medician

ہائی بلڈ پریشر :مرغن غذاؤں کی زیادتی اور ورزش کا نہ کرنا اس کا سبب بن رہا ہے

EjazNews

بلڈ پریشر یا خون کا دبائو انسانی جسم میں اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی پیچیدہ نظام کے تحت متوازن رکھا ہوا ہے۔ آپ کا دل جو خون کو انسانی جسم میں خون کی مختلف نالیوں میں پمپ کرتا ہے اور نالیوں میں خون کا دبائو نالیوں کی سختی پر انحصار کرتا ہے۔عمر کے ساتھ ساتھ اور غذا میں چکنائی کی زیادتی سے خون کی نالیوں کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے نالیوں میں تنائو بڑھ جاتا ہے اور دل کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے پریشر بڑھ جاتا ہے اس کو سمجھنے کے لئے ایک سادہ سی مثال اگر آپ گھر میں پودوں وغیرہ کو پانی دینے کے لئے ربر کا پائپ استعمال کریں اور اگر آپ پائپ کو دبا کر رکھیں گے تو پانی کی دھار پریشر بڑھ جانے کی وجہ سے دور تک جائے گی۔ بہت سے لوگوں کو تو اس کا پتہ بھی نہیں چلتا اور اچانک کسی معائنے کے دوران پتہ چلتا ہے کہ خون کا دبائو زیادہ ہے۔
دور جدید میں زندگی میں تنائو مرغن غذائوں کی زیادتی اور ورزش کا نہ کرنا اور پیدل نہ چلنا بھی بلند فشار خون کا سبب بن رہا ہے۔ بلند فشار خون کے 80سے 90فیصد مریضوں میں اس کی وجوہات کا علم نہیں ہوتا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ اس کا رجحان اکثر خاندانوں میں پایا جاتا ہے۔ جس طرح ذیابیطس کا مرض ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال بھی بلند فشار خون کا سبب بن جاتا ہے اس لئے کھانے میں نمک کا استعمال اعتدال سے کرنا چاہئے۔
بلند فشار خون کی چند ایک وجوہات:
خون کی بڑی نالی میں رکاوٹ جو دل سے نکلتی ہے۔
گردوں کی مختلف بیماریاں۔
انسانی جسم میں مختلف ہارمون کی کمی بیشی۔
عورتوں میں مانع حمل دوائوں کا استعمال وغیرہ۔
بلند فشار خون کی علامات:
اکثر معمول کے چیک اپ کے دوران صحت مند لوگوں میں دیکھا گیا ہے۔
کچھ لوگوں میں اس کی وجہ سے جو نقصانات یا Side Effectsہوتے ہیں جس کی وجہ سے دل کا کام نہ کرنا یا نظر کا کمزور ہونا۔
دل میں ہلکا ہلکا درد ہونا۔ (انجائنا)۔
اس کے علاوہ سر درد کا رہنا، چکر آنا اور چڑچڑا پن بڑھ جاتا ہے۔
جلدی تھک جانا اور نیند کا نہ آنا۔
کنپٹیوں پر دبائو محسوس ہونا۔
بعض مریضوں میں پیشاب کا زیادہ آنا اور اکثر رات کو زیادہ پیشاب کرنا گردوں کی خرابی میں ہوتا ہے۔
جانچ:
ECG
سینے کا ایکسرے جس سے دل کے بڑھنے کا پتہ چل سکتا ہے۔
خون میں نمکیات کی مقدار۔
خون میں چربی کی مقدار ۔
گردوں کے ٹیسٹ۔
خون میں شکر کی مقدار۔
پیچیدگیاں:
دل کا بڑھ جانا اور دل کا فیل ہو نا۔
سانس کا پھولنا خاص طور پر ورزش کے دوران یا رات کو سوتے میں اچانک گھبراہٹ ہونا اور سانس پھولنا۔
نظر کا کمزور ہونا۔
دماغ کی شریان کا پھٹنا۔
فالج کا اثر زبان پر ہونا۔ یا جسم پر ہونا بے ہوش یا دورے کی کیفیت بھی ہو سکتی ہے یہ تو تھیں چند چیدہ چیدہ علامات۔
علاج:
کہتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے دوائیں تو اپنے معالج سے معائنے اور ٹیسٹوں کے بعد ہی تجویز کی جاسکتی ہیں اس لئے بیماری کے علاوہ بھی ڈاکٹر سے معمول کا چیک اپ ضرور کرانا چاہئے۔ خاص طور پر چالیس سا ل کی عمر کے بعد تو پابندی سے دل، بلڈ شوگر، اور خون میں چربی کی مقدار کا چیک اپ پابندی سے کرواتے رہنا چاہئے۔ چند ایک احتیاطی تدابیر درج ذیل ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
ہمیشہ پابندی سے ورز ش کرتے رہنا چاہئے۔
غذا میں نمک اور چکنائی کا استعمال اعتدال سے کرنا چاہئے اور دیسی گھی کے بجائے تیل کا استعمال کریں۔
مناسب نیند کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے ضرور کرنی چاہئے۔
کوشش کریں غیر ضروری تنائو یا Tensionسے اجتناب کریں۔
بلڈ پریشر کی کمی نمک اور پانی کے کم پینے اور پانی کے انسانی جسم میں زیادہ اخراج سے ہوتی ہے ۔ اس کے لئے مناسب مقدار میں پانی اور نمکیات کا استعمال کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  دوسرے ہارٹ اٹیک سے کیسے بچا جائے؟