children_health

گرم موسم کی بیماریاں، بچوں کی حفاظت کیجئے

EjazNews

موسم گرما کے ساتھ ہی متعدد عوارض سَر اُٹھانے لگتے ہیں، جن کی لپیٹ میں عموماًبڑوں سے زیادہ بچّے آتے ہیں،خصوصاً کم عُمر نوزائیدہ بچّے۔گرمی اور پھر شدید گرمی کے باعث اچانک ہی کئی وبائی اور غیر وبائی امراض پُھوٹ پڑتے ہیں، لہٰذا والدین، خصوصاً ماؤں کے لیے ایک گائیڈ لائن کے طور پر موسم گرما میں ہونے والے بچّوں کے امراض کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون پیش خدمت ہے۔
موسمِ گرما کےخاص امراض میںسرِفہرست گیسٹرو ، ٹائیفائیڈ اور ہیضہ ہیں،جبکہ بعض اوقات بچّے پسینے اور جسم پر میل جمنے کی وجہ سے جلدی بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔جیسے خارش، پھوڑے پھنسیاں وغیرہ۔ان عوارض کے پھیلاؤ کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔کم پانی پینا اور دوسرا اُبال کر نہ پینا ۔ موسم گرمامیں عام دِنوں کی نسبت زیادہ پانی پینا چاہیے،تاکہ پسینہ بہنے کی صورت میںپانی اور نمکیات کی کمی واقع نہ ہو۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ بچّےہی نہیں ،عموماً بڑے بھی اپنی جسمانی ضرورت کے مطابق پانی نہیں پیتے۔ حالانکہ بہت زیادہ اُچھل کود، بھاگ دوڑ اور کھیل کود کی وجہ سےبچّوں کے جسم سے پسینے کا زیادہ اخراج ہوتا ہے۔پھرزیادہ تر گھرانوں میں پانی اُبال کر استعمال نہیں کیاجاتا۔ بچّے خاص طور پر ہاتھوں کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے ۔یوں کئی جراثیم ہاتھوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر اُنہیں بیمار کردیتے ہیں۔
ٹائیفائیڈ، “Salmonella typhi” نامی بیکٹریا کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے، جو آلودہ، گندے پانی میں پایا جاتا ہے اور مُنہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر، خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔اس کی علامات تیزبخار،جسم،پیٹ اور سَر میں درد،کبھی کبھار دست یا ڈائریا،بھوک ختم ہوجانا یا کم لگنا،قے اور متلی وغیرہ ہیں۔ہیضہ ایک متعدی مرض ہے، جو ایک بیکٹریا “Vibrio Cholera”کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ہیضےکی عام علامات اسہال، قے، پیٹ میں شدید درد، نقاہت وغیرہ ہیں۔ گیسٹرو کی ابتدائی علامات میں طبیعت بوجھل اور گِری گِری سی محسوس ہوتی ہے۔ بعد ازاں پانی پینے یا کچھ کھانے سے فوراً قے اور دست شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر مرض شدّت اختیار کرلے تو خون بھی خارج ہوسکتا ہے،جوخطرے کی علامت ہے۔ ان تینوں وبائی امراض کے لاحق ہونے کا بنیادی سبب غیر معیاری، ناصاف پانی اورباسی کھانا ہے۔
اگر موسم کی مناسبت سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ، حفظانِ صحت کےاصولوں پر عمل اورصفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے،تو خواہ گرمی کا دورانیہ طویل ہو یاکم ، کسی طبّی مسئلے سے دوچار ہوئے بغیربھی پورا موسم باآسانی گزرسکتا ہے۔
کُھلا دودھ مفید ہے، مگر عموماًدودھ گرم کرتے ہوئے بالائی نکال دی جاتی ہے، جس سے تقریباً چالیس فیصد کیلوریز ختم ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح چکنائی بھی(جس میں مختلف وٹامنز پائے جاتے ہیں)تقریباً ضائع ہی ہوجاتی ہے،لہٰذا جب دودھ اُبال رہے ہوں، تو وقفے وقفے سے اُسے ہلاتے رہیں، تاکہ بالائی بننے ہی نہ پائے اور دودھ میں شامل ہوتی رہے۔ اس طرح کا دودھ بچّوں کے لیے زیادہ مفید اور صحت بخش ثابت ہوتا ہے۔ ڈبوں کے دودھ میں بھی عموماً یہی خصوصیات ہوتی ہیں، جب کہ پیکٹس والےدودھ زیادہ تر مصنوعی ہی ہوتے ہیں، ان میں غذائیت نہیں پائی جاتی، صرف ذائقے کے لیے مختلف کلرز اور فلیورز شامل کردیئے جاتے ہیں۔ رہی بات جوسز کی، تو جب پھلوں سے جوس نکالا جاتا ہے، تو ستر فیصد غذائیت(جس میں فائبر، وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں)ضائع ہوجاتی ہے۔ حالانکہ یہ جوس تازہ ہوتاہے، مگر ایسڈک ہوجانے سے گلے پر اثر انداز ہوکر سوزش کا باعث بن جاتا ہے، لہٰذا جس حد تک ممکن ہو، بچّوں کو تازہ پھل کھلائیں، تاکہ جسم و دماغ کو تقویت پہنچے۔ علاوہ ازیں، گرمیوں میں لسی کا استعمال بھی فائدہ مند ہے کہ یہ تقویت دینے کے ساتھ گرمی کا اثر بھی زائل کرتی ہے۔ ڈبّے والے جوسزمیں تیزابیت پائی جاتی ہے، جبکہ انہیں ایک خاص مدّت تک محفوظ رکھنے کے لیے جو کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں، وہ پیٹ اور حلق کے لیے مضر ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے ضروری پانی کا زائد استعمال ہے۔ اگر بچّے باہر جا رہے ہوں، تو سَر ڈھانپ کر نکلیں یا چھتری لے لیں۔دھوپ میںکھیل رہےہوں،تو انہیں بار بار پانی یا پتلی لسی پلائیں۔ اگر بچّے کو بہت زیادہ گرمی لگ رہی ہو یا ہیٹ اسٹروک کا خدشہ ہو، تو اُس کے جسم پر پانی ڈالیں، پنکھے کے نیچے یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں لٹادیں، تاکہ جسمانی نظام میں پیدا ہونے والی گرمی ختم ہوسکے۔
انرجی ڈرنکس توانائی کا ماخذ نہیں، بلکہ کئی بیماریوں کی جڑ ہیں۔ کئی ممالک میںسکولز کے سٹالز پر انرجی ڈرنکس رکھنا قانوناً جرم قرار دے دیا گیاہے۔بچّوں کو انرجی ڈرنکس کی جگہ لسی پلائیں،پھل کھلائیں، اُبلا ہوا ٹھنڈا پانی استعمال کروائیں۔ جہاں تک آئس کریم کی بات ہے،تو چونکہ یہ دودھ سے بنی ہوتی ہے اور گرمی میں دودھ میں بہت جلد بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کس قسم کے برتن میں کس طرح کے دودھ اور پانی سے تیار کی گئی ہے،لہٰذا احتیاط ہی بہتر ہے۔ تاہم، جوآئس کریم حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق تیار کی گئی ہو ، تو ہفتے، ڈیڑھ ہفتے بعد کھانےسے نقصان نہیں ہوتا۔ غیر معیاری آئس کریمز میں بھی ٹائیفائیڈ کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔
اگر ہم کیلوریز کی بات کریں تو جس طرح کار یا موٹر سائیکل اچھی حالت میں رکھنے کے لیے باقاعدہ سروس کروائی جاتی ہے، تو اسی طرح انسان کے جسم کی بھی ایک ’’ٹائم آف سروس‘‘ ہے،لہٰذا بڑوں ہی کا نہیں، چھوٹے بچّوں کا بھی خواہ کوئی شکایت ہو نہ ہوطبّی معائنہ ضروری ہے۔ پیدائش کےپہلے سال میں آٹھ وزٹ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چھ ماہ میں یا ایک سال میں بچے کا چیک اَپ کروالیا جائے۔ اس معائنےمیں دیکھا جاتا ہے کہ بچّے کا عُمر کی مناسبت سے وزن بڑھ رہا ہے یا نہیں، دانت کس طرح نکل رہے ہیں یا کوئی اور طبّی مسئلہ تو نہیں ہے۔ بسا اوقات ایک معمولی سے تکلیف کے پیچھے کوئی بڑا مسئلہ چُھپا ہوتا ہے۔ جیسے جگر بڑھا ہوا ہے، وٹامنز کی کمی ہے یا کوئی اور بیماری ہے،تو اس معائنے سے سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ دَور میں کم عُمر بچّوں میں بھی موبائل فون اور ویڈیو گیمز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اس کے استعمال سےبینائی کمزور ہوجاتی ہے۔ بول چال پر بھی اثر پڑتا ہے، کیونکہ بچّے کئی کئی گھنٹےبولتے نہیں، بس موبائل فون پرکارٹونز دیکھتے یا پھر گیمز کھیلتے ہیں۔ ایسے بچّے اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیںاورگردن، کمر یا ہڈیوں کے امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے، تو نفسیات اور رویوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔اس وقت بچّوں کی سب سے بڑی بیماری یہ گیجٹس ہی ہیں۔ ترقّی یافتہ ممالک میں چھ سال سے کم عُمر بچّوں کے لیے ان کا استعمال ممنوع ہے اورچھےسال کی عُمر کے بعد بھی ایک ٹائم بار متعین کیا گیاہے، جس کے تحت جسمانی سرگرمی کے بعد ان سکرینز کے استعمال کی آدھے، پون گھنٹے کی اجازت دی جاتی ہے۔یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر بچّے جسمانی سرگرمیاں انجام نہیں دیں گے، تو اس کے اثرات ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما پر ضرور مرتّب ہوں گے۔
بیش تر والدین اس معاملے پر کچھ خاص توجّہ نہیں دیتے۔ اگر بچّہ دیر تک سورہا ہے، تو سونے دیتے ہیں۔رات گئے جاگ رہا ہے، تو کوئی فکر نہیں ۔ حتیٰ کہ صوم و صلوٰۃ کے معاملے میں بھی سختی نہیں برتی جاتی۔ یاد رکھیے، آموزش کا عمل کم عُمری ہی سے شروع ہوجاتا ہے اور پھر بقیہ تمام عُمر اس کی بہتری میں صَرف ہوتی ہے،لہٰذا روزانہ اپنے شیڈول سے گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ بچّوں کے لیے ضرورمخصوص کر یں،اس دوران ان کے ساتھ بیٹھ کر وقت گزاریں، کوئی کہانی، واقعہ سُنائیں، خاندان،رشتے داروں سےمتعلق باتیںکریں۔ انہیں کھیلنے کودنےکا موقع دیں۔لکھنے پڑھنے کے اوقات مقرر کریں اور نماز کی پابندی کروائیں۔اس سے بچّوں کے ذہنوں پر خوش گوار اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔
نوزائیدہ بچّےگرمی یا سردی کا اظہار نہیں کرپاتے، تو زیادہ تر والدین اُن کے لیے زیادہ فکر مند رہتے ہیں اور گرمی کی نسبت، سردی میں زیادہ پریشان ہوتے ہیں اور اکثر انہیں بہت زیادہ کپڑوں میں لپیٹ دیتے ہیں۔مگریاد رکھیے، بچّوں کا چھینکنا، سردی لگنےکی نشانی ہرگز نہیں ۔ چھینکوں کی ایک وجہ ناک کا صاف نہ ہونا ہے۔ اگر بچّوں کی ناک صاف رکھی جائے،تو یہ شکایت نہیں ہوگی۔ اگر بچّہ رو رہا ہو، تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ اسے بھوک لگی ہے یا پیاس، پیٹ میں درد ہےیا ریاح،لیکن اس طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا کہ اُسے کتنے کپڑوں میں لپیٹ رکھا ہے۔انسان کے جسم میں حرارت اُسی طرح پیدا ہوتی ہے، جس طرح انجن چلنے سے گاڑی گرم ہوتی ہے، لہٰذا بچّے کے جسم سےحرارت باہر نکالنی ہے، ہوا میں پھیلانی ہے، نہ کہ جسم ہی میں رہنے دی جائے۔ بچّوں کے جسم سے یہ حرارت سَر اور جسم کے کھلے حصوں کے ذریعے نکلتی ہے اور اکثر اسی سبب بخار ہوجاتا ہے۔ بچے کو سردی میںپسینہ نہیں آنا چاہیے، اگر آرہا ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ اُسے ایک خاص حد سے زیادہ کپڑے پہنا دیئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں، یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ بچّے کو پنکھے کے نیچے نہ لٹائیں۔ اس کا سَر ماتھا اور ہاتھ چیک کریں، اگر ٹھنڈے نہیں ہیں، تو اُسے گرمائش کی ضرورت نہیں ہے۔اگر ٹھنڈےمحسوس ہو رہے ہوں، تو ہلکا سا لحاف اوڑھا دیں۔ رہی بات موسمِ گرما کی تو اس میں بچّوں کوایسے ڈھیلے ڈھالے،ہلکے رنگوں کے سوتی ملبوسات پہنائیں،جو جسم کا درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے ساتھ دھوپ کی شعاؤں سے بھی تحفظ دیں۔گرمیوں میں جسم سے پسینے کی شکل میں پانی خارج ہوتا ہے، تو پانی زیادہ پلائیں، لیکن چھ ماہ کی عُمر کے بچّوں کو ماں کے دودھ کے ساتھ پانی نہیںپلانا چاہیے۔ اگربچّہ اوپر کا دودھ پی رہا ہو، توپھر وقفے وقفے سے کچھ پانی پلادیا جائے۔نیز، اگر بڑی عُمر کا بچّہ جسمانی طور پر کم زور ہو، تو اُسے بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہو گی۔
کوشش کریں کہ تازہ کھانا بنائیں،جب کہ کھانا کُھلی فضا میں رکھنے کی بجائےفریج میں رکھیں،کیونکہ گرمیوں میں باہر کھانا رکھنے سے بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں۔پھل دھو کر کھانے کی عادت ڈالیں اور گلے سڑے پھل کھانے نہ دیں۔بچّوں کو انڈا ضرور کھلائیں۔دیکھا گیا ہے کہ اکثر مائیں صبح ناشتے میں بچّوں کو ہاف فرائی ہاف بوائل یا کچا پکا انڈکھلاتی ہیں، جو درست نہیں ،کیونکہ مرغیوں کی فیڈ عموماً غلیظ چیزوں سے بنتی ہے ،جس میں جراثیم بھی ہوتے ہیں۔ خصوصاً ٹائیفائیڈ کے جراثیم انڈوں میں بھی سرایت کر جاتے ہیں۔ زردی میں توضرور ہو سکتے ہیں، لہٰذا بچّوں کو کچی زردی کھلانے سے اجتناب برتیں اور زردی اچھی طرح پکا کر کھلائیں۔ صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کریں، گھر میں گندگی، مکھیاں، کاکروچ وغیرہ پیدا نہ ہونے دیںاور گھر کے آس پاس بھی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے،جبکہ بچّوں کی ویکسی نیشن لازماً کروائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر اپنائیں
کیٹاگری میں : صحت