Orthopedic

آرتھرائیٹس ، ہارمونز اور غدود

EjazNews

آرتھرائیٹس کے شکار بچوں کی آنکھیں خراب ہو سکتی ہیں، اعضا اکڑ سکتے ہی یا معذور بھی ہو سکتے ہیں۔ این ڈوکٹرائن سسٹم بے شمار غدود پر مشتمل ہوتا ہے جو اعضا ءکی کارکردگی کو متوازن رکھنے کے لیے مختلف ہارمونز بناتا ہے ۔
نوعیت:
اندازہ لگایا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے بے شمار بچے اس مرض میں مبتلا ہیں۔اس کی بنیادی وجہ کا اب تک سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ لیکن خیال یہ ہے کہ شاید بچے اپنے ساتھ ہی اس مرض کا رجحان لے کر پیدا ہوا کرتے ہیں اور یہ مرض ماحول یا شاید کسی قسم کے انفیکشن کی وجہ سے اور بھی زیادہ تقویت حاصل کر لیتا ہے۔
وہ بچے جو اس مرض کا شکار ہوتے ہیں دیکھنے میں ان بڑوں سے بہتر نظر آتے ہیں جو اس مرض میں مبتلا ہوں۔ اس مرض کی ایک عام شکل جو وینائل آرتھرائٹس ہوا کرتی ہے اور عام طور پر لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کو ہوا کرتی ہے۔
چھوٹے بچوں میں اس مرض کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جس میں وہ بہت بے چینی محسوس کیا کرتے ہیں۔ پھر ان کے جوڑوں میں درد، سوجن اور خارش شروع ہو جاتی ہے جو جوڑ جسم کا وزن اٹھایا کرتے ہیں جیسے ہپ، گھٹنے اور ٹخنے وغیرہ۔
بچوں میں اگر مسلسل قائم رہنے اور نہ سمجھ میں آنے والا درد پایا جائے تو پھر اس کی تفتیش بہت ضروری ہے۔ اس مرض کے شکار کچھ بچوں کی آنکھیں بھی خراب ہو سکتی ہیں اور کچھ بچوں کے اعضا مستقل اکڑ جاتے ہیںیا وہ معذور ہو جاتے ہیں۔
آپ کی توجہ کیلئے:
اگر آپ یہ دیکھیں کہ بچہ لنگڑا کر چل رہا ہے یا چلنے میں دشواری محسوس کر رہا ہے یا اپنے جسم کے کسی ایک حصہ کو حرکت دیتا ہے اس کا ایک جوڑ ، عام طور پر دونوں گھٹنوں میں سے کوئی ایک ورم کر گیا ہے۔ اس کے دوسرے جوڑوں میں شدید درد بھی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر دوسرے گھٹنے یا ٹخنے میں۔
کچھ بڑے بچوں میں چڑھتے اترتے ہوئے بخار کی کیفیت بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا بخار صبح کے وقت نارمل ہو سکتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بخار بڑھ بھی سکتا ہے۔ یا پھر شام تک یہ بخار ایک سو تین ایک سو چار تک پہنچ جائے۔
تیز بخار کے وقت بچے کو سرخ دھبے بھی نمودار ہو جاتے ہیں۔ بچے کی گلٹیاں سوج جاتی ہیں اور اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مسلسل درد کی کیفیت ہو۔ بچہ بہت زیادہ بیمار محسوس ہواور یہ صورت حال کئی ہفتوں تک برقرار رہے۔
علاج:
علاج کے لئے ان علامات کے ظاہر ہوتے ہی بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں جو پیڈ ییٹریشن (Paediatrician) یا آرتھوپیڈک کے ماہر کے پاس بھیج دے گا۔ اگر بچے میں یہ مرض تشخیص ہو جاتا ہے تو پھر اسے پابندی کے ساتھ فزیو تھراپی کی ضرورت ہوگی جو مختلف ورزشوں کے ذریعے اس کے جوڑو ں کو متحرک رکھ سکے اور متاثرہ جوڑوں پر توجہ دے سکے۔
بچے کی بیماری کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس کا علاج کیا جاتا ہے اور عام طور پر اسے اسٹرائیڈ دوائیں دی جاتی ہیں چند بچوں کو سرجری کی بھی ضرورت ہے تاکہ ان کے خراب جوڑوں کو الگ کیا جاسکے۔
اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ یہ مرض متاثرہ جوڑوں سے ابتدائی تین ماہ کے دوران ادھر ادھر پھیل سکے۔
کچھ اور حقائق:
جو وینائل کرونک آرتھرائٹس کے زیادہ تر مریض بچے آہستہ آہستہ مسلسل علاج، توجہ اور ورزشوں وغیرہ سے تندرست بھی ہو جاتے ہیں۔ بشرطیکہ اس دوران وہ کسی اور قسم کے انفیکشن کا شکار نہ ہو جائیں۔
ان کی صحت یابی میں چند ماہ یا کئی سال بھی لگ سکتے ہیں اور کچھ بچوں کے جوڑوں کی اکڑن ہمیشہ کے لئے برقرار بھی رہ جاتی ہے۔بہر حال اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ پانچ چھ برس تک اس مرض میں مبتلا کوئی بچہ مکمل طور پر صحت یاب ہو جائے۔
تعاون:
اگر خدانخواستہ آپ کا بچہ اس مرض کا شکار ہے تو آپ اس کے سہارے اورحوصلے کے لئے اس کے ساتھ بے شمار قسم کے تعاون کر سکتی ہیں۔
اس کے بستر کے فوم کے نیچے کوئی سخت شیٹ سہارے کے لئے دی جاسکتی ہے۔اگر وہ ورزشوں سے بوریت محسوس کرتا ہو۔ یا جھلا جاتا ہو تو اپنی رائے سے آپ اس کی ورزشوں کو دلچسپ بنا سکتی ہیں۔ گرم پانی کے ٹب میں لیٹ کر ورزش کرنے کے لئے کہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ یا اسے ٹرائی سائیکل خرید کر دیدیں تاکہ اس کی ٹانگوں کی مشق ہوتی رہے۔
اگر وہ پراپر غذاﺅں میں دلچسپی نہیں لیتا تو پھر اسے ہلکی پھلکی ایسی چیزیں کھانے کو دیں جن میں وٹامن موجود ہوں۔ اس مرض میں مبتلا چند بچوں کو مستقل آنکھوں کے معائنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے بچوں کی آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ کراتی رہیں ۔
ضمنی دوائیں باقاعدہ دواﺅں کے ساتھ بچے کو اس لئے دی جاتی ہیں کہ اسے ایک سہارا حاصل رہے۔
ہارمونز اور غدود:
انسانی جسم بے شمار اقسا م کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے جیسے نظام ہاضمہ ، بچوں اور بڑوں میں توانائی کی پیداوار، نشوونما، بچپن سے لے کر جوانی تک اور یہ سب کچھ جسم کے مختلف اعضا اور اعصابی کارکردگی کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔
اعضا ءکی کارکردگی کو متوازن رکھنے کے لئے جسم کے ان اعضا کو ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اور این ڈوکرائن سسٹم یہی فریضہ انجام دیا کرتا ہے۔
این ڈوکٹرائن سسٹم بے شمار غدود (گلینڈز ) پر مشتمل ہوتا ہے جوپورے جسم میں موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک ہارمون پیدا کیا کرتا ہے۔ ہارمون کوآپ کیمیاوی پیغام رساں سمجھ سکتے ہیں اور یہ ہارمون خون کے دھارے میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ سمجھ لیں کہ ہارمون جسم کے حصوں پر آہستہ آہستہ اثر انداز ہوا کرتے ہیں ۔ سوائے دو ہارمونز کے جو ایڈرنل غدود کی پیداوار ہیں اور جوگردوں کے اوپر ہوا کرتے ہیں۔
مرکزی غدود:
اعصابی سسٹم کے دو مرکزی غدود ہائی پوتھیلیس (Hypothalamus) اور پچوٹری گلینڈز ہوا کرتے ہیں۔ یہ دونوں دماغ کے مرکزپر واقع ہوتے ہیں۔
پہلا غدود جسم کے دوسرے نظام سے مل کر رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ جیسے نروس سسٹم اور یہی غدود دوسرے کو پیغام ترسیل کیا کرتا ہے۔ اسے ہارمونز کی پیدائش ہونے لگتی ہے۔
اس کے بعد جب ہارمونز کی باری آتی ہے تو وہ دوسرے غدود کو متحرک کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہ ہارمون جو پچوٹری غدود کی پیداوار ہوتے ہیں جنہیں تھائی رائڈ اسٹی مولیٹینگ گلینڈز کہا جاتا ہے (T.S.H) وہ گردن کے اگلے حصے پر واقع تھائی رائیڈز کے غدود کو متحرک کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو جسم کی توانائی کے لیول کو کنٹرول کیا کرتے ہیں۔
ہارمونز کی پیداوار ، ان کی کارکردگی اور ان میں کمی یا بیشی وغیرہ کے سلسلے کو ایک نظام کے تحت بہت احتیاط اور غور سے مانیٹر کیا جاتا ہے یا اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔
قدرت کا یہ نظام بہت زبردست اور اتنا خود کار ہے کہ انسان کے جسم میںہونے والی ہارمونل تبدیلیاں خود بخود متوازن ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر خون میں کسی قسم کے ہارمون کی شمولیت یا ملاوٹ زیادہ ہو جاتی ہے تو اس نظام کے تحت اس ہارمون کی پیداوار خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ یعنی اس پر کنٹرول کرلیا جاتا ہے۔
تشخیص:
ہارمونز دراصل کیمیکل پیغام رساں ہوا کرتے ہیں جو غدود سے یا جسم کے دوسرے حصوں سے پیداہوا کرتے ہیں ۔ یہ خون کے دھارے میں شامل ہو کر جسم کے دیگر حصوں تک پہنچتے ہیں۔ جہاں وہ خاص قسم کے اثرات پیدا کیا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسوڑوں کی سوزش دانتوں کی بیماری کی شروعات ہے
کیٹاگری میں : صحت