chabahar

چاہ بہار منصوبہ ، ایران نے بھارت کی چھٹی کر ادی

EjazNews

مئی 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ چاہ بہار معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تہران گئے تھے جہاں ارکون نے ایرانی وزارت ریلوے کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ایرانی ریلویز اور بھارت کی سرکاری کمپنی ارکون کے درمیان یہ ریلوے منصوبہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک کا متبادل راستہ فراہم کرنے کے لیے تھا۔مفاہمتی یادداشت کا مقصد ‘چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائنز کی تعمیر تھا جو بھارت، ایران اور افغانستان کے مابین سہ فریقی معاہدے میں راہداری اور ٹرانسپورٹ راہداری کے حصے کے طور پر تعمیر ہونا تھا۔
ایران اور بھارت کے درمیان 4سال قبل معاہدہ کیا تھا۔جس کے تحت ایران کی چاہ بہار کو بھارت نے ڈویلپ کرنا تھا۔ لیکن اب ایرانی حکومت کی طرف سے جو بیان سامنے آیا ہے اس کے مطابق 628 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی تعمیر کے اس منصوبے کیلئے بھارت کی جانب سے فنڈز میں تاخیر، اسے کروڑوں ڈالر کے اس منصوبے سے الگ کرنے کی وجہ بنی۔
ایران، بھارت سے مالی معاونت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ایرانی نیشنل ڈیو یلپمنٹ فنڈ میں سے 40 کروڑ ڈالر اس منصوبے کے لیے استعمال کرے گا۔ریلوے منصوبہ، جسے مارچ 2022 تک مکمل ہونا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب چین، ایران سے 400 ارب ڈالر کے اسٹریٹجک شراکت داری کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ ‘بھارت اس میں بعد میں بھی شمولیت اختیار کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ترکی میں قومی شجر کاری مہم میں ایک ملین افراد نے گیارہ ملین پودے لگائے