pakistani_rupes

کرونا کے باوجود ترسیلات زر میں اضافہ

EjazNews

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سست روی ہے ۔ یہ سست روی پاکستان میں بھی اس کے باوجود مالی سال 20-2019 کی آخری سہ ماہی یعنی مارچ تا جون میں ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنا میں آیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ جون کے دوران ورکرز کی ترسیلات زر میں نمایاں 50.7 فیصد اضافہ ہوا جو 2 ارب 46 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ ایک ارب 63 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔
مئی کے مقابلہ میں بھی اس مہینے کی وصولی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جہاں عالمی معیشت پر کورونا وائرس کے اثرات کی وجہ سے منفی نقطہ نظر کے باوجود اس ملک کو ایک ارب 86 کروڑ 60 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔اسٹیٹ بینک نے کہا مجموعی طور پر مالی سال 2020 کے دوران ورکرز کی ترسیلات زر 23 ارب 12 کروڑ روپے کی تاریخی اعلی سطح تک پہنچ گئیں جو مالی سال 2019 کے دوران 21 ارب 47 کروڑ ڈالر سے 6.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
پالیسی سازوں نے اس سے قبل مالی سال 2020 کی آخری سہ ماہی میں کرونا وائرس کے دنیا بھر کی معاشی سرگرمی پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا تھا تاہم آمدنی میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔جون کے مہینے میں ورکرز کی ترسیلات کا بہت بڑا حصہ مئی کے مقابلے سعودی عرب سے 61 کروڑ 94 لاکھ، امریکہ 45 کروڑ 20 لاکھ، ، متحدہ عرب امارات کی 43 کروڑ 17 لاکھ ڈالر اور برطانیہ 40 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو بالترتیب 42 فیصد،7.1 فیصد، 33.5 فیصد اور 40.8 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔30 جون کو ختم ہونے والے 12 ماہ کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے موصول ہوئیں جو مالی سال 2019 میں 3 فیصد نمو کے مقابلہ میں 6.8 فیصد اضافے سے 5 ارب 43 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔مالی سال 2020 میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ترسیلات زر متحدہ عرب امارات سے وصول ہوئی جس کی مجموعی تعداد 4 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی۔مالی سال 2019 میں متحدہ عرب امارات سے وصول ہونے والے ترسیلات زر میں 2020 میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ترسیلات زر میں سب سے زیادہ نمو امریکہ سے دیکھنے میں آئی جو مالی سال 2019 کے 16.6 فیصد اضافے کے مقابلے میں مالی سال 2020 میں 25 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب 16کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی۔اسٹیٹ بینک نے کہا کہ جون کے دوران ترسیلات زر میں نمایاں اضافے کی وجہ متعدد عوامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں کوئی وزیراعظم جم کر حکومت نہیں کر سکا