aya_sofia

فضائل اعمال و اقوال

EjazNews

فرمانِ الٰہی ہے:
’’اپنے رب کی بخشش و جنت کی طرف دوڑے چلے آؤ (ایسی جنت) کہ جس کا عرض آسمانوں اور زمین سے بڑا ہے۔ یہ پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے‘‘۔(سورئہ آل عمران۱۳۳)۔
جنت کا حصول اور جہنم سے نجات، بلند ہمت انسانوں اور پاکیزہ دلوں کا نکتہء نظر ہوا کرتا ہے۔ یہ آرزو اور اُمید اللہ تعالیٰ کی عنایت و رحمت کے بغیر پوری نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسے افعال، اعمال اور اسباب کی رہنمائی فرمائی جس سے حصول جنت کی راہیں کشادہ ہو جاتی ہیں۔ ایسے ہی افعال اور اسباب درج ذیل ہیں:
1۔خلوصِ نیت: سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمانِ الٰہی سنایا ’’بیشک اللہ تعالیٰ نیکیاں اور بدیاں لکھتا ہے، پھر بندے کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ سو جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن نیکی پر عمل نہ کرے تو پھر بھی اس کے نامہ اعمال میں ایک مکمل نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو شخص ارادے کے ساتھ ساتھ نیکی پر عمل پیرا بھی ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ بلکہ سات سو گنا تک اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے۔ (بخاری۶۴۹۱)۔
سیدنا ابودرداء ؒفرمانِ رسول ﷺ نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے بستر پر آئے اور اس کی نیت تھی کہ وہ رات کو اُٹھ کر نماز پڑھے گا لیکن نیند غالب آگئی۔ تو بھی اللہ تعالیٰ اس کی نیت کا اجر لکھیں گے اور اس کی نیند اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہو گی‘‘۔ (ترغیب و ترہیب)۔
سیدنا عثمان ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص بہترین وضو کرے تو اس کے جسم کے گناہ نکل جاتے ہیں بلکہ ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں‘‘۔ ایک روایت میں فرمایا: ’’جو میری طرح وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور اس کی نماز، مسجد میں چل کر جانا، اس کے لئے اضافی اجر و ثواب بنتا ہے‘‘۔ (گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ مترجم)۔
سیدنا عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص بھی بہترین وضو کرے پھر یہ پڑھے: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہٗ تو ایسے شخص کیلئے جنت کے آٹھوں دروزاے کھل جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو (صحیح مسلم:۲۳۴)
نماز کی فضیلت
1۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تمہارے گھر کے سامنے کوئی نہر بہتی ہو تو تم میں سے کوئی ہر روز پانچ بار اس میں غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی بچے گا‘‘؟ صحابہ کرام y نے عرض کی: نہیں! اس کے بدن پر کوئی میل نہیں ہو گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۵۳۸)۔
2۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو نمازوں کی حفاظت کرے تو پانچوں نمازیں اور جمعہ کے بعد دوسرا جمعہ پڑھناگناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہ نہ کئے جائیں‘‘ (صحیح مسلم:۲۳۳)
3۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے (یعنی فجر اور عصر)۔ (صحیح بخاری:۵۹۴)۔
4۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تک تم اپنے مصلے پر ہواس وقت تک فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ نمازی بے وضو نہ ہو جائے‘‘۔ (صحیح مسلم:۶۳۴)۔
5۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص عشاء کی نماز باجماعت پڑھے تو گویا وہ آدھی رات تک قیام کرتا رہا۔ جو شخص صبح کی نماز باجماعت پڑھتا ہے تو گویا اس نے ساری رات قیام کیا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم۲۵۶)۔
6۔سیدنا براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفوں کے درمیان ایک سے دوسرے کونے تک چلتے اور ہمارے کندھوں، سینوں کو ہاتھ لگا کر سیدھا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ تم باہم اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ہو جائے گا‘‘۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے پہلی صف والوں پر رحمتیں بھیجتے ہیں‘‘ (صحیح ابن حبان)۔
7۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صفوں کو درست کرو، کندھوں کے درمیان برابری کرو، صفوں میں خلل کو بند کرو، اپنے ساتھیوں کیلئے نرمی پیدا کرو اور شیطان کیلئے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو صفوں کو ملاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ملا دیتا ہے، جو توڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دیتا ہے‘‘ (صحیح ابن خزیمہ)۔
8۔پیارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ’’فجر کی دو رکعات (سنتیں) دنیا و ما فیہا سے بہتر ہیں‘‘۔ (صحیح مسلم۷۲۵)۔
9۔پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو اس کو گھر کیلئے نماز کا حصہ رکھنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے گھر کی نماز کے حصے میں بڑی خیر رکھی ہے (صحیح مسلم:۷۷۸) یعنی گھر میں نوافل پڑھنے سے گھر والے بھی نمازی بن جائیں گے اس سے بڑھ کر اور کیا خیروبرکت ہو گی۔ (مترجم)۔
10۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مسلسل چالیس روز تک تکبیر اُولیٰ کے ساتھ نماز پڑھتا رہا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دو آزادیاں لکھ دیتا ہے، ایک جہنم سے آزادی اور دوسری منافقت سے آزادی‘‘۔ (ترغیب و ترھیب:۴۰۴)۔
11۔پیارے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص فجر کی نماز باجماعت ہو کر پڑھتا ہے ، پھر بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتا ہے حتی کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر دو رکعت نفل پڑھتا ہے تو اس کے لئے حج و عمرے کا ثواب مل جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مکمل مکمل یعنی مکمل اجر و ثواب ملے گا‘‘۔ (ترغیب:۴۶۱)۔
12۔فرمانِ رسولِ مقبول ﷺ ہے کہ جو شخص ہر روز بارہ رکعات نفل (یعنی سنتیں) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم:۷۲۸)۔
13۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور ایک درجہ بلند فرماتا ہے۔ سو تم کثرت سے سجدے کرو‘‘۔ (ترغیب:۳۸۹)۔
روزے کی فضیلت
1۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۹۰۱)۔
2۔پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’فرمانِ الٰہی ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے، بے شک روزے میرے لئے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ سو جس دن کوئی روزہ رکھتا ہے تو وہ نہ گالی دے اور نہ ہی شور و شغف کرے۔ اگر کوئی گالی دے یا جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ بے شک میں روزے دار ہوں۔ قسم اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ بہتر ہے۔ روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو وہ بہت خوش ہو گا‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۹۰۴)۔
3۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’رَیَّان‘‘ ہے۔ اس میں سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ پوچھا جائے گا: روزے دار کہاں ہیں؟ تو جواباً روزے دارکھڑے ہو جائیں گے۔ اور جب داخل ہوں گے تو دروازہ بند ہو جائے گا۔ اور اس میں کوئی اور داخل نہ ہو سکے گا‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۸۹۶)۔
4۔سیدنا ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ روزہ گذشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ (صحیح مسلم:۱۱۶۲)
5۔رسول اللہ ﷺ سے یومِ عاشور کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘۔ (صحیح مسلم:۱۱۶۲)۔
6۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر مہینے تین روزے رکھنا، ہمیشہ ساری زندگی روزے رکھنے کے مترادف ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۹۸۹)۔
7۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو بندہ ایک روزہ اللہ کے لئے رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دُور کر دیتا ہے‘‘ـ (صحیح بخاری:۲۸۴۰)۔
جنازے میں شرکت کی فضیلت
1۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ایک دن میں یہ پانچ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں سے لکھ دیتا ہے: (۱) مریض کی عیادت کرنا، (۲) جنازے میں حاضر ہونا، (۳) دن کا روزہ رکھنا، (۴) نماز جمعہ کے لئے جانا، (۵) اور گردن آزاد کرنا‘‘۔ (ترغیب:۶۸۳)۔
2۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے اور (اس کے عیب) چھپائے تو اللہ تعالیٰ غسل دینے والے کے چالیس کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اور جو شخص کسی کے لئے قبر کھودتا ہے تاکہ اسے دفنائے تو گویا وہ اس کو ایک گھر دے رہا ہے قیامت تک‘‘۔ (مستدرک حاکم، صحیح)۔
3۔پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص جنازے میں حاضر ہوتا ہے حتی کہ نمازِ جنازہ پڑھتا ہے تو اس کو ایک قیراط اجر و ثواب ملے گا۔ اور جو تدفین تک موجود رہے تو اس کو دو قیراط ملے گا۔ عرض کیا گیا: دو قیراط کتنے ہوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند‘‘۔
(صحیح بخاری:۹۴۵)۔
صدقات کی فضیلت
1۔پیغمبر آخر الزماںﷺ نے فرمایا: ’’ہر صبح دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ایک دعا کرتا ہے: اے اللہ: خرچ کرنے والے کو مزید بدلہ عنایت فرما۔ اور دوسرا دُعا کرتا ہے: اے اللہ! خرچ نہ کرنے والے کو تباہ و برباد کر دے‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
2۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’صدقہ کرنے سے مال کم نہیںہوتا اور معاف کرنے سے بندے کی عزت بڑھا دی جاتی ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے‘‘۔ (جامع ترمذی:۲۰۲۹)۔
3۔اِرشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور صدقہ کرے (اور اللہ تعالیٰ صرف پاک مال کو ہی قبول کرتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ میں رکھتا اور اس کی نشوونما کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی بچھڑے کی پرورش کرتا ہے۔ حتی کہ وہ کھجور ایک پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۸۴۳۰)۔
4۔سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تشریف لایا اور ایک زین لگی اونٹنی پیش کی، اور عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ یہ اونٹنی اللہ کی راہ میں دے رہا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن تمہارے لئے سات سو اونٹنیاں ہوں گی اور تمام کی تمام زین لگی ہوں گی‘‘۔ (صحیح مسلم:۱۸۹۲)۔

یہ بھی پڑھیں:  گناہوں کو چھوٹا، کم تر مت جانیے