st. JOseph churh lahore

1883-84ء میں لاہور کے مشنری ادارے

EjazNews

امریکن پریسی شیرین مشن

اس مشن کے بارے میں تمام معلومات ڈاکٹر فار مین نے بہم پہنچائی ہیں۔ یہ مشن ریاست ہائے متحدہ امریکا کے پریسی شیرین چرچ کے غیرملکی مشقوں کے بورڈ نے قائم کیا ہے۔ اس کی بنیاد 1849ءمیں الحاق پنجاب کے کچھ عرصے بعدر یوران نیوٹن اور یوران فارمین نے بھی جواسی سال نومبر کے مہینے میں لاہور پہنچے تھے۔ اس وقت مشن کا سٹاف ریوران جے نیوٹن ،ریورانی بلیو فارمین ریوران اے پی کیلسو اور ان کی بیگمات کے علاوہ مس تھیڈ،مس روز، مس ایما ،مس جین ہیر یز، مسز اینڈرسن کرسچین بوائز سکول کے ہیڈ ماسٹر آرسی داس ،ریوران پی سی ایل، الیگزینڈر، سنت رام اور ڈاکٹرعیسیٰ داس پرمشتمل ہے۔ مشن کے زیراہتمام تین مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں جن میں مشن کے چرچ کے احاطے میں دیسی عیسائیوں ، انارکلی کے یونین چرچ میں یورپی اور یوریشین باشندوں اور میاں میر کے یونین چیل میں پرسٹی ٹیرین فوجیوں کے اجتماعات شامل ہیں۔ یہاں جمع ہونے والوں کی اوسط تعداد بالترتیب ایک سو پچاس اور چالیس ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ لوہاری گیٹ دہلی گیٹ اور قلعے کے قریب بھی گرجا گھر بنائے گئے ہیں۔ البتہ سول سیشن اور ریلوے کی تعمیر کے بعد ان علاقوں میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہونے کے باعث یہ گر جے بند کر دئیے گئے ہیں۔ عیسائی مذہب اختیار کرنے والوں کی وقتاً فوقتاً بپتسمہ کی جاتی ہے لیکن یہ لوگ بھی روزگار اوربعض دوسری وجوہ کی وجہ سے یہاں سے چلے گئے ہیں۔
مشن ڈسپنری:
یہ ڈسپنسری طویل عرصے تک ہندو اور مسلمان ڈاکٹروں کے ہاتھ میں رہی ہے لیکن ایک ادارے کے طور پر کامیاب نہ ہوسکی۔ آخرمشن نے موجودہ عیسائی ڈاکٹر کی خدمات حاصل کر لیں جس نے ڈسپنسری کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنایا ہے۔ یہاں روزانہ پچاس یعنی سال میں اوسطاً پندرہ ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
امریکن مشن سکول:
لڑکوں کے لیے مشن سکول نے دسمبر 1849 میں کام شروع کیا۔ نئے حاصل شدہ علاقے میں کھلنے والا یہ پہلا انگلش سکول تھا۔ شروع میں یہاں چار پانچ طلبا تھے۔ پہلے عشرے میں طالب علموں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ تھی کہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ انگریز یہاں کتنے عرصے تک قیام کریں گے۔ غدر کے زمانے میں سکول تقریباختم ہوگیا کیونکہ لوگوں کو یقین ہو گیا تھا کہ انگر یزوں کی واپسی کا زمانہ آگیا ہے۔ غدر کے بعد سکول نے کئی برسوں تک زبردست ترقی کی۔ اس وقت میں سکول میں کوئی چھ سو جبکہ سکول کی بائیس برانچوں میں 950 اور بالغوں کی شبینہ کلاس میں 70 طلبازیر تعلیم ہیں۔ کسی زمانے میں اس سکول کا کلکتہ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق تھا اور یہاں بی اے تک تعلیم دی جاتی تھی۔ اب یہاں صرف یونیورسٹیوں کے داخلہ امتحان تک تعلیم دی جاتی ہے۔ جو مضامین پڑھائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں :انگریزی، فارسی ،اردو، ہندی اورسنسکرت، جغرافیہ ،تاریخ ،الجبرا ،جیومیٹری اور سائنس۔ بائبل کی تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے کیونکہ سکول کے قیام کا بڑا مقصد طالب علموں کو سچے مذہب کی تعلیم دینا اور خدا اور بندوں کے فرائض سے روشناس کرانا ہے۔ لڑکوں کے سکولوں کے علاوہ مس تھیڈ اور مذکورہ بالا خواتین شہر میں غیرمسیحی بچیوں کے لیے اٹھارہ پرائمری سکول چلارہی ہیں جن میں 205 ہندو 175 مسلمان 44 سکھ اور خاکروبوں کی 50 بچیاں زیرتعلیم ہیں۔ ان میں سے بعض فارسی اور بعض اردو ہندی اور گورمکھی پڑھ رہی ہیں۔ ریاضی، جغرافیے اور تاریخ کے مضمون بھی پڑھائے جاتے ہیں لڑکیوں کو کشیدہ کاری بھی سکھائی جاتی ہے اور بائبل کی تعلیم کا بھی انتظام ہے۔ یہ خواتین زنانوں کا بھی دورہ کرتی ہیں جہاں ان کی کئی طالبات کام کرتی ہیں۔
میتھوڈسٹ ایپی سکول مشن:
لاہور میں یہ مشن 1881ءمیں کام کیا گیا۔ اس مشن کامیتھڈسٹ ایپی سکول چرچ آف امریکہ (یو ایس ) کی ساو¿تھ انڈیا کانفرنس کے ساتھ باقاعدہ الحاق ہے۔ یہ مشن اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت کام کر رہا ہے۔ اس کے دو مقاصد ہیں: یورپی اور برائے نام عیسائیوں کومنظم کر کے انہیں انگریزی خواں چرچ میں تبدیل کرنا اور انجیل کے مبلغ تیار کرنا۔ اس کے سٹاف میں صرف ایک مشتری شامل ہے۔ مشن کے ساتھ کوئی سکول منسلک نہیں۔ اس کا واحد مقصد عیسائیت کے لیے ہے۔ اس وقت کوئی دیسی عیسائی اس مشن سے وابستہ نہیں۔
سینٹ جانز (مشنری) ڈیوینٹی سکول:
اس ادارے کی بنیاد چرچ مشنری سوسائٹی کے اس وقت کے مشنری ریوران ٹی وی فرنچ نے 1879 ءمیں رکھی جواب لاہور کے بشپ ہیں۔ ادارے کے قیام کا مقصد پنجاب اور ہماری صوبوں کے عیسائیوں کو باغ کی ٹریننگ دینا تھا۔ شروع میں یہ ادارہ انارکلی میں کرائے کے ایک بنگلے میں قائم کیا گیا لیکن 1871ء میں میو ہسپتال کے قریب مہاسنگھ باغ کے نام سے ادارے کے لیے عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں پرنسپل ہاوس، چیپل، لائبریری اور کلاس روم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیچروں کے لیے مکان اور 25 شادی شدہ اور غیر شادی شدہ طلبا کے لیے الگ الگ کوارٹرز تعمیر کیے گئے ہیں۔
ڈیونٹی سکول کا تقریباً پورا کورس مذہبی نوعیت کا ہے اس لیے یہاں کے طالب علم سرکاری امتحان نہیں دیتے۔ کالج کوحکومت کی طرف سے کوئی گرانٹ نہیں ملتی۔ جن طالب علموں نے مڈل کا امتحان پاس نہیں کیا وہ اس ادارے میں اس قسم کا امتحان پاس کر سکتے ہیں۔ سکول کا کورس تین سال کے لیے ہے جس میں وہی مضامین شامل ہیں : عبرانی اور یونانی نئے اور پرانے عہدنامے کی تشریح، چرچ کی تاریخی، مسیحی نظریہ اور اخلاقیات عیسائیت کا ثبوت، ہندووں اور مسلمانوں کے مباحث، ماہر الہیات کے مذہبی نصاب می پندونصاری پر تنقید مشترک دعا کی کتاب، طبی اور دماغی علوم کے بنیادی اصول اور گانا۔ اس وقت تدریسی عملہ صرف دو یورپی مشنریوں پرمشتمل ہے جو یونیورسٹی گریجویٹ اور ادارے کے پرنسپل اور وائس پرنسپل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دیسی پادری کو کالج میں ٹریننگ دی گئی ہے۔ پرنسپل اور وائس پرنسپل کوسٹیشن کے مشنری کاموں کی بھی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔ درس وتدریس کی زبان اردو ہے۔ تدریسی عملہ مذہبی درسی کتابیں خود فراہم کرتا ہے۔ 1870ء سے لے کر جولائی 1883ء تک ڈیونٹی سکول میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد 74 تھی۔17 طلبا کو نااہلی کی بنا پر ادارے سے نکال دیا گیا اور پانچ طلبا 1882ء کے سیشن میں موجود تھے۔ باقی 52 طالب علم ذاتی طور پر یامختلف مشنری سوسائٹیوں کے ملازم کی حیثیت سے مسیحیت کی تبلیغ کرتے رہے ہیں۔ سکول کے لیے طلباء کا انتخاب دیسی عیسائی برادری سے کیا جاتا ہے۔ طالب علموں کی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکول میں مزید طلبا کی رہائش کی جگہ موجود ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم مسیحی طالب علموں کے لیے ہوسٹل قائم کر دیا گیا ہے چنانچہ ڈیونٹی سکول میں اس وقت بارہ سیکولرطلبا رہائش پذیر ہیں۔
سکول کی عمارت اور لائبریری کے لیے (جس میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں) رقم ادارے کے بانی نے جمع کی ہے جو اس وقت لاہور کے بشپ اور کالج کے وزیٹر ہیں۔ جگہ کے لیے زیادہ تر گرانٹ چرچ مشنری سوسائٹی نے دی ہے اور یہ جائیداد اسی کی ملکیت ہے۔ بعض دوستوں نے مل کر چند سکالرشپ دینے کا بھی انتظام کیا ہے۔ آنجہانی ریوران بی ایم گورڈن نے (جو کسی زمانے میں کارلج سٹاف میں شامل تھے) کالج کی چیپل تعمیر کرانے کی جدوجہد شروع کی تھی۔ چنانچہ ان کی یاد میں ایک فنڈ قائم کیا گیا جس سے گورڈن میموریل چیپل کی عمارت مکمل کی گئی ہے۔ یہ عمارت سرخ اینٹوں سے بنائی گئی ہے اوراس میں شمالی اٹلی کاطر تعمیراختیار کیا گیا ہے۔
ہندوستانی خواتین کے لیے نارمل سکول اور انسٹرکشن سوسائٹی:
چرچ مشنری سوسائٹی کے زیراہتمام یہ ادارہ 1873ء میں نولکھا میں قائم کیا گیا۔ اس میں دیسی لڑکیوں کے لیے بورڈنگ سکول موجود ہے۔ یہ ادارہ ریلوے سٹیشن سے گورنمنٹ ہاؤس جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ ادارے کے قیام کا مقصد دیسی عیسائی لڑکیوں کوٹیچر بنانے کے لیے تربیت دینا ہے تا کہ وہ تھوڑی آمدنی رکھنے والے خاندانوں کی لڑکیوں کو انگریزی اور مشرقی علوم پڑھا سکیں۔ ادارے کے عملے میں ایک لیڈی سپرنٹینڈنٹ، ایک انگریزی لیڈی اسسٹنٹ ایک یورپی میٹرن اور ایک منشی شامل ہے۔ سکول میں 25 سے 30 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ سرکاری افسر باقاعدگی کے ساتھ سکول کا معائنہ کرتے ہیں ۔ ادارے کو گرانٹ بھی دی جاتی ہے۔ انگلستان میں سکول کا سرپرست ادارہ بھی سکول کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ لاہور میں اس کے لیے عطیات جمع کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبات کی فیس سے بھی ادارے کے اخراجات جزوی طور پر پورے ہو جاتے ہیں ۔ مشنری کے زیرانتظام لاہور زنانہ مشن بھی قائم ہے جہاں مسلمان لڑکیوں کو اردو، بائبل، تاریخ اور ریاضی کے علاوہ کشیدہ کاری کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس مشن کے زیرانتظام آٹھ گرلزسکول چلائے جارہے ہیں۔
ریلیجس بک سوسائٹی:
پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی 1863ء میں قائم کی گئی جس کا صدر مقام انارکلی بازارمیں ہے۔ یہ ادارہ، جو لندن ریلیجسٹریٹ سوسائٹی کے زیرانتظام چل رہا ہے لوگوں کو انگریزی اور مشرقی زبانوں میں مذہبی کتابیں فراہم کرتا ہے۔ ادارے کی کتابوں کی فروخت کے لیے بیس افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کتابوں کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ سوسائٹی کے لیے فراخ دلی کے ساتھ عطیات دیئے جارہے ہیں۔ اب سوسائٹی کے لیے انارکلی بازار میں ایک نئی اور وسیع عمارت تعمیر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سلطان قطب الدین ایبک