tayeb ardogane

کسی بھی ملک کو لیبیا کے اندر فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے:طیب ایردوان

EjazNews

گزشہ روز مصر کی پارلیمان نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ملک سے باہر مسلح فوجیوں کو تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

مصری پارلیمان نے بند کمرے کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ایوان نمائندگان نے اتفاق رائے سے مصری مسلح افواج کے ارکان کو ملک کی سرحدوں سے باہر لڑاکا مشنوں کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ جرائم پیشہ مسلح ملیشیاؤں اور غیرملکی دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں مصر کی قومی سلامتی کا تحفظ کیا جاسکے۔

پارلیمان کی منظور ی کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ۔ دونوں لیڈروں نے لیبیا میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے سے اتفاق کیا ہے اور فوجی کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

معمر قذافی کے بعد سے یہ ملک اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ معمر قذافی کو پہلے نہتا کیا گیا اور پھر اس ملک پر دنیا بھر کی فوجیں چڑھ دوڑیں اس دن سے لے کر یہ بدنصیبی کی دلدل میں پھنستا ہی چلا گیا اور امن و امان والا ملک اب خون خرابے کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کا چندریان ٹو 384ہزار کلو میٹرکا سفر طے کر کے چاند پر ستمبر میں پہنچے گا

شمالی کوریا اورامریکہ کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوتے ہیں تو امریکہ شمالی کوریا کو ایٹمی پروگرام رول بیک کرنےکا کہتا ہے جبکہ شمالی کوریا کے سامنے لیبیا کی مثال ہے ۔ اس لیے شمالی کوریا اس بات پر کبھی رضا مند نہیں ہوتا۔

مصر میں فوجوں کو ملک سے باہر کارروائی کرنے کی اجازت ملنے کے بعد ترکی نے بھی اپنا رد عمل جاری کیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ مصر، لیبیا میں فوج کشی کا ارادہ ترک کردے۔انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ مصر کسی بھی طرح کی خوش فہمی میں نہ رہے۔

ترک میڈیا کے مطابق رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی نے لیبیا کی صورتحال پہ نگاہ رکھی ہوئی ہے۔ کسی بھی ملک کو لیبیا کے اندر فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا مزید کہناتھا لیبیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ لیبیا میں باغی ملیشیا کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو روکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  30سال تک مصر کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے حسنی مبارک بھی نہ رہے