Fat girls

موٹاپے سے نجات کیلئے مائیں بچیوں کا خاص خیال کریں

EjazNews

جو لڑکیاں وزن کی زیادتی کا شکار ہو تی ہیں ان کو اکثر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں ”لڑکی بس ذرا سی موٹی ہے“ کہنے کوتو یہ بہت چھوٹا سا جملہ ہے مگر لڑکی یا اس کے گھر والوںسے پوچھئے کہ اس جملے کو سننے کے بعد ان پر کیا بیتتی ہو گی۔
کیونکہ کہنا ان کا بھی غلط نہیں ہوتا آج کل لوگ نازک ، کومل اور کم عمر بہو کے متلاشی نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لڑکے کی ڈیمانڈ ہے۔ اس نظریے میں ہمارے یہاں میڈیا کا عمل دخل بہت ہے۔ ویسے بھی موٹاپے اور خوبصورتی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
اگر آپ کا فیگر اسمارٹ ہے تو آپ سادگی میں بھی حسین نظر آئیں گی لیکن اگر آپ موٹی ہیں تو بننے سنورنے کے لیے آپ کو کافی محنت درکار ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے کپڑے اچھے لگ رہیں یا آپ کی جیولری اچھی لگ رہی ہے۔ یہ نہیں کہتے کہ ”آپ اچھی لگ رہی ہیں“ کیونکہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ موٹاپے کی وجہ سے آپ اپنی عمر سے کئی گنا بڑی دکھائی دیتی ہیں۔
ویسے بھی ہمارے یہاں کم عمر کی لڑکیوں کوپسند کیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو لڑکیاں موٹاپے کو ختم کرنے کی جدوجہد میں شادی کی عمر گنوا بیٹھتی ہیں کیونکہ نا واقفیت کی وجہ سے وہ اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتیں اور اگر لڑکیاں شادی سے پہلے ہی وزن کی زیادتی کا شکار ہو جائیں تو شادی کے بعد تو ان کا وزن اور بھی تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد تو اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ کچھ لڑکیوں کو اس موٹاپے کے سبب بہت سی مشکلات کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔مثلاً حیض میں بے قاعدگی، اولاد کا نہ ہونا ہوغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ایسی لڑکیوں کے والد کو چاہیے کہ وہ کم عمری سے ہی لڑکیوں کے بڑھتے ہوئے وزن پر سنجیدگی سے توجہ دینا شروع کر یں۔ کیونکہ اس عمر میں لڑکیاں اکثر بڑی لاپرواہ ہو تی ہیں۔ اور انہیں اس بات کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ماﺅں کو چاہئے کہ وہ ان کی غذا کا بہت خیال رکھیں اورکھانے کی میز پر ایسی غذاﺅں کو ترجیح دیں جن میں کیلوریز تو کم ہوں مگر کھانا غذائیت سے بھرپور ہو۔ خیال رہے کہ اس عمر میں بچیوں کو سارے وٹامنز ملنے چاہیے۔
ایسی لڑکیوں اور ان کی ماﺅں کے لیے ہم یہاں پر کچھ ٹپس اور کھانے کا شیڈول مہیا کر رہے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف آپ اپنی بچیوں کے بلکہ اپنے پورے خاندان کے وزن کو کنٹرول کرسکتی ہیں اور انہیں بہت سی مشکلات اور بیماریوں سے بچا سکتی ہیں۔
گھر میں برنیوں اور جار میں بیکری کی اشیا ئ، میوہ جات اور مٹھائیاں رکھنا بالکل بند کر دیں اور صرف ایک جار میں چھلکے والے چنے بھر کے رکھ دیں۔
ریفریجریٹر کے اندر سوئیٹ ڈش، کیک اور کولڈ ڈرنک رکھنا ختم کریں۔ اگر مہمانوں کے لیے کولڈ ڈرنک گھر میں رکھنا ہے تو اسے گرم ہی رہنے دیں۔
صبح کے ناشتے میں پراٹھے ختم کر کے سلائس، انڈے، دودھ، دلیہ یا فریش جوس پر اکتفا کریں۔
سکول یا کالج جانے والی لڑکیاں لنچ ٹائم کے لیے سینڈوچز یا فروٹ لے کر کالج جائیں۔ کینٹین جانے سے گریز کریں۔
سکول، کالج یا بازار میں اگر آپ کوپاس لگے تو کولڈ ڈرنگ کے بجائے منرل واٹر کی ٹھنڈی بوتل خرید کر پئیں یا پھر فریش جوس۔
باہر کھانا کھائیں یا دعوت میں جائیں تو باری کیو، چکن سلاد پر زیادہ زور دیں یا کبھی کبھی چائینز کھانے کھائے جا سکتے ہیں۔
ہفتہ میں ایک مرتبہ گھر میں سوئیٹ ڈش پکائیں ، کھانے میں تیل بہت کم استعمال کریں، مرغن غذائیں ہفتہ میںصرف ایک مرتبہ پکائیں۔
روزانہ سبزیوں کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ والوں کا استعمال کریں۔ بینز بہت اچھی غذا ہے۔
گھر میں ایک بڑی شیشہ لگا دیں۔ جس میں آپ آتے جاتے اپنے آپ کو دیکھ سکیں۔
اگر آپ کے کپڑے تنگ ہونے لگیں تو کپڑوں ڈھیلا مت کریں بلکہ خود کپڑوں تک آنے کی کوشش کریں اور جب تک آپ دبلی نہ ہو جائیں نئے کپڑے نہ سلوائیں۔
گھر کے چھوٹے موٹے کام جس میں چلنا پھرنا ہو ان کو خودکرنے کی کوشش کریں۔
نہار منہ ایک سے دو گلاس پانی پئیں سارے دن میں آٹھ سے دس گلاس پانی ضرور پیا کریں۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کھانے کے بعد پانی نہ پیا جائے ۔ کھانے سے پہلے پی سکتے ہیں۔
روزانہ پندرہ منٹ کی ورزش ضرور کریں یا پھر کوئی کھیل کود میں حصہ لیں مثلاً بیڈ مینٹن ، ٹیبل ٹینس یا سوئمنگ وغیرہ۔
روزانہ اپنے وزن کو صبح چیک کریں اگر بڑھ رہا ہو تو اسی دن سے کم کرنے کی کوشش کریں۔
غذائیت سے بھرپور متناسب ڈائٹ شیڈول:
صبح کا ناشتہ:
انڈا ، سلائس یا دودھ ، دلیہ یا فروٹ یا فروٹ جوس، چائے ایک چمچہ مارجرین یا جام۔
بارہ بجے:
سینڈوچز یا فروٹ یا دو عدد نمکین بسکٹ۔
دوپہر کا کھانا:
فروٹ سلاد، ابلے ہوئے چاول ایک چھوٹی پلیٹ، ایک کپ دال، یا ایک پلیٹ سبزی اور ایک چپاتی یا ایک پلیٹ نوڈلز یا ایک پلیٹ چھولے۔
رات کا کھانا
ایک چھوٹی چپاتی اور ایک پلیٹ کم تیل میں بنا سالن یا چکن کے پیس ، ایک پلیٹ بھر کے سلاد اور ایک فروٹ۔
رات سوتے وقت ایک گلاس دودھ، سبزیوں میں لوکی، توری، ٹنڈے، بھنڈی، ٹماٹر،شلجم، پالک ،میتھی، بند گوبھی، پھلیاںاور بینگن وغیرہ کا استعمال زیادہ کریں ۔ آلو سے پرہیز کریں۔
گوشت میں مرغی، مچھلی یا بکرے کا گوشت استعمال کریں۔ کبھی کبھی بچھیا کا گوشت لے سکتے ہیں۔ انڈوں کا استعمال زیادہ کر سکتی ہیں۔ گوشت کو بہت کم تیل میں یا ابال کر یا سینک کر استعمال کریں۔
اگر آپ ان تمام باتوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اپنی بچیوں کو اس موذی مرض (موٹاپے) سے نجات نہ دلا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جنریشن گیپ :آپسی گفتگو ہی سے کم ہوتا ہے