shibli faraz

تعمیراتی انڈسٹری 31دسمبر تک حکومتی پیکج بھرپورسے فائدہ اٹھائے اور جلدی کرے:وزیر اطلاعات

EjazNews

اسلام آباد میں وزیراطلاعات شبلی فراز اور نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ یہ پریس کانفرنس وزیراعظم کے گزشتہ روز کیے گئے ہائوسنگ سیکٹر کے اعلان کی گئی ہے ۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا جس طرح کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی بنیاد رکھی گئی بالکل اسی طرح شعبہ تعمیرات کے تمام تر مسائل کے حل کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔ سستے مکانات کی فراہمی ملک کا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ بینکس عام طورپر تعمیراتی صنعت کو قرضہ نہیں دیتے۔ تعمیراتی صنعت پورے ملک کی معیشت کو چلاسکتی ہے کیونکہ تعمیراتی صنعت سے 40 سے زیادہ صنعتیں جڑی ہوئی ہیں۔کنسٹرکشن انڈسٹری کو اٹھانے کے لیے ایک انتہائی اہم پیکج دیا گیا ہے کیونکہ حکومت اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بہت سنجیدہ ہے۔انہوں نے بلڈرز اور تعمیراتی صنعت سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ حکومتی پیکج سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، پیکج سے فائدہ اٹھانے کے لیے 31 دسمبر تک موقع ہے۔31 دسمبر کے بعد عالمی اداروں کی پابندیاں لگ جائیں گی۔ حکومت نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم میں غیرمعمولی دلچسپی رکھتی ہے اور اسی لیے 5 مرلے کے مکان پر خریدار کو 3 لاکھ روپےکی چھوٹ ملے گی۔اسی لیے حکومت نے 30 ارب کی سبسڈی مختص کی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کا کہنا تھا حکومت نے فیکس ٹیکس کے تحت 90 فیصد ٹیکس ختم کردئیے اور سیکشن 111 انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت غیر واضح آمدن والے حضرات کو 31 دسمبر 2020 تک استثنیٰ حاصل ہوگئی۔ اس حوالے سے صوبائی ٹیکس اور ٹرانسفرٹیکسز میں کمی کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پروگرام سے صرف بلڈرز ہی فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ عام لوگ بھی گھر یا خریدنے کیلئے اس سکیم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کچی آبادیوں والے بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ نرم اور آسان شرائط کے ساتھ قرض مہیا کیے جائیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک شہر یا علاقے کیلئے مخصوص نہیں ہے تمام کمپنیاں اور تمام ملک کے لوگ اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت کچی آبادیوں میں گھر بنانا بھی شامل ہیں، کنسٹرکشن چھوٹے اور بڑے شہروں میں تمام جگہ ہو گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ اتھارٹی کی کوشش ہو گی کہ سب سے کم آمدنی والے لوگوں کیلئے گھر بنائیں اور جو کرائے پر رہائش پذیر ہیں ان کی قسط اتنی ہو جتنا وہ کرایہ ادا کر رہے ہیں۔ تاکہ وہ اپنی قسط آسانی سے ادا کر سکیں۔
ساری پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات اور چیئرمین نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کا اس بات پر زور تھا کہ موجودہ سکیم سے فائدہ جلد از جلد اٹھائیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  آئے روز کے ٹریفک حادثات لمحہ فکریہ ہے!