عمرو کا چہلم

EjazNews

امیر کے جہاز بھنور سے نکل کر سراندیپ پہنچے تو امیر نے خدا کی راہ میں بہت خیرات کی ۔ امیر نے کہا اس جگہ ہم دو مہینے رکیں گے۔ عمرو میں بہت پیار کرتا تھا اس کی جان اپنی جان کے برابر سمجھتا تھا مگر کیا کروں کہ اس کی عمر پوری ہوگئی اور وہ ہمارا ساتھ چھوڑ گیا۔ اس کی قسمت میں اسی طرح لکھا تھا اور ہم سب کو اس کاغم دیکھنا لکھا تھا۔ اب اس جگہ اس کا چہلم کر کے ہم آگے جائیں گے۔ یہ کہہ کر امیرنے عمرو کے غم میں سوگوار ہوئے لشکر کے تمام سرداروں نے بھی عمرہ کا غم منایا ۔ اس کی با تیں، اس کی شرارتیں آنکھوں کے سامنے پھرنے لگیں اور سب ہی اس کاغم کرنے لگے۔ آخر چالیسیواں دن آ گیا۔ اس دن کھانا کھایا گیا۔ شہر کے غریبوں اور فقیروں کو پتہ چلا تو سب کھانے آگئے۔اسی وقت عمرو اس جگہ پہنچا۔ اس نے اپنا حلیہ بدلا اور لوگوں سے پوچھا سردارکس کا غم منا رہے ہیں۔ تو اسے بتایا گیا کہ عمرو دریا میں مرگیا ہے۔ آج اس کا چہلم ہے۔ یہ کھانا اس کی فاتحہ ہے اور لوگ اس کے غم میں نڈھا ہوئے ہیں۔ عمرو نے اپنے دل میں کہا میں تو زندہ ہوں اور انہوں نے مجھے مار ڈالا اور آج چہلم بھی کررہے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ عادی پہلوان کھانا پکوار ہا ہے اور فقیروں کو کھانا دے رہا ہے۔ سب عمرو کے چہلم کا کھانا بھاگ بھاگ کر دے بھی رہے تھے اور کھا بھی رہے تھے۔ عمرو نے بھی دن فقیروں میں بیٹھ کر کاٹا۔ رات ہوئی تو سب اپنے اپنے خیموں میں جا کر سورہے۔ عمرو نے چادر اوڑھی۔ سب سے پہلے عادی کے خیمے میں گیا۔ دیکھا تو روشنی ہورہی ہے اور عادی سورہا تھا۔ عمرواس کی چھاتی پر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے گلے کو دبانے لگا۔ گلا دبنے سے عادی کی آنکھ کھل گئی۔ گھبرا کر چاروں طرف دیکھا کوئی نظر نہ آیا مگر چھاتی پر بوجھ سا معلوم ہوا۔ تب تو عادی بہت گھبرا گیا اور دعائیں پڑھنے لگا۔ عمرو نے کہا۔ دعائیں پڑھنے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں، میرے ساتھ چلو۔
عادی نے کہا۔ ”کہاں چلوں۔ عمرو نے کہا ایک شخص عمرو نام کا مرا ہے۔ آج اس کا چالیسواں تھا تو اس کو جنت میں داخل ہونے کا علم ہوا تو وہ جنت کے دروازے پراڑ کر بیٹھ گیا کہ جب تک عادی یہاں نہیں آئے گا میں اندر نہیں جاو¿ں گا۔
خدانے مجھے تیری روح لینے کو بھیجا ہے اب میں تجھے لے کر جاو¿ں گا“۔ یہ سن کر عادی بہت پریشان ہوا اور کہنے لگا۔ مجھے عمرو سے بالکل محبت نہیں تھی بلکہ میں تو اس کا دشمن تھا۔ بہت اچھا ہوا کہ وہ مرگیا۔ مجھے اس سے کیا کام ہے۔ جنت میں نہیں جاتا تونہ جائے۔ دوزخ میں چلا جائے۔ آپ مجھے چھوڑ دیں، مجھ پررحم کریں“عمرو نے کہا۔
یہ کیسے ہوگا۔ میں تو تم کو لینے آیا ہوں۔ بغیر لئے کیسے چلا جاو¿ں۔ ہاں ایک صورت ہوسکتی ہے اگر کچھ دے دو تو وہ جا کر اسے دے دوں شاید مان جائے اور تمہیں نہ بلائے۔ اس طرح میں تمہیں چھوڑ دوں گا“۔ عادی نے کہا۔ ”وہ سامنے کرسی پر اشرفیوں کا صندوق رکھاہے لے جایئے اور کہے گا کہ عادی بیمارہے آنہیں سکتا۔ اچھا ہوکہ وہ خودا ٓجائے گا“ عمرو نے کہا جاتا ہوں۔ اگر اس نے قبول کیا تو تم بچ گئے۔ یہ کہہ کرکودکر نیچے اترا اور صندوق لے کر چلا گیا۔
خوف کی وجہ سے ساری رات عادی کو نیند نہ آئی اور بخار ہوگیا۔ ساری رات اسے دھڑکا لگارہا کہ کہیں موت کا فرشتہ پھر لینے نہ آجائے۔ صبح ہوئی تو عادی کانپتا ہوا امیر کے پاس گیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ اس وقت اور سردار بھی امیر کے پاس بیٹھے تھے۔ امیر نے عادی کی طرف دیکھا تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کا رنگ پیلا ہورہا ہے اور بہت ڈرا ہوا لگ رہا ہے۔ امیر نے پوچھا۔ ”اے عادی!تمہارا یہ کیا حال ہورہا ہے، خیریت تو ہے۔ عادی نے کہا۔ ” کیا بتاو¿ں امیر ، رات بہت بری گزری اور رات کی ساری بات امیر کو بتادی۔ امیر یہ سب سن کر حیران ہوئے اور ساتھیوں سے کہا۔ ”خدا خیر کرے عادی پہلوان پر جنوں کا اثر معلوم ہوتا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ موت کا فرشتہ آئے اور اشرفیوں کا صندوق لے کر چلا جائے ،سب نے کہا ”ہاں ایسا تو ہوہی نہیں سکتا۔ عادی ڈر پوک ہے اور اسی وجہ سے اس کو ایسا خیال آیا ہے۔ جب عادی نے دیکھا کہ میرا مذاق اڑرہا ہے تو کھسیانہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔
دوسرے دن عمرو سلطان بخت مغربی کے خیمے میں جا پہنچا اور اس کو بھی موت کے فرشتے کے نام سے ڈرایا۔ اس نے یہ آکر امیر کو بتایاتو امیر کو بہت فکر ہوئی اور کہا کہ اس جگہ کی ہوا میں اثر ہے۔ یہاں سے جلدی چلے جانا چاہئے ورنہ سب پاگل ہوجائیں گے۔ اب ہر رات عمرو کسی نا کسی سردار کے خیمے میں جا کر اسے ڈراتا اور اس سے موت کے فرشتے عزرائل کے نام سے روپے لیتا۔ اس طرح وہ خوب کمائی کررہا تھا اور سب کو فکر ہورہی تھی۔ ایک رات وہ امیر کے خیمے میں جا پہنچا تب امیر نے سمجھا کہ یہ وہم نہیں ہے بلکہ لوگ یہ کہتے ہیں۔ امیر عقلمند تھے انہوں نے سوچا کہ ایک تو آواز آتی ہے دوسرے سینے پر بوجھ معلوم ہوتا ہے مگر صورت نظر نہیں آتی تو کوئی جن معلوم ہوتا ہے۔ اس کو پکڑنا چاہئے۔ پکڑا گیا تو بتائے گا کہ کیا ماجرا ہے۔ امیر نے ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ ایک مکا ماریں۔ تو عمرو نے کہا۔ ”اوعرب !سمجھ کر مارنا، ایسا نہ ہو کہ مجھے چوٹ لگے۔ بات کرنے کا انداز بالکل عمروکا تھا اور آواز بھی عمرو کی تھی۔ امیر نے سمجھا کہ وہاں مینار پرعمرو مرگیا۔ اس کی روح کسی کے جسم میں گھس گئی ہے اور وہی آئی ہے۔
عمر کو یاد کر کے امیر رونے لگے ۔زار زار روتے ہوئے عمرو کو یاد کرنے لگے۔ امیر کوروتے دیکھا تو عمر کورحم آ گیا کہنے لگا امیر مت روئیں۔ خدا نے مجھے بچایا اورحضرت خضرؑ کی وجہ سے میں زندہ ہوں۔ امیر نے یہ سن کر اسے چھوڑ دیا۔ عمرونے چادر اتاری تو امیر کو نظر آنے لگا۔ عمرو نے امیر کے قدم چومے اور امیر نے اسے گلے سے لگالیا۔ عمرو کو دیکھ کر امیر بہت خوش ہوئے۔ اس وقت سب سرداروں کوخبر ہوئی کہ عمرو بچ کر آ گیا ہے۔ سب امیر کے خیمے میں جمع ہوئے۔ عمرو سے ملاقات کی اور عمرو کے آنے پر خدا کا شکر ادا کیا اور مٹھائی بانٹی۔ اگلے دن عمرو کے آنے کی وجہ سے لشکر میں جشن رہا۔ دوسرے دن لشکر یہاں سے سراندیپ پہاڑ کی طرف چل پڑا۔ پہاڑ کے دامن میں جا کر لشکر اتر گیا۔ تمام ہندوستان میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایران کے بادشاہ نوشیرواں کا دامادحمزہ ہندوستان کے بادشاہ سے لڑنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی استاد سے شرارتیں (۳)