peer noor ul haq

آخر مندر کی تعمیر کا معاملہ ہے کیا؟

EjazNews

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی تھی، یہ منظوری وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی وزیراعظم سے ملاقات میں گرانٹ کے لیے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آئی تھی۔اس سے قبل 23 جون کو ایچ 9 ایریا میں دارالحکومت کے پہلے مندر کی تعمیر شروع کرنے کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی کی جانب سے مندر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ اسلام آباد ہندو پنچایت نے مذکورہ مندر کا نام شری کرشنا مندر رکھا ۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حکم پر 2017 میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے ایچ 9/2 میں 20 ہزار اسکوائر فٹ کا پلاٹ ہندو پنچایت کو دیا گیا تھا۔
تاہم سائٹ میپ، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز سے دستاویزات کی منظوری سمیت دیگر رسمی کارروائیوں کے پورے ہونے میں تاخیر کی وجہ سے تعمیرات کام شروع نہیں ہوسکا تھا۔
اس حوالے سے گزشتہ ماہ کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری چوہدری تنویر نے درخواست بھی دائر کی تھی جس پر عدالت نے سی ڈی اے سے جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کی تعمیر کے لیے دی گئی زمین واپس لی جائے، مزید یہ کہ مندر کی تعمیر کے لیے تعمیراتی فنڈز بھی واپس لیے جائیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سید پور گاؤں میں پہلے سے مندر موجود ہے، حکومت اس کی تزئین و آرائش کرسکتی تھی۔
اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کو دی گئی زمین دارالحکومت کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر عمل درآمد کرایا جائے جبکہ مندر کی تعمیر پر حکم امتناع جاری کیا جائے، جس پر عدالت نے مندر کی تعمیر کو فوری روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع کی درخواست پر نوٹس جاری کردئیے۔
اسی معاملے پر قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا اقلیتی اراکین نے مجھ سے ملاقات کی اور انہوں نے 4 کنال پلاٹ پر مندر کی تعمیرات کے لیے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ مختلف مذہبی عبادت گاہوں کی مرمت اور زیب و آرائش کے لیے فنڈز موجود ہیں جو انتہائی محدود ہیں جبکہ مندر کی تعمیرات کے لیے وسیع فنڈز درکار ہوں گے، جو ہمارے پاس نہیں۔ اقلیتی اراکین کی درخواست کو وزیراعظم عمران خان کی طرف بھیج دیا گیا اور اس دوران مذکورہ معاملے کو ایشو بنا لیا گیا۔حکومت کو تنگ کرنے کے لیے مذہبی سمیت کچھ سیاسی عناصر نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ مسئلہ مندر کی تعمیر کا نہیں بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا بیت المال کی رقم سے مندر تعمیر ہوسکتا ہے؟۔ اس سوال کے فتویٰ کے لیے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا گیا ہے اور مندر کی تعمیر روکنے کا تعلق سی ڈی اے سے غیر منظور شدہ نقشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کی۔ اگر اقلیتوں کو حاصل حقوق سے متعلق تحقیق کرلی جائے تو پاکستان خطے میں موجود دیگر ممالک کے مقابلے نمایاں نظر آئے گا جہاں اقلیتوں کے ساتھ سب سے بہتر رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کے منشور میں شامل ہے کہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کو دور کرنا اور انہیں مکمل مذہبی آزادی فراہم کرنا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہر شخص عام آدمی نہیں ہوتا اب تو حکومت کو بھی سمجھ آگئی