Islam_haq

اجروثواب کے دروازے

EjazNews

زیر نظر مضمون میں اجر اور گناہوں کو مٹانے کے چند اہم ترین طریقے درج ہیں ہر وہ مسلمان جو ایک اللہ کی عبادت کرنے والا ہواور شرک نہ کرتا ہوتووہ ان طریقوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ زیر نظر تمام احادیث رسولﷺ صحیح ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔
(۱)توبہ:’’جو شخص توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک اسکی توبہ کو قبول فرماتا ہے جب تک مغرب سے سورج طلوع نہ ہو‘‘ (یعنی قیامت تک توبہ کے دروازے کھلے ہیں) (مسلم ۲۷۰۳)۔
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں ’’اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے۔ جب اس بندے کاغرغرہ نہ بجنے لگے‘‘ (یعنی موت کے آخری لمحات تک )۔
(۲)طلبِ علم کے لئے نکلنا: ’’جوشخص علم کے لئے کسی راہ پر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کاراستہ آسان فرمادیتا ہے‘‘۔(مسلم :۲۶۹۹) ۔
(۳)ذکر الٰہی:کیامیں تمہیں بہترین عمل کی خبر نہ دوں۔جو تمہارے مالک کو زیادہ پسند ہو۔اور تمہارے درجات کو زیادہ بلند کرے۔بلکہ سونے چاندی کو خرچ کرنے اور دشمن سے قتال کرنے سے بھی بہتر ہو۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کی ۔کیوں نہیں اے اللہ کے رسولﷺ ہمیں ضرور خبر دیجئے ۔آپ نے فرمایا ’’ذکر الٰہی‘‘۔ (جامع ترمذی:۳۳۴۷)۔
(۴) نیک کام کی راہ نمائی کرنا:’’ہرنیک کام صدقہ ہے اور نیک کام کی راہنمائی کرنا تو عمل کرنے کے مترادف ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۰/۷۴)۔
(۵)اللہ کی طرف دعوت دینا: ’’جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے ۔تو اس کو اتنا اجر ملے گا جتنا اسکے پیروکاروں کو ملے گا۔اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہ آئی گی۔(مسلم :۲۶۷۴)۔
(۶)نیکی کاحکم ، برائی سے روکنا: ’’جو شخص برائی کو دیکھے تو ا س کو اپنے ہاتھ سے تبدیل کرئے ۔اگر طاقت نہ ہوتواپنی زبان سے اس کو برا کہے۔اگر طاقت نہ ہوتو پھر دل سے برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان کی نشانی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم :۴۹)۔
(۷)قرآن کی تلاوت کرنا: ’’ قرآن کو پڑھا کرو ۔بے شک یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا‘‘۔(مسلم :۴۹)۔
(۸)قرآ ن کو سیکھنا اور سکھانا: ’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کوسیکھتا اور سکھاتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۹/۶۶)۔
(۹)سلام کرنا: ’’تم جنت میں نہیں جاسکتے جب تک تم ایمان نہ لاؤ۔اور اس وقت تک تمہارا ایمان نہیں جب تک تم باہم محبت نہ کرنے لگو۔اور تمہیں باہم محبت کروانے والی چیز کی خبر نہ دوں۔تم سلام کو پھیلاؤ‘‘۔ (تمہاری محبت بڑھ جائے گی) (صحیح مسلم:۲۵۶۶)۔
(۱۰)مریض سے ملاقات کرنا:’’جو مسلمان صبح کے وقت کسی مسلمان مریض کی عیادت کرے تو اس پر ۷۰ ہزار فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں یہاں تک کہ شام ہوجائے۔اور اگر شام کے وقت عیادت کرے تو صبح تک ۷۰ ہزار فرشتے دعائیں کرتے ہیں ۔اور عیادت کرنے والے کے لئے جنت میں باغ بھی ہوگا‘‘۔ (جامع ترمذی:۹۶۹)۔
(۱۱)اللہ کے لئے محبت کرنا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا۔’’میرے لئے محبت کرنے والے کہاں ہیں ؟آج میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا ۔کیوں کہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔ (صحیح مسلم :۲۵۶۶)۔
(۱۲)دین کے کاموں میں مدد کرنا:’’جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا‘‘۔ (صحیح مسلم :۲۶۹۹)۔
(۱۳)عیبوں پر پردہ ڈالنا:’’جو بندہ کسی پر پردہ ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن (اسکے گناہوں )پر پردہ ڈالیں گے ‘‘۔ (صحیح مسلم :۲۵۹۰)۔
(۱۴)صلہ رحمی کرنا:رحم نے اللہ تعالیٰ کے عرش سے لٹک کردعا مانگی ہے ’’اے اللہ جو شخص مجھے ملائے تو اسے ملا اور جو مجھے توڑے تو اسے توڑ دے۔(رحم سے مراد رشتے ناطے ہیں) (صحیح مسلم :۲۵۵۵)۔
(۱۵)اچھااخلاق: ’’رسول اللہﷺ سے سوال کیاگیا کہ جنت میں زیادہ کون سی چیز لے جانے والی ہے آپ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اچھا اخلاق قائم کرنا‘‘۔ (صحیح مسلم :۲۶۰۷)۔
(۱۶)سچ بولنا: ’’سچ کولازم پکڑو۔بے شک سچ نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جانے والی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم :۲۶۰۷)۔
(۱۷)غصہ کو پی جانا:’’جوشخص اپنے غصے کو دبائے اور وہ غصے کو نافذ کرنے پرقادر تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکو تمام عالم کے سامنے بلائے گا۔اور اس کو موٹی آنکھوں والی حور کو پسند کرنے کا اختیار دیاجائے گا‘‘۔ (جامع ترمذی:۲۰۲۲)۔
(۱۸)مجلس کاکفارہ ادا کرنا: ’’جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور بہت زیادہ اس مجلس میں بے کار باتیں ہوں۔تو مجلس کے اختتام سے قبل یہ دعاپڑھے تو یہ مجلس میں کی گئی باتوں کاکفارہ بن جائے گا۔’’سبحان اللھم و بحمدک اشھد ان لاالہ الا انت استغفرک و اتوب الیک‘‘۔ (جامع ترمذی:۳/۱۵۳)۔
(۱۹)صبر کرنا: ’’کسی مسلمان کو ، کوئی غم،پریشانی، دکھ، چوٹ لگے یاکوئی کانٹا بھی چبھے تو اسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس مسلمان کے گناہوں کو مٹا دیتاہے‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۰/۹۱)۔
(۲۰)والدین کی نافرمانی کرنا: ’’وہ شخص برباد ہوگیا ، برباد ہوگیا۔جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو یاماں باپ میں سے کسی ایک کوپایا ۔پھر (انکی خدمت کرے)جنت میں داخل نہ ہوا‘‘۔ (صحیح مسلم:۲۵۵۱)۔
(۲۱)بیواؤں ، مساکین کی خدمت کرنا: بیواؤں، مساکین کی خدمت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا شخص مجاھد فی سبیل اللہ ہے۔ اور اس کو ہمیشہ روزہ رکھنے اور ہمیشہ قیام کرنے کاثواب ملے گا‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۰/۳۶۶)۔
(۲۲) یتیم کی کفالت کرنا: ’’رسول اللہﷺ نے شہادت اور درمیانی انگلی کو بلند کرکے فرمایا ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے‘‘۔ (صحیح بخاری:۱۰/۳۶۵)۔
(۲۳)وضو کرنا:’’جوشخص وضو کرے ۔اور اچھا وضو کرے ۔اسکے تمام گناہ ، اسکے جسم سے نکل جاتے ہیں ۔حتی کہ اسکے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں‘‘۔ (صحیح مسلم :۲۴۵)۔
(۲۴)وضو کے بعد دعا کرنا: جو شخص اچھاوضو کرے اور درج ذیل دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسکے لئے جنت کے تمام دروازوں کو کھول دیتا ہے کہ جس سے چاہے داخل ہوجائے’’اشھد ان لا الہ الا اﷲ و اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین۔ (صحیح مسلم :۲۳۴)۔
(۲۵) مساجد کی تعمیر: ’’جوشخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکے لئے جنت میں اسکی مانند گھر بنائے گا‘‘۔ (صحیح بخاری :۴۵۰)۔
(۲۶)مساجد کی طرف جانا:’’جو شخص مساجد کی طرف صبح یا شام جائے تو اللہ تعالیٰ اسکے لئے جنت میں میزبانی تیار کرے گا‘‘۔ (صحیح مسلم :۶۶۹)۔
(۲۷)جمعہ کی نمازپڑھنا: ’’جوشخص اچھاوضو کرے۔پھر جمعہ کے لئے آئے ، خاموش رہااور کان لگا کر جمعہ سنا تو اگلے جمعہ تک اور تین دن مزید (۱۰ دن)تک اسکے گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔ (صحیح مسلم :۸۵۷)۔
(۲۸)قبولیت کی گھڑی:’’جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ کوئی بھی مسلمان حالتِ نماز میں اللہ تعالیٰ سے اس وقت دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اسکی دعا کو قبول فرماتا ہے‘‘۔ (مسلم:۸۵۲)۔
(۲۹)زبان کی حفاظت کرنا:’’ جوشخص مجھے زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘۔ (صحیح مسلم:۹۴۵)۔
(۳۰)بیٹیوں کی پرورش کرنا: ’’جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں ۔وہ ان کی اچھی پرورش کرے۔ ان پر رحم کرے ۔تو ایسے شخص پر قطعی طور پر جنت واجب ہے‘‘۔ (مسند احمد بسند جید)۔
حیوانات سے اچھا سلوک کرنا: ’’ایک شخص نے ایک پیاسا کتا دیکھا ۔کہ وہ شدید پیاس سے زمین چاٹ رہاتھا ۔آدمی نے اپنے موزے اتار کر اس میں پانی بھر کرکتے کو پلایا۔کتے نے اللہ کاشکر ادا کیا۔تو ایسے شخص کو اللہ نے جنت میں داخل کردیا‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
(۳۱) عورتوں کے لئے حکم نبوی: ’’کوئی عورت پانچ وقت نما زپڑھے ۔رمضان کے روزے رکھے ۔اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے۔ اپنے شوہر کی اطاعت کرے ۔تو وہ جنت کے کسی بھی دروازے سے داخل ہونا چاہے تو داخل ہوجائے‘‘۔ (ابن حبان صحیح )۔
(۳۲) دستِ سوال دراز نہ کرنا’’جوشخص مجھے ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے مانگے گا نہیں تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں‘‘۔ (سنن ترمذی،نسائی صحیح)۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی نقطہ نظر سے بیع سلم کا بیان