umro aur dawal pa

عمرواور دوال پا

EjazNews

عمرو اس میدان میں دوڑنے لگا اور دیکھنے لگا کہ اگر یہاں سے نکلنے کا راستہ ملے تو یہاں سے بھاگ جاؤں۔ اچانک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے عمرو کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو نام لے کر سلام کیا اور کہنے لگا۔ اے عمروآپ نے بہت اچھا کیا کہ یہاں آگئے میں تمہارا خالو ہوں۔ بہت سالوں تک ہندوستان میں تھا وہاں بہت کمایا اوراپنا سارا سامان جمع کر کے کشتی پر چڑھا اور تمہارے دیکھنے کے لئے وطن کی طرف چلا۔ راستے میں جب اس جگہ پہنچا تو میری کشتی ڈوب گئی۔ جس چھوٹے صندوق میں جواہرات تھے اس صندوق کو لے کر ایک تختے پر چڑھ گیا۔ تیز ہوا چل رہی تھی۔ ہوا نے تختے کو کنارے پہنچایا۔ تب سے میں اس جزیرے میں ہوں۔ ہرروز تم کو یاد کرتا تھا۔ جواہرات کا صندوقچہ میرے پاس ہے۔ اب تم ملے ہوتو بڑی خوشی ہوئی ہے۔ عمرو نے دل میں سوچا کہ میرا تو کوئی خالو نہیں ہے۔ میری ماں کی تو کوئی بہن ہی نہیں تھی پھریہ خالوں کہاں سے آیا۔ مگر پھر سوچا کہ خالو کے پاس جواہرات کا صندوقچہ ہے۔ اگر اسے خالومان لوں گا تو وہ ان جواہرات میں سے مجھے کچھ دے گا۔ اس لئے اس نے خالو ماننے سے انکارنہ کیا اورآ کر بیٹھ گیا۔ خالو نے کہا۔ جان خالومیرے پاؤں میں طاقت نہیں ہے اس لئے میں اٹھ کر نہیں چل سکتا۔ عمرو نے کہا۔ کوئی بات نہیں آپ بڑے ہوآپ کو کھڑے ہو کر مجھے ملنا بھی نہیں۔
خالو کہنے لگا۔ اس درخت سے پھل توڑ کے کھاؤں تو میرا دل خوش ہوجائے۔ تم اپنے خالو کا اتنا خیال تو کروگے۔ عمرو نے کہا۔ یہ کون سی بڑی بات ہے۔ میں اس درخت پر چڑھ کر پھل توڑ لاتا ہوں۔ آپ کا جتنا دل چاہے کھائے۔ خالو نے کہا۔
میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ میں اپنے ہاتھ سے توڑ کر کھانا چاہتا ہوں۔ اگر تم مجھے اپنی کمر پر کھڑا کر دو تو میں ہاتھ بڑھا کرتوڑ لوں گا اور اپنے ہاتھ سے توڑ کر کھانے سے میرا دل خوش ہوگا۔ تب عمرو جھک گیا اور وہ مرد کی پیٹھ پر چڑھ گیا۔ وہ دوال پا تھا۔ یعنی اس کے پاؤں تسمے کی طرح تھے۔ اسے پیرتسمہ پا بھی کہتے ہیں۔ جیسے ہی وہ مرد کی پیٹھ پر چڑھا اس نے اپنے پاؤں سے عمر کو باندھ لیا اور کہا دوڑو عمرو اپنے آپ کو اس کے شکنجے سے چھڑانا چاہتا تھا اس نے خوب زور لگایا۔ ہاتھوں سے اس کو ہٹانا چاہا مگر اس نے عمر کا ہاتھ بھی اچھی طرح جکڑ لیا۔ اب عمر مجبور ہو گیا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی کہ خالوبن کریہ مجھ پر سواری کرنا چاہتا تھا۔ اس کا یہ مقصد پورا ہوگیا ہے۔ اب یہ اس سواری سے لطف اٹھانے کے لئے مجھے دوڑانا چاہتا ہے۔ اب عمرو دوڑنے لگا۔ دوڑتے ہوئے گانا بھی گاتا جاتا تھا۔ وہ عمرو سے بہت خوش ہوا۔ کہنے لگا ”مجھے بہت اچھا گھوڑ املا ہے ایسا گھوڑا تو کسی نصیب والے کو ملتا ہے۔ وہ تو بہت خوش تھا اورعمرو اپنے دل میں اس گھڑی کو کوسں رہا تھا جب وہ اس طرف آنکلا تھا اور اس کوخالو مان کراس کے قریب آبیٹھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا میں کس بلا میں پھنس گیا ہوں اب اس سے کیسے چھوٹوں گا۔ جب کوئی طریقہ مجھ میں نہ آیا تو سوچا امیر کی طرف چلنا چاہئے وہ اس سے چھڑادیں گے۔ یہ سوچ کر امیر کی طرف چلا۔ وہاں جا کر دیکھا کہ امیر اورسب سرداروں پر دوال پا چڑھے ہوئے ہیں۔ عمرو کو بہت غصہ آیا۔ سرداروں نے جوعمرکو دیکھا تو آہیں بھرنے لگے۔ وہ سب امیر کو برا بھلا کہنے لگے کہ اوعرب ! تم نے یہ کیا ظلم کیا کہ ایک کافر کی بیٹی کے لئے مسلمانوں کو مصیبت میں پھنسایا، اب تو ایسے پھنسے ہیں کہ اس سے نکل بھی نہیں سکتے۔ دوال پا سارے سرداروں کو بھگارہے تھے اور بہت خوش تھے۔ سرداروں کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ عادی پہلوان تو بہت موٹا تھا۔ اس کی بری حالت تھی بھاگتے ہوئے گر پڑتا اور پھر مجبور ہو کر چلتا۔ دوال پا شور مچاتا۔ دوڑو اور وہ گرتا پڑتا چلا جاتا۔
عمروان سب سے زیادہ چالاک اور ہوشیار تھا۔ دوڑنے میں تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ وہ دوڑتے ہوئے آگے نکل گیا۔ آگے جا کے اس نے دیکھا کہ ایک پہاڑ کے نیچے انگورکی بیلیں لگی ہوئی ہیں۔ انگورخوب پک چکے ہیں اور ان کا رس پی رہا ہے یہ خالص انگور کی شراب بن رہی تھی۔ دوسری طرف کدو کی بیلیں لگی ہوئی تھیں اوران بیلوں میں سوکھے اور ہرے کدولٹک رہے تھے۔ بعض سوکھے کدوتو بہت بڑے اور موٹے تھے۔ ہوشیارعمرو کے ذہن میں فورا ایک خیال آیا اور اس نے اس پرعمل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عمرو نے دوال پاسے کہا۔آپ بڑے خوش قسمت ہیں جو مجھ سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ یہ ایک بیل دیکھ رہے ہیں، یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اس کا رس پیا تھا اور اس رس کا اثر ہے کہ میں اتنا تیز دوڑتا ہوں اگر اس وقت میرے تیز دوڑنے کا تماشا دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک کدوتوڑ کے اس کا پیالہ بنائیں اور اس میں یہ رس بھرلیں اوراپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھیں۔ جب میں بھاگوں تو تھوڑا سا میرے حلق میں ڈالیں۔ پھر دیکھیں میں کتنا تیز دوڑتا ہوں ۔ اس نے اس بات کوقبول کیا۔
عمرو اسے کدو کی بیل کے پاس لے گیا۔ اس نے ایک سوکھے ہوئے کدوکو توڑ کر اس کا پیالہ بنایا اس میں انگور کا رس بھرا اور کئی قطرے عمرو کے حلق میں ڈالے ۔ عمرواس اس کو پی کر ہک ہک کر گانے لگا۔ پھر میدان میں اتنا تیز دوڑا کہ دوال پابہت خوش ہوااور کہنے لگا۔ او گھوڑے تم مجھے بہت پسند آئے ہو۔ میں جب تک زندہ رہوں گا تیرے سوا کسی اور گھوڑے پر سواری نہیں کروں گا۔ تیرا ہنہنانا مجھے بہت پسند ہے اور دوڑنے کی تو کیا بات ہے کوئی تیرا مقابلہ نہیں کرسکتا، عمرو نے کہا۔ ابھی آپ نے دیکھا ہی کیا ہے۔ جیسے جیسے اس کا اثر ہوگا ویسے ویسے تیزی آئے گی۔ میرے بھاگنے میں بھی اور گانے میں بھی مگر آپ اس کو نہیں پینا۔ دوال پا نے سوچا بی یہ خود توپیتا ہے اورمجھے منع کرتا ہے۔ اس کے پینے سے بڑا فائدہ ہے۔ تجھے بھی پینا چاہئے۔ اس نے کدوکو منہ لگایا اور پینے لگا۔ عمرو نے جب سمجھا کہ دوال پا رہا ہے تو عمر نے کہا۔
خبردار سب مت پینا۔ میرے لئے بھی بچا کر رکھنا مگر دوال پا کوتو اس رس کے پینے میں بڑا مزا آیا۔ وہ سارا رس پی گیا۔ انتشار پی جانے سے اس کو نشہ آیا۔ چونکہ اس نے پہلی مرتبہ پیا تھا اس لئے اس کو اثر بھی بہت ہوا اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ بے ہوش ہوتے ہی اس کے پاؤں کے تلے مل گئے اور وہ مرد کی پیٹھ سے نیچے گر گیا۔
عمروآزاد ہو کر بہت خوش ہوا۔ اوراس جگہ پہنچا جہاں سب سرداروں کے اوپر دوال پا سوار تھے۔ عمرو نے کہا یارو کیا حال ہے۔ عمر کو آزاد یکھا تو وہ سمجھ گئے کہ اس نے اپنی چالاکی سے خود کو چھڑالیا ہے۔ اب وہ عمرد کو کہنے لگے کہ ہمیں بھی اس مصیبت سے چھڑاؤ۔ اور اس کی منتیں کرنے لگے۔ عمرو نے کہا اگر مجھے کچھ دینا قبول کرو تو ان سے تمہیں چھڑاؤں۔ انہوں نے عمرو کو روپے دینے قبول کئے ۔ عمروان سب کو وہیں لے آیا جہاں آزادی کا سامان پھیلا ہوا تھا۔ لیکن انگور اور کدو کی بیلیں ہر طرف بہار دکھا رہی تھیں ۔ عمرو نے سب دوال پا کو انگور کا خالص رس پلا کر سب کو بیہوش کیا اور ان کے پیران سرداروں کی کمروں سے چھڑائے اور ان سرداروں نے غم کے مارے ان سب کو ختم کر دیا۔ کہ اگر کوئی اور بھولا بھٹکا اس طرف آنکلا تو بھی اس کا بھی یہی حال کریں گے۔ اس مصیبت سے نکل آنے پرانہوں نے اپنے جہازوں کا رخ کیا اور فورا ہی جہازوں کے لنگر اٹھادیئے کہ کہیں کوئی اور مصیبت نہ آجائے۔ دو مہینے تک جہاز چلتے رہے کہ ایک جزیرہ نظر آیا۔ اس میں اتر گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کا چہلم