے والے ہیمر میزائلوں کو چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں خریدا جارہا ہے۔
ہمیر میزائل تیار کرنے والی کمپنی سافران الیکٹرانک اینڈ ڈیفینس کے مطابق ہیمر میزائل دور آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ میزائل کے آگ لگی گائڈ نس کٹ میں جی پی ایس، انفراریڈ ار لیزر جیسی ٹیکنالوجی فٹ ہوتی ہے جو پہاڑی علاقوں میں دشوار گزار راستوں میں قائم بنکرز اور دیگر تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یاد رہے رافیل طیارے بھی فرانس سے خریدے گئے ہیں جس کے بارے میں دعوی کیا جارہا ہے کہ 29جولائی تک رافیل کی پہلی کھیپ یعنی 5طیارے بھارتی فضائیہ کو مل جائیں گے ۔ ان طیارو ں میں بھی بڑی کرپشن لائے تھے راہل گاندھی جسے بی جے پی حکومت ہندوتوا کے ذریعے قومی سلامتی میں بدلنے میں کامیابی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  جب سب کچھ صاف نظرآرہا ہو تو پھر آپ اچھے کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں

جب رافیل کی ڈیل ہوئی تھی تو راہول گاندھی کا کہناتھا نریندر مودی نے رافیل طیاروں کی ڈیل میں کرپشن کر کے 30ہزار کروڑ ڈالر اپنے دوست انیل امبانی کی جیب میں ڈالے ہیں۔ نریندر مودی کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے، ان پر مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت ہیں۔ جرم ثابت کرنے والی رافیل طیاروں کی فائلیں چوری کروا کر مودی نے کرپشن چھپانے کی کوشش کی ہے۔

غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد اگر بھارت میں آپ گننا چاہیں بھی تو نہیں گن سکتے ہیں۔ بڑے شہروں میں لاکھو ں لوگ جھونپڑ پٹیو ں میں زندگیاں گزارتے ہیں۔ کسانوں کی خودکشیاں آئے دن کا معمول ہے۔سیلاب آجائے یا موسلا دھار بارشیں ہو جائیں تو مرنے والوں کی تعدا د سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ ایسا ملک اربوں ڈالر کے معاہدے صرف جنگی جنون کیلئے کر رہا ہے۔

اپنے لوگ مرتے ہیں تو مرجائیں ہمیں تو فرانس کی اور امریکہ کی اسلحے کی فیکٹریاں چلانی ہیں اور وہاں کی کمپنیوں کے پاس کسی طور پر پیسوں کی کمی نہیں ہونے دینی ۔ اس سے تو یہی سوچ اخذ ہوتی ہے اور نظر بھی یہی آتا ہے کیونکہ بھارت بذات خود کچھ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اس کے جہاز اور اسلحہ تقریباً 90فیصد بیرون ملک سے ہی منگوایا جاتا ہے۔ پہلے روس کی فیکٹریاں چلوائیں اب یورپ اور امریکہ کی فیکٹریاں چلائیں گے ان کروڑوں لوگوں سے ٹیکس لے کے جن کے پاس ایک وقت کی کھانے کو روٹی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بی جے پی رہنما پر نامعلوم شخص نے جوتا دے مارا