Umro_ki_dil_lagi

عمروکی دل لگی

EjazNews

عمروتھوڑی دورگیا تھا کہ دل میں خیال آیا۔ امیر کے پاس اصلی صورت میں نہیں جاتا۔ اپنی صورت بدل کر جاتا ہوں۔ پتہ چل جائے گا کہ کوئی کھانا بھی ہے کہ نہیں۔ یہ خیال کر کے جیب پر ہاتھ رکھے اور کہا۔ یا دادا آدم میری صورت ایسی ہوجائے کہ قد لمبا اور رنگ کالا ہو۔ کہنے کے ساتھ اسی طرح ہوگیا آئینہ میں اپنی صورت دیکھی تو اپنے آپ سے ڈرگیا۔ سوچنے لگا اگرمیں ایسی ہی رہ جائیں تو پھر کیا کروں گا۔ یہ سوچتے ہی دونوں ہاتھ جیب پر رکھے اور کہا میں جیسا تھا ویسا ہی ہو جاو¿ں“۔ اسی وقت اپنی اصل صورت پرلوٹ آیا جب آئینہ میں اپنی اصلی صورت دیکھی تو اسے یقین آگیا کہ واقعی میں نوازا گیا ہوں۔ پھر دونوں ہاتھ جیب پررکھ کے لمبے قد اور کالے رنگ کا ہوا۔ خنجر ہاتھ میں لئے گاتا بجاتا ہوا لشکر کی طرف چل پڑا۔
جب لشکر پہنچا تواسی طرح گاتے بجاتے گزرا۔ جس نے بھی اس کی آوازسنی تو اپنے سب کام چھوڑ کر اس کے ساتھ چلنے لگے۔ اب عمرو کے پیچھے تماشائیوں کی بھیڑ تھی وہ سب اس کا گانا اور ساز سن رہے تھے اور اپنے آپ کو بھولے ہوئے تھے اسی طرح جاتے ہوئے امیر کے خیمے کے سامنے جا کر کھڑے ہوکر گانے بجانے لگا۔ امیر نے سنا تو پوچھا کیا ہے۔ لوگوں نے امیر سے جا کر کہا کہ ایک ہندوستانی لمبا کالا دروازے پر کھڑا ہے۔ ساز بجا کر ایسا گاتا ہے کہ ایسا گانا بھی کسی نہ سنا ہوگا۔ امیر نے کہا۔ اسے اندربلالاﺅ۔ وہ جس وقت امیر کے سامنے آیا تو دعا دے کر گانے لگا۔ امیر اور سارے سردار اس کا گانا سن کر بہت خوش ہوئے اور انہیں بہت مزہ آیا۔ امیر نے کہا۔ تم کہاں کے رہنے والے ہواورتمہارا نام کیا ہے۔ کہنے لگا۔ میرا نام محبوب سیا? تن ہے اور میں اسی ملک کا رہنے والا ہوں۔ ہندوستان کا بادشاہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ وہ بھی میراگانا سنتا ہے اورمجھے نوازتا رہتا ہے۔ امیر نے کہا ہم بھی تم سے خوش ہیں جو کچھ مانگو گے میں دوں گا۔ کہنے لگا میرے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے لیکن میری تمنا ہے کہ کوئی مجھے اتنا دے کہ میں اسے اٹھا سکوں۔ سب نے مجھے بہت دیا ہے مگر کسی نے اتنا نہیں دیا کہ جتنا میں اٹھا سکوں۔ امیرنے حکم دیا کہ اسے خزانے میں لے جاو¿ جتنا یہ اٹھا سکتا ہے اٹھالے۔ وہ امیر کو دعائیں دیتا چلا گیا۔ سلطان بخت مغربی جس کے پاس خزانے کی چابی تھی اسے خزانے میں لے گیا۔
لوگ جمع ہو کر تماشا دیکھنے لگے کہ کتنا اٹھاتا ہے۔ اس نے جوصندوقوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ لوگ حیران ہوئے کہ ایک صندوق ایک گاڑی میں مشکل سے پڑھتا ہے یہ اس صندوق کو کیسے اٹھائے گا۔ لوگوں نے اس سے وعدہ لیا کہ آپ خود اٹھاکر لے جائیں گے کوئی سواری لائے تو آپ کونہیں دیا جائے گا۔ عمرو نے وعدہ کیا اور سارے کے سارے صندوق باہر لے آیا۔ سب کو ایک جگہ باندھا اور اٹھا کر چل پڑا۔ یہ دیکھ کر سب حیران ہوئے اور کہنے لگے یہ آدمی نہیں ہے۔ کوئی جن بھوت ہے جو خزانے کو لے جارہا ہے۔ اپنے ملک میں سنا کرتے تھے کہ ہندوستان میں بہت عجیب چیزیں ہیں، یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ یہ سوچ آتے ہی اس کو روکا اورامیر کو جا کرخبرکی کہ وہ تو سارا خزانہ لئے جارہا ہے۔ امیرنے جیسے ہی یہ سنا توان کو خیال آیا کہ یہ ضرورعمرو ہے۔ وہ قدم گاہ پر گیا تھا، وہاں سے نوازا گیا ہے۔ امیر فورا خزانہ میں گئے دیکھا تو عمرو پریشان کھڑا ہے۔ دوڑ کر گلے لگا لیا اور کہا۔ ”بھائی عمرو ہم نے تم کو پہچان لیا ہے۔ عمرو نے جب دیکھا کہ انہوں نے پہچان لیا ہے تو مجبور ہو کر قدموں پرگرگیا اور کہا بھائی مجھے آدم نے نوازا ہے۔ آپ کو بھی بلایا ہے۔ آپ کی زیارت کرنے چلئے اور جو کچھ وہاں سے ملے اسے قبول ہے۔ امیر نے کہا۔ آج نہیں کل چلیں گے۔ اس دن امیر نے آرام کیا۔ دوسرے دن صبح اٹھ کر عمرو کو ساتھ لیا اور دوسرے سرداروں کو ساتھ لے کر پہاڑ کی طرف چل پڑے۔
پہاڑ کے دامن میں پہنچے تو سواریوں سے اتر کر پیدل چلتے ہوئے چلے۔ سبز? خوب ل?ل?ا رہا تھا۔ پھر ایک میدان آیا کہ خوشبو سے بنا ہوا تھا۔ ایک طرف ایک مکان دیکھا کہ ورزش کرنے کا سب سامان رکھا ہے اورآدمی چوکیداری کر رہے ہیں۔ امیر نے ان آدمیوں سے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے۔ انہوں نے کہا لندصوربن سعدان یہاں آکر ورزش کرتے ہیں امیر نے عمرو سے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی زورآزمائی کروں اور دیکھوں کہ ورزش میں برابر ہوں کہ نہیں۔ یہ کہہ کر ہر قسم کے سامان کو پکڑکراورگھما کر دیکھا اورہرچیز کو اٹھا کر دیکھا ہرچیزکواٹھااور گھمایا مگرایک ہزارسات من کا گزنہ اٹھا سکے۔ امیر کویہ دیکھ کر بے چینی ہوئی۔ وہاں سے نکل کر سام کے مکان پر گئے۔ وہ اٹھ کر گلے ملے۔ پھر کہا کہ پہلے یہ کام کریں کہ زمین ایک گزناپ کر کھودیں جو اس سے نکلے وہ تمہارا ہے امیر نے کدال لے کر کھودنا شروع کیا تھوڑی زمین کھودی تھی کہ یاقوت ایسا نکلا کہ انگارے کی طرح چمکتااورروشن تھا۔ ایسا یاقوت کسی نے تمام عمر نہ دیکھا ہو گا۔ امیراس یاقوت کو لے کر سام کے پاس گئے اور دکھایا۔ اس بزرگ نے کہا یہ آپ کا مال ہے اس کو لے لیں اورجا کرزیارت کریں۔ جب تک وہاں سے نوازے نہ جائیں گے ہندوستان کے بادشاہ سے جیت نہ سکیں گے۔ ان سے رخصت ہوکر قدم گاہ کی طرف آئے وہاں جا کر زیارت کی اورعبادت کرنے لگے۔
عبادت کرتے ہوئے سوگئے۔ دیکھا کہ آدم آئے ہیں انہوں نے بازو بند دیئے اورکہا کہ ان کو دونوں بازوو¿ں پر باندھ کر رکھنا۔ ان کی برکت سے لڑائی کے وقت تمہارے بازوٹیڑھے نہ ہوں گے۔ تمہارا وار بھی خالی نہ جائے گا۔ برائی سے بچنا اورنیکی کے کام کرنااوربھی نبی آئے اورانہوں نے امیر کونوازا۔ جب امیر کی آنکھ کھلی تو بازوبند رکھے ہوئے تھے۔ خدا کا شکرادا کیا اورسام کے مکان پر آئے۔ انہوں نے کہا میں تمہارا انتظار کر رہا تھا اب رخصت ہوتا ہوں۔ آپ مجھے اپنے ہاتھ سے دفن کیجئے گا۔ یہ کہہ کروہ مرگئے امیر نے اپنے ہاتھ سے ان کوغسل دیا اور قبر میں دفن کیا۔ وہاں سے لندھورکے ورزش والے مکان میں آئے۔ گرزاٹھایا تو وہ گرز اٹھالیا۔ بہت خوش ہوئے وہاں سے اپنے لشکر واپس آئے۔ رات جشن میں گزری۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی استاد کے ساتھ شرارتیں(۱)