ibrahim-hyderi-fish-harbour

ماہی گیر عورتوں کے مسائل

EjazNews

ایک زمانے سے ساحلی پٹی کے قریب آباد بستیوں میں رہنے والی لاکھوں عورتیں ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ وہ صبح سویرے پانی کی تلاش میں گھڑے لے کرنکلتی ہیں لکڑیاں کاٹتی ہیں مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال بناتی ہیں۔ جھیلوں میں کشتیاں چلاتی ہیں، جزیروں پر جا کر مچھلیاں پکڑتی ہیں جھینگے مچھلی صاف کرتی ہیں لیکن افسوسں کہ ڈی پی فشنگ ٹرالرز، نقصان دہ جال سمندری آلودگی مچھلی کے نرخ میں کمی سکیورٹی اہلکاروں کی زیادتی، سمندری جزائر انڈس ڈیٹا کی تباہی کی وجہ سے ان کے حالات سدھرتے دکھائی نہیں دیتے، وہ آج بھی تعلیم محنت اور لگے بندھے روزگار سے محروم ہیں۔ ہم نے ابراہیم حیدری جا کرماہی گیر عورتوں کے مسائل جاننے کی کوشش کی بات چیت نذرقارئین ہے۔ نسرین پانچ بچوں کی ماں ہیں۔ میاں کوکبھی مزدوری ملتی ہے کبھی نہیں ملتی۔ پہلے بچے لانچ پر جاتے تھے اور جب مچھلی جھینگے ان سے اتارے جاتے تو وہ دوڑ کر گری ہوئی مچھلی جھینگے اپنے تھیلوں میں بھر کے لے آتے۔ ماں انہیں صاف کر کے بچوں کو دیتیں اور وہ مارکیٹ جا کر بیچتے۔ اس طرح وہ اپنے گھر کا دال دلیا پورا کرتی تھیں۔اب مزدوری نہیں ملتی جس کی وجہ سے انہوں نے دو تین سال ایک بنگلے میں جھاڑو پونچھے اور برتن دھونے کا کام بھی کیا پھروہ بیگم صاحبہ باہر چلی گئیں ، اس لیے وہ بے روز گار ہو گئیں۔ نسرین اپنے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہاں پانی کی بہت قلت ہے، بارش کی وجہ سے جھگی تباہ ہوگئی تھی، اب تک اس کی مرمت نہیں کروا سکی مہنگائی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں بچوں کو دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی کھلانامحال ہوگیا ہے۔

خواتین کے حقوق

عزیزہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے جاتی ہیں۔ وہ اپنی چھوٹی سی لانچ میں کھانے پینے کا سامان رکھتی ہیں اور پھر سمندر سے 7 کلومیٹر دور واقع جزیرے سے مچھلیاں پکڑتی ہیں بعض دفعہ انہیں وہاں چار دن بھی لگ جاتے ہیں اور لانچ خراب ہو جانے کی صورت میں کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں ملتا۔ پھر انہیں وہاں آنے والی لانچ کا انتظارکرناپڑتا ہے، جوانہیں جزیرے سے واپس لے آئے۔ عزیزہ کا کہنا ہے کہ جزیرے سے مچھلی پکڑنے کاکام قدرے مشکل ہے وہ ایک ہاتھ سے بنی ہوئی مچھلی کھاتی ہیں تو دوسراہاتھ جال میں ہوتا ہے پھر سمندر کی لہریں بار بار ان کے اوپر آتی ہیں بعض اوقات بڑی مچھلیاں جال میں پھنس جاتی ہیں لیکن بہت خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ جب وہ جزیرے سے مچھلیاں پکڑ رہی تھیں توایک ویل مچھلی کا بچہ زندہ تھا، اس نے ان کے ہاتھ پرکاٹا لیکن خوش قسمتی سے اس کے دانت ان کی آستین میں گپ گئے۔
عزیز? جال سے مچھلیاں نکال کر جمع کرتی ہیں اور برف میں محفوظ کر کے جزیرے سے واپس لوٹتی ہیں۔ وہ اپنے گاو¿ں کے قریب واقع سمندر سے جھینگے بھی پکڑتی ہیں کہتی ہیں کہ جب سے سمندری جزیروں پر باہر کے لوگ آنے لگے ہیں۔ انہوں نے کام پرجانا کم کر دیا ہے کبھی کبھی وہ سوچتی ہیں کہ بڑی لانچوں والے بہت کمارہے ہیں لیکن ہم غریب لوگ ایک سے ڈیڑھ لاکھ کی ان تمام محنت مزدوری کرنے کے بعد بھی نہیں خرید سکتے، اس لیے چھوٹی سی لانچ سے کام چلاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ، لمحہ فکریہ ہے

خواتین کا عالمی دن کب اور کیسے شروع ہوا

رحیمہ ریشم کی ڈوری سے مچھلی پکڑنے کا جال بناکراپنا گزربسر کرتی تھیں لیکن اب اپنے ہاتھ کے ہنر سے روزی کمانے والی خاتون کا روزگار چھن گیا ہے وہ کہتی ہیں کہ جب سے مشینی جال آیا ہاتھ سے بنائے جانے والے جال کی کھپت نہیں رہی۔ ایک جال بنانے میں مجھے ڈیڑھ سے دو مہینے لگ جاتے تھے جس کا معاوضہ چار ہزار روپے ملا کرتاتھا مشینی جال بہت مضبوط ہوتا ہے جب کہ ہاتھ سے بنائے جانے والا جال سمندر کے کھارے پانی سے جلد گل جاتا ہے۔اس لئے آج ہاتھ سے بنائے جانے والے جال کی ضرورت نہیں رہی۔ جھینگے صاف کرنے کی مزدوری بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ یہاں ہم برسہا برس سے پانی کی بوند بوند کوترس رہے ہیں۔ کھارے پانی سے نہاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں بھی تو سال بھر بجلی نہیں آتی، اگرآ بھی جائے تو بارہ بارہ گھنٹے بند رہتی ہے۔ ہسپتال والے پیاروں کو دوا نہیں دیتے۔ سکول میں استاد پڑھانے نہیں آتے۔ ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک ہے لگتا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح ان پڑھ رہ جائیں گے۔ ماہی گیروں کی فلاح کے لئے سرگرم تنظیم کی عہدے کہتی ہیں کہ ماہی گیر عورتوں کے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ پہلے یہاں کی بہت سی عورتیں مچھلیاں پکڑنے کے جال بناتی تھیں لیکن مشینی جال کے آجانے سے ان کے روزگار پر بہت اثر پڑا ہے-مشینی جال کی وجہ سے مچھلیوں اور جھینگوں کی نسل کشی بھی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری عورتیں سمندری جزیروں پر جا کر مچھلیوں کا شکار اور بعض جال سے مچھلی نکالنے کا کام کرتی تھیں لیکن اب غیر مقامی لوگوں کی آمد کی وجہ سے وہ جزائر پر جاتے ہوئے جھجھک محسوس کرتی ہیں۔ اس طرح ان کے ذریعہ معاش پر پابندی کی جارہی ہے۔ فیکٹری جا کر جھینگے صاف کرنے والی عورتوں کو بھی روزگار نہیں مل رہا ہے،اب ان کی جگہ افغان عورتیں رکھی جا رہی ہیں۔ کیوںکہ وہ اوور ٹائم بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کے گورنمنٹ سکول اور کالج میں خوف و ہراس اور سہولیات کے فقدان کے باعث اساتذہ نہیں آتے۔ حکومت اس علاقے کے مسائل پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ برف میں رکھے جھینگے صاف کرنے والی عورتوں کی انگلیاں بری طرح سے گھل جاتی ہیں، وہ متعدد جلدی امراض میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ سندھ گورنمنٹ ہسپتال والے غریب عورتوں اور بچوں کو اپنے پاس سے ادویات نہیں دیتے۔ مریضوں کی حالت زیادہ بگڑ جائے تو یہاں کے ڈاکٹر سول اور جناح ہسپتال جانے کا مشورہ دے کر گورنمنٹ سے ہر مہینے تنخواہ لیتے ہیں۔ دوران زچگی خواتین کو بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دس فیصد خواتین راستے ہی میں دم توڑ دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت نے کشمیریوں کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب کشمیری آزادی کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں

خواتین پر تشدداورمعاشرتی رویہ

ان کا مزید کہنا تھا جھینگے مچھلی برآمد کرنے والے کارخانوں میں عورتیں روزانہ اجرت پر کام کرتی ہیں، انہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں ملتی، وہ پیدل جاتی ہیں،اس کے علاوہ لیبر لاز اور سوشل سیکیورٹی کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ہم نے عورتوں کی معاشی بدحالی کوختم کرنے اور متبادل روزگار فراہم کرنے کے لئے دستکاری سینٹراورکمپیوٹر سینٹر کھولے ہیں۔ اب ہمارے ہاں کی تقریبا پندرہ سورعورتیں گارمینٹس فیکٹریوں اور دیگر جگہوں پر ملازمت کر رہی ہیں۔ حکومت کے پاس وسائل ہیں اورماہی گیرعورتوں کو بنیادی سہولتیں اور روزگار کا تحفظ فراہم کرنا اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ مئی جون جولائی میں ڈوبنے کے خطرات کی وجہ سے مچھلی پکڑنے پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ اس دوران یہاں کی عورتوں کو مزدوری نہیں ملتی اور اپنے گھر کی کفالت کرنے والی ماہی گیرعورتوں کے لئے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اس لئے انہیں ماہانہ الاﺅنس دینے کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہئے۔
مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے لیکن مچھلی اور جھینگے کے دام میں مہنگائی کے حساب سے اضافہ نہیں ہوا۔ راشن، ڈیزل، جال و دیگر سامان دن بہ دن مہنگا ہو رہا ہے۔ جب کہ بیوپاری ، مول ہولڈر ، فش مالکان، ایکسپورٹرز، مختلف بہانوں سے مچھلی کا ریٹ کم کر دیتے ہیں، اپنی مرض یکے مطابق غیر قانونی پرسنٹیج کاٹتے ہیں۔ماہی گیر عورتوں کی بنیادی ضروریات زندگی، تعلیم، صحت اور روزگار کے تحفظ کا ذمہ دار کون ہے ؟ لمحہ بھر کے لئے ہی سہی ذرا سوچئے۔
سحر حسن

یہ بھی پڑھیں:  قومیں یوں ہی ترقی نہیں کرتیں