Qurbani

قربانی کا حقیقی مقصد اور حکمت

EjazNews

قربانی سے مقصود رضائے الٰہی کا حصول:
اللہ تعالی کا فرمان:
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمہاری طرف سے تقو ی پہنچے گا۔“(حج:37)
اہم نکال::
1۔اللہ تعالی کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔
2۔الدہ کو قربانی کرنے والے کا اخلاص درکار ہے۔
3۔ قربانی پرتکبیر پڑھنا چاہیے۔ بسم اللہ واللہ اکبر ۔
قربانی صرف اللہ تعالی کے لیے:
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
ترجمہ:”کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔“(الانعام 162-63
قربانی نام ہی اخلاص کا ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ”اور ان کو بس یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر اور نماز قائم کرو اور زکوة دو۔ یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے۔“ (البینة :5)
قربانی کا مقصود اور حکمت، احادیث کی روشنی میں
قربانی دل کے تقوی کا نام ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:یہ اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ “(الحج:32)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:” اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔( صحیح مسلم:2564 )
اللہ تعالی خالص ملی قبول کرتا ہے:
سیدنا ابو امامة الباہلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”بے شک اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضامقصود و مطلوب ہو۔“ (حسن صحیح سنن نسائی:3140)
اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے:
سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن ) دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہوگی جنہیں حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔“ صحیح البخاری:1
قربانی صرف اللہ تعالی کے لیے ہے:
سیدنا علیؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اس شخص پرلعنت کرے جو جانور کوغیر اللہ کے لیے ذبح کرے۔“( صحیح مسلم :1978)
اللہ تعالیٰ صرف پا ک مال قبول کرتا ہے:
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:”اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پا کیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ پھر ذکر کیا ایسے مرد کا جو کہ لمبے لمبے سفر کرتا ہے اور گرد و غبار میں بھرا ہے اور پھر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب! اے میرے رب ! حالانکہ کھانا اس کا حرام ہے اور پینا اس کا حرام ہے اور لباس اس کا احرام ہے اور غذا اس کی حرام ہے پھر اس کی دعا کیونکر قبول ہو۔( صحیح مسلم: 1015)
ان آیات اور احادیث سے دل کے تقوی اور اخلاص نیت کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ ہی خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کر یں۔
خالص نیت کا فائدہ:
بعض اوقات نیت درست ہوتو عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔
سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: ”مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! مدینہ میں رہتے ہوئے ؟ فرمایا: ہاں ! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔ (صحیحالبخاری: 4423)

یہ بھی پڑھیں:  تجارت کے فائدے