galaxy

7کروڑ برس قبل انسان زمین پر موجود تھے :سائنس دانوں کا دعویٰ

EjazNews

لاکھو ں سال پہلے کرئہ ارض پر انتہائی ترقی یافتہ تہذیب نے حکومت کی۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی مغربی جریدے میں ایک مضمون شائع ہوا۔ عنوان تھا” این ایڈوانس سلو لائزیشن کڈ ہیو رولڈ ارتھ ملین آف ائیر زاگو “۔
آپ کے لیے یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہوگی کہ آج سے برسہا برس قبل کسی قسم کے جاندار یا اشرف المخلوق موجود تھے۔ بالکل ہمارے انسانوں کی طرح ذہین و فطین اور تخلیقی ذہن کے مالک ۔ کچھ کر گزرنے کی صلاحیتوںکے مالک تھے۔ اس تصور کو سلورین ہائی پو تھیسسSilurian Hypothesis کہا جاتا ہے۔اور ناپید ہونے والی دوسری تہذیبوں کی طرح وہ بھی نیست و نابود ہو گئے۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے آثار کا کھوج لگانے میں ہم بری طرح ناکارہے ہیں، ٹیکسلا کے عجائب گھر میں موجود انتہائی باریکی کے ساتھ بنائے گئے آلات کس نے کب اور کیسے بنائے ہم کچھ نہیں جانتے۔ درو دیوار پر رقم رسم الخط کس دور سے تعلق رکھتا ہے یا کہنے والوں نے کیا کہنا چاہا ہے ہم کچھ نہیں جانتے۔لیکن مغربی سائنس دان کیا کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ سائنس دانوں نے 7کروڑ برس قبل ایک انسانی تہذیب کی موجودگی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تہذیب ماﺅنٹ رش مور Mt . Rmore کے ارد کہیں آباد ہوئی۔ اپنے دو انگوٹھو ں کو رگڑ کر چکماکر کے پتھروں کی طرح آگ پیدا کرتی اور ہماری طرح پکا کر چیزوں کو کھاتی۔ یہ تہذیب کتنا عرصہ زندہ رہی کس طرح ناپید ہوئی اگر ٹیکنالوجی تھی تو پھر کیا انہوں نے ڈائنا سارس پر قابو پایا یا ڈائناسارس ان پر چھا گئے اس بارے میں ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ سائنس دان کے سلورین تصور کے مطابق اس تہذیب پر کئی ڈاکٹروں نے تحقیق کی ۔ انہوں نے اس تہذیب کے لوگوں کو اجنبی قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم عصر حاضر میں اپنے آپ کو ذہین ترین زندگی سمجھتے ہیں۔
بیشک ایسا ہے قرآن پاک نے ہمیں اشرف المخلوقات قرار دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا۔ لیکن اس دنیا میں انسانوں کی آبادی کب شروع ہوئی حضرت آدم علیہ السلام اس زمین پر کب تشریف لائے اس کی تاریخ کا ہمیں کچھ زیادہ علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور پیغمبر بھیجے اپنی الہامی کتابوں کو اتارااور ان میں سے قرآن پاک پر اپنے دین کو مکمل کردیا۔ یہ 14سو سال کی تاریخ ہے۔ لیکن ہم کروڑ ہا برسوں کی تاریخ سے ناواقف ہیں ہمیں حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سے آنے والے نبیوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔ مگر سائنس دانوں کے اس گروپ نے ہمیں بتایا کہ یہاں زندگی کا آغاز آج سے 7کروڑ برس سے لے کر کوئی 10کروڑ برس تک ہوا۔ جس کی اب کوئی علامت اس کرئہ ارض پر موجود نہیں۔ اس بارے میں جب ماہرطبیعات اور تحقیق کے مصنف آدم فرینک سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم وثوق سے نہیں جانتے کہ ٹائم لارڈز یا چھپکلی پیپل موجود تھے۔ درحقیقت اس تحقیق کے ذریعے سے دوسرے سیاروں پر قدیم تہذیب اور علامتوں کو تلاش کرنا ہے۔ آخر کار 10کروڑ برس قبل ڈائنا سار تھے۔ ہمیں ان کی باقیات ملی ہیں بلکہ یہ تو شاید 15کروڑ برس پہلے تک بھی زمین پر موجود تھے مگر کیا اس عرصے میں انسانی کی کوئی ترقی یافتہ نسل موجود تھی اس بارے میں فرینک اور اس کے موسمیات کے ماہر گیون شمٹ کہتے ہیں کہ یقینا ہوگی۔ اس وقت ہم جس عہد سے گزر رہے ہیں اسے Anthropocene Period کہا جاتا ہے۔ یہ انسانوں کی بالادستی کا دور ہے۔ اور یہی دور کرئہ ارض پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے منفی اثرات کا دور ہے۔ مگر سائنسدانوں کے مطابق آج سے 5کروڑ 60لاکھ برس قبل ہمارے کرئہ ارض پر اس سے کہیں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس موجود تھی اگر انسان موجود نہیں تھے تو یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کس طرح پیدا ہوئی۔ کتبین کا درجہ حرارت 70درجہ سینٹی گریڈ ہوا کرتا تھا اور اسی عرصے میں فاصل کاربنز کی مقدار فضا میں موجودگی کے آثاربھی دریافت ہوئے ہیں مگر ہم اس کی و جوہات سے لا علم ہیں ۔ صرف یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی تہذیب تو موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  منشیات سمگل کرنے والی بلی فرار