women_skin

اپنی جلد کی حفاظت کیجئے سخت موسموں سے

EjazNews

جلد پر موسم کے مضر اور مفید دونوں ہی اثرات ضرور مرتّب ہوتے ہیں۔ مثلاً موسم گرما میں جلد کی رنگت کالی پڑجاتی ہے، اس کے برعکس سرما میں سورج کی شعائوں میں حدت کم ہونے کے سبب جلد صاف اور چمک دار دکھائی دیتی ہے۔ پھر ہر موسم کے اپنے جلدی امراض ہیں۔ سرما میں جلد کی خشکی، کئی جلدی عوارض کی وجہ بن جاتی ہے۔مثلاً ایگزیما، سورائیسز، برص اور کولڈ سور(Cold Sore)وغیرہ، جبکہ گرمیوں میں پسینہ خارج ہونے کے باعث بیکٹرئیل اور وائرل انفیکشنز اور گرمی دانے وغیرہ عام ہیں۔
دنیا بھر،خصوصاً مغربی ممالک میں کیل مہاسے، تل، سورائیسز، ایگزیما، سن برن(سورج کی شعائوں سے جلد کا جھلس جانا)،برص اور جلدی سرطان، جبکہ کراچی سمیت پاکستان بھر میں اسکیبیز(خارش کا مرض)، جھائیاں، بیکٹرئیل اور وائرل انفیکشنز، کیل، مہاسے، ایگزیما، سورائیسز، برص اور جلد کی خشکی (خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں) عام امراض ہیں، جہاں تک وجوہ کی بات ہے، تو برص آٹوامیون سسٹم میں گڑبڑ کے سبب لاحق ہوتا ہے۔ اسے کبھی لاعلاج مرض تصوّر کیا جاتا تھا، مگر اب جدید طریقۂ علاج کی بدولت یہ قابلِ علاج ہے ۔

بال گرنے کا تعلق موسموں سے نہیں، بلکہ مختلف عوامل مثلاًآئرن ،منرلز کی کمی، ہارمونز میں گڑ بڑ، سورج کی روشنی میں دیر تک رہنا، متوازن غذا استعمال نہ کرنا، زیادہ پانی نہ پینا، خراب پانی اور ذہنی دبائو وغیرہ بالوں کی نشوونما متاثر کرنے کی وجہ بن سکتے ہیں۔
تمام جلدی امراض ایک سے دوسرے کو نہیں لگتے۔ تاہم، بعض عوارض مثلاً خارش، اسکیبیز، فنگس وغیرہ متعدی ہیں، جو بہت جلد دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں لوئر کلاس میں متعدی، جبکہ اَپر میں غیر متعدی عوارض عام ہیں، جس کی بنیادی وجہ ماحول ہے۔

کیل مہاسوں کا ہونا ایک عام مرض ہے، جو زیادہ تر جوانی میں متاثر کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بلوغت کی عُمر میں ہارمونز میں تبدیلی ہے۔ جھائیاں خواتین میں دورانِ حمل، زچگی کے بعد، نومولود کو دودھ پلانے کے عرصے میں، ایام کی بے قاعدگی، مانع حمل اور بعض مخصوص ادویہ کے سبب اور مَردوں میں زیادہ تر معدے کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ سورج کی براہِ راست شعائوں سے دُور رہا جائے اور ان کا علاج لیزر تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کیل مہاسوں سے بچائو کے لیے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔ گرمی ہو یا سرد موسم پانی زیادہ سے زیادہ پئیں اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔
مینو پاز میں تو بڑھتی عُمر کے تمام اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جب کہ ایام کی بےقاعدگی میں جھائیاں پڑ جاتی ہیں۔ ان کے مضر اثرات سے بچائو کے لیے موسمی پھل، متوازن غذا اور پانی کا زائد استعمال مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خوبصورت پیروں اور سڈول پنڈلیوں کیلئے جوتے، موزے اور ورزش کی اہمیت

پاکستان میں جلد کا سرطان عام نہیں ہے، کیونکہ یہاں سورج کی شعائیں اس قدر خطرناک نہیں ہوتیں، جو اسکن ٹیومر کی وجہ بن سکیں۔ اس مرض کی عام علامات میں، ابتدا میں چہرے، منہ یا ہاتھ پر چھوٹے دانے بنتے ہیں، جو بعد ازاں بڑے ہو کر زخموں میں بدل جاتے ہیں۔ یہ دانے عام دانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی چھونے میں سخت محسوس ہوتے ہیں، جبکہ کونے بھی چمک دار ہوتے ہیں اور ان سے خون رسنے لگتا ہے، ساتھ ہی انفیکشن بھی ہو جاتا ہے۔ مرض کی تشخیص کے لیے بائیوآپسی کی جاتی ہے، جب کہ علاج ریڈیو تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ جلد کے سرطان کے بہت کم کیسز جان لیوا ثابت ہوتے ہیں اور مرض کی بروقت تشخیص کی صورت میں علاج کی کامیابی کا تناسب مزید بڑھ جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ بڑھتی عُمر کے اثرات جھریوں کی صورت ظاہر ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہے۔کوئی بھی فرد چاہے خاتون ہو یا مَرد40سال کی عُمر میں،خصوصاً چہرےکی حفاظت اور تازگی برقرار رکھنے کے لیے سب سے پہلے تو کوشش کرے کہ دیر تک سورج کی تیز شعاؤں میں نہ رہے۔ ویسے سورج کی روشنی مفید ہے کہ اس سے قدرتی طور پر وٹامن ڈی حاصل ہوتا ہے، لیکن زیادہ تیز دھوپ نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ خواتین میک اپ صرف ضرورت کی حد تک کریں اور ہمیشہ معیاری کاسمیٹکس استعمال کی جائیں۔کلینزنگ روزانہ کریں اور چہل قدمی کو بھی معمول کا حصّہ بنا لیں۔
بوٹاکس اصل میں Botulinum Toxinکا انجیکشن ہے، جو مسلز یا پٹھوں کو وقتی طور پر ایک طرح سے پیرالائز کر دیتا ہے۔ نتیجتاً عارضی طور پر جلد سےجھریاں اور شکنیں غائب ہو جاتی ہیں۔ اس طریقۂ علاج کی مدّت چھ ماہ سے سال بھر ہے۔ رہی بات مضر اثرات کی، تو وہ صرف یہ ہے کہ انجیکشن کا اثر زائل ہوتے ہی دوبارہ جھریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  معاشرے کا بنیادی ستون خاندان ہے

ہر طرح کے میک اپ کلرکاسمیٹک ہوتے ہیںاور چہرہ دھونے کے بعد بھی اس کے چھوٹے چھوٹے ذرّات باقی رہ جاتے ہیں، پھر یہی ذرات دھوپ میں نکلنے کے بعد ری ایکشن کا باعث بن جاتے ہیں، لہٰذا میک اپ سے قبل بیرئیر سن بلاک استعمال کیا جائے۔ بیریئر سن بلاک میں کسی قسم کا کیمیکل نہیں پایا جاتا اور یہ صرف زنک آکسائیڈ اور ٹائٹینیم ڈی آکسائیڈ کا مرکب ہے۔ چونکہ اس میں کیمیائی اجزاء شامل نہیں ہوتے، اس لیے یہ ہمارے مُلک میں ہر طرح کی جلد والے افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر میک اپ زدہ چہرہ دھونے سے قبل کلینزنگ ضرور کریں اور اُس کے بعد منہ کسی معیاری فیس واش سے دھوئیں۔
میرا مشورہ تو یہ ہے کہ کوئی دیسی ٹوٹکا بغیر سوچے سمجھے ہرگز نہ آزمائیں۔ اور صرف ٹوٹکا ہی نہیں، کوئی دوا بھی کسی معالج کے مشورے کے بغیر قطعاً استعمال نہ کریں۔ بہت زیادہ فیشل کروانے سے جلد کی قدرتی ٹون خراب ہوجاتی ہے۔ البتہ کبھی کبھار کروانے میں کوئی حرج نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اب اپنا فیشئل آپ کرلیں

فارمولا کریمز جلد کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہیں، کیونکہ ان میں ایک ایسی کریم شامل کی جاتی ہے، جس سے ابتدا میں تو جلد کس جاتی ہے، مگر بعد میں ڈھیلی پڑ جاتی ہے بلکہ پتلی ہو کر باریک رگیں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ بعض اوقات چہرے پر غیر ضروری بال بھی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں، لہٰذا ان کریمز کا ہرگز استعمال نہ کریں۔ رہی بات انجیکشن کی، تو یہ اصل میں سرطان کے مرض کے لیے متعارف کروایا گیا تھا اور جس مریض کو لگا، اُس کا مرض تو کنٹرول نہ ہو سکا، البتہ رنگت سفید ہو گئی۔ جس کے بعد اس انجیکشن کو اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ چونکہ یہ انجیکشن رنگت گوری کرنے کے لیے ہے ہی نہیں، اس لیے یہ گُردوں کی خرابی اور دیگر ری ایکشنز وغیرہ کی وجہ بن جاتا ہے۔

اگر کسی جلدی مسئلے کا شکار ہوجائیں، تو اتائیوں کے پاس جانے اور اِدھر اُدھر کے مشوروں پر عمل سے گریز کریں۔ اور صرف ماہرامراضِ جلد ہی سے رجوع کریں۔ متوازن غذا کے ساتھ پھلوں، سبزیوں اور زائد پانی کا استعمال کریں۔ خوش رہیں اور منفی طرزِ عمل سے بھی دور رہیں کہ منفی خیالات بھی چہرے کی جلد پر اثر اندا ہوتے ہیں۔