alizadi

یہ موٹر سائیکل، گاڑی چوری کی بات نہیں بلکہ 158افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے:علی زیدی

EjazNews

وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔جس وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وہ صوبہ جو شاہ عبدالطیف بھٹائی اور لعل شہباز قلندر کی سرزمین ہے، اس میں جو جماعتیں اقتدار میں رہیں کس طرح سے انہوں نے سندھ کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچایا اپنے ذاتی جائیدادوں کو بڑا کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے قانون کی بالادستی کے بجائے اپنی ایک ذاتی ریاست بنالی۔ہم اس پاکستان سے لوگوں کو نجات دلائیں گے جہاں لوگ سیاست ملک کو آگے لے جانے کے بجائے مفادات کے فروغ کے لیے کرتے ہیں اور اداروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ذاتی گینگز کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کی حالیہ مثال ہے وہ مسئلہ ہے جسے رکن قومی اسمبلی علی حیدر زیدی نے اٹھایا کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ جو بھی چیزیں ہوتی ہیں اس کے لیے جو بھی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں ان کا مقصد صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا کہ تہذیب یافتہ ممالک میں سیاسی مباحثے دائیں اور بائیں بازو کی ہوتی ہے لیکن پاکستان میں صحیح اور غلط کی سیاست ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے اور اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ہمیں وزیر بنانے کے قابل سمجھا لیکن اس ملک میں وزیر بننے کے بعد لوگ کیا کرتے رہے ہیں، ہم سب جانتے ہیں۔ہم ملک بدلنے اور ملک کو صحیح راہ پر لگانے کے لیے آئے ہیں اور اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے سزا اور جزا کے نظام پر عمل کیا جائے۔158افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے۔ یہ موٹر سائیکل اور گاڑی کی چوری کی بات نہیں ہے بلکہ 158افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے اور جے آئی ٹی ریلیز کی گئی تو ان کے ترجمان نبیل گبول کہنے لگے کہ یہ جے آئی ٹی پوری نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی عذیر بلوچ سے ملاقات سمیت مختلف ویڈیوز بھی چلائیں اور 4مارچ 2013 کا حکومت سندھ کا اعلامیہ بھی دکھایا جس میں حکومت سندھ نے عذیر بلوچ کی سر کی قیمت مقرر کی تھی۔
علی حیدر زیدی نے عذیر بلوچ کا بیان حلفی سناتے ہوئے کہا کہ صفحہ نمبر 7 میں عذیر بلوچ نے کہا تھا کہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملا اور اپنے خلاف ہیڈمنی ختم کروانے کا کہا جسے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے حکم پر ہٹادیا گیا تھا۔ آخری صفحے پر عذیر بلوچ نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ ان انکشافات کے بعد مجھے اور میرے گھر والوں کو جان سے ماردیا جائے گا جس کے لیے میں درخواست کرتا ہوں کہ مکمل حفاظت کی جائے کیونکہ مجھے آصف زرداری اور دیگر سیاسی لوگ بشمول ان کے جن کا ذکر میں نے بیان حلفی میں کیا ان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے۔
وزیر بحری امور نے کہا کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے اپنی ویب سائٹ پر بڑی مشکل سے بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ جاری کردی، اس میں جو انکشافات اور جن جن کے نام ہیں وہ آپ کو معلوم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخری صفحے پر سندھ پولیس، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے، ایم آئی، ایس ایس پی ایسٹ، ڈی جی رینجرز سب کے دستخط ہیں جس میں لکھا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کا خونی اقدام پولیس کی نااہلی کی واضح مثال ہے۔جے آئی ٹی نے مذکورہ تفتیش پر تنقید کی اور نتیجہ اخذ کیا کہ خوف اور احسان کے غالب رہنے والے عناصر نے پولیس کی کارکردگی کو متاثر کیا اور یہ جے آئی ٹی غلط بنی تھی اور دوبارہ ایف آئی آر کاٹ کر تفتیش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں یہ لکھا گیا تھا، اس طرح اداروں کو تباہ کیا گیا ہے۔
سندھ پولیس کے ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد نے جب یہ رپورٹ نکالی تو ان کا یہاں سے شکارپور ٹراسفر کردیا گیا، وہاں انہوں نے دوسری رپورٹ نکال دی کہ وہاں ڈکیتیوں میں کون کون سیاسی لوگ ڈاکوؤں کی سرپرستی کرتے رہے۔
علی زیدی نے کہا کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ چنیسر گوٹھ، محمودآباد میں مجرموں، منشیات فروشوں کی تفصیلی رپورٹ اور اب یہ میرا حلقہ ہے، پی ایس-104 اور یہ سندھ پولیس کی رپورٹ ہے جس میں ایک ایماندار پولیس والا آ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں ایک نام فرحان غنی ہے جو منشیات فروشوں کے سہولت کار ہیں اور وہ سعید غنی کے بھائی ہیں اور اس رپورٹ کے بعد انہیں فارغ کردیا گیا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میں نے 2017 میں چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھا کہ یہ جے آئی ٹی رپورٹس رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت مجھے دیجیے لیکن موصوف نے خط کا جواب دینے سے بھی انکار کردیا اور خاموشی چھا گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میں سندھ ہائی کورٹ چلا گیا کیونکہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پبلک ہو چکی تھی، اکتوبر 2017 سے یہ کیس چلتا رہا اور ججز بدلتے رہے، بالآخر رواں سال 28جنوری کو سندھ ہائی کورٹ نے رپورٹس پبلک کرنے کا حکم جاری کردیا۔حکومت سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ ہمارا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور دوسری بات یہ کہ اس سے نیشنل سکیورٹی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے لیکن ہائی کورٹ نے اسے پڑھنے کے بعد بند لفافے میں واپس کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نیشنل سکیورٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جے آئی ٹی رپورٹ رکھنے لگا ہوں اور واٹس اپ گروپس پر وائرل کردوں گا، اس کے ہر صفحے پر دستخط ہے لیکن یہ وہ رپورٹ نہیں جو انہوں نے ریلیز کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں 6 لوگ تھے، ایک اسپیشل برانچ سے تھے جو سندھ حکومت کے زیر انتظام آتی ہے، دوسرے سی آئی ڈی سے تھے اور وہ بھی سندھ حکومت کے زیر انتظام ادارہ ہے، ایک آئی ایس آئی سے تھے جو وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، ایک انٹیلی جنس بیورو سے تھے، وہ بھی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، ایک پاکستان رینجرز اور ایک ملٹری انٹیلی جنس سے تھے اور یہ دونوں بھی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ادارے ہیں، اس جے آئی ٹی رپورٹ کے ہر صفحے پر ان چاروں کے دستخط ہیں اور سندھ حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والوں کے دستخط نہیں ہیں اور یہ چاروں اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس رپورٹ پر چار آدمیوں کے دستخط ہیں، اس میں دوستوں کے نام لکھے ہوئے ہیں، پہلے چھ نام میں سے ایک نام ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا بھی ہے، اس کے علاوہ فریال تالپور، عبدالقادر پٹیل، ڈاکٹر نثار مورائی، سینیٹر یوسف بلوچ اور شرجیل میمن کا بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو رپورٹ حکومت سندھ نے جاری کی ہے اس میں شروع کے چھ نام نکالے ہوئے ہیں اور یہ وہی بات ہے جو نبیل گبول صاحب کل رات کہہ رہے تھے کہ یہ رپورٹ نامکمل ہے۔ جس رپورٹ پر آئی ایس آئی، ایم آئی، رینجرز اور آئی بی کے دستخط ہیں، اس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل نے ملزم کو رزاق کمانڈو کو قتل کرنے کی ذمے داری سونپی کیونکہ اس نے قادر پٹیل کے کوآرڈینیٹر ایدھی امین کا قتل کیا تھا۔
عذیر بلوچ نے کہا کہ ملزم نے اصل رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ 2011 میں ذوالفقار مرزا کے استعفے کے بعد معاملات بگڑ گئے تو اویس مظفر ٹپی اور شرجیل میمن سارے کام مجھ سے کرواتے رہے۔
جو رپورٹ سندھ نے ریلیز کی ہے وہ بھی بہت تفصیلی 35صفحات پر مشتمل ہے لیکن اصل رپورٹ جس پر ڈیڈ لاک ہو گیا تھا، وہ 43صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس پر کسی کے دستخط نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بلاول بھٹو زرداری کی میڈیا سے گفتگو