khawaja arif aldin_خواجہ عارف الدین

پیغامِ عمل کا داعی، خواجہ عارف الدین

EjazNews

یوں تو ادھر کچھ دنوں سے روزانہ اپنے حلقۂ تعارف میں کسی نہ کسی کی وفات کی خبر سے دل رنجیدہ رہتا ہے _۔ علماء ، دانشور ، دینی تنظیموں کے رہنما ، مدارس کے ذمے دار اور اساتذہ ، احباب ،کسی نہ کسی کی وفات کی خبر تسلسل سے آ رہی ہے ، لیکن جب خواجہ عارف الدین رحمہ اللہ کی وفات کی خبر ملی تو سخت دھچکا لگا _ وہ کچھ دنوں سے بیمار تو تھے، لیکن اتنی جلدی رخت سفر باندھ لیں گے، اس کا اندازہ نہ تھا _ ۔عارف الدین صاحب کی پوری زندگی خدمت دین سے عبارت ہے _ وہ طالب علمی کے زمانے سے تحریک سے وابستہ تھے _۔ جماعت اسلامی ہند میں انھوں نے مقامی ، ریاستی اور مرکزی ، تمام سطحوں پر ذمے داریاں نبھائیں اور رفقائے تحریک پر اپنے اثرات چھوڑے _ چنانچہ یہ فطری بات ہے کہ ہزاروں وابستگانِ تحریک ان کی خدمات کا تذکرہ اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں _۔ گزشتہ میقات میں مرکز جماعت اسلامی ہند میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے _ وہ شعبۂ خدمت خلق کے مرکزی سیکرٹری تھے _ ،اس عرصہ میں ان کی شرافت ، دین داری ، جدّوجہد ، لگن ، تحریک سے گہری وابستگی ، رفقاء سے محبت و تعلق اور دیگر خوبیوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا _ ۔خواجہ صاحب سے میرا غائبانہ تعارف جامعۃ الصفہ کے واسطے سے ہوا ، جس کے اشتہارات سہ روزہ دعوت اور ماہ نامہ زندگی نو میں پابندی سے شائع ہوتے تھے _ معلوم ہوا کہ وہ اس کے بانی ناظم ہیں _ اس جامعہ کو ترقی دینے اور اسے تحریک اسلامی کا مرکز بنانے کے لیے انھوں نے بہت جدوجہد کی _، مجھ سے ملاقات کے بعد وہ بارہا اس کا تذکرہ کرتے اور اس کو ترقی دینے کے لیے مجھ سے مشورہ طلب کرتے _ انھوں نے کئی مرتبہ مجھ سے خواہش کی کہ میں آپ کو جامعۃ الصفہ دکھانا چاہتا ہوں _ میں نے وعدہ کرلیا ، لیکن افسوس کہ ریاست تلنگانہ کے سفر اور جامعۃ الصفہ کے معائنہ کا پروگرام نہ بن سکا _ اس طرح ان کے ساتھ جاکر اس مدرسہ کی زیارت حسرت بن کر رہ گئی _ ۔دو برس قبل سعودی سفارت خانہ کی معرفت عربی زبان میں اسلامی مصادر و مراجع کی کتابیں بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی تھیں _ مجھے کئی ذرائع سے خاصی کتابیں مل گئیں ، جن میں سے بعض کتابوں کے کئی کئی نسخے تھے _ میں نے خواجہ صاحب سے عرض کیا کہ اگر آپ لے جاسکیں تو کچھ کتابیں آپ کے مدرسے کے لیے دے دوں _ بہت خوش ہوئے _ میں نے 3 کارٹون کتابیں ان کے حوالے کیں _ انھوں نے زحمت برداشت کرکے وہ کتابیں مدرسے منتقل کیں _ ۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا تعلیم آج بھی ہماری پہلی ترجیح ہے؟

خواجہ صاحب اچھے خطیب تھے _ طلبہ ، نوجوان اور وابستگانِ جماعت کے درمیان کی گئی ان کی بہت سی تقریروں کی ریکارڈنگ موجود ہیں _ ان کی بعض تقریروں کے کچھ کلپس آج کل سوشل میڈیا پر گردش میں ہیں _ مرکز جماعت کی مسجد اشاعت اسلام میں بعد نماز عصر کبھی کبھی مختصر تذکیر کرتے تھے _ ایک مرتبہ انھوں نے بتایا کہ جامعۃ الصفہ میں اساتذہ اور طلبہ کے درمیان بھی وہ عرصہ تک تذکیر کرتے رہے ہیں _ ان تربیتی تقاریر کا مجموعہ انھوں نے ‘پیغامِ عمل کے نام سے مرتب کیا تھا اور جامعہ سے اس کے 2 ایڈیشن منظر عام پر آئے تھے _ اس کتاب کو وہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے بھی شائع کروانا چاہتے تھے _ افسوس ، ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی _ ۔

ہم سب تحریک کے خادم اور دین کے راہی ہیں _ ہر شخص متعین سانسیں لے کر آیا ہے _ موت کا جو وقت متعین ہے اس سے ایک لمحہ پہلے آسکتی ہے نہ ایک لمحہ بعد _۔ آج ان کی باری ہے ، کل ہماری باری ہوگی _ ،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک زندہ رکھے ، اسلام پر قائم رکھے اور جب موت آئے تو ایمان پر ہمارا خاتمہ ہو، _ اللہ تعالیٰ محترم خواجہ عارف الدین کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ، تحریک کو ان کا نعم البدل عطا کرے اور جملہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے _ آمین ، یا رب العالمین!
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

یہ بھی پڑھیں:  ریڑھیوں اور پتھاروں پر بکتی چپس، جو ہرگز فرنچ فرائز نہیں