online class

آن لائن پڑھنے والوں امریکہ میں رہنا ہے تو آف لائن کورس میں بھی داخلہ لو

EjazNews

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں زیر تعلیم وہ طلبا جن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں انہیں امریکہ میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ نان امیگرنٹ ایف ون اور ایف ٹو طالب علم جن کی تمام کلاسز آن لائن ہو رہی ہیں وہ کورس مکمل کرنے کے لیے امریکہ میں نہیں رہ سکتے۔اگر طلبا فال 2020 (خزاں کے سیمیسٹر) کے دوران امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں ایسا کوئی کورس لینا ہوگا جہاں آف لائن کلاسیں جاری ہوں۔قواعد کی پاسداری نہ کرنے والوں کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئس کے مطابق ان یونیورسٹیوں کو جہان آن لائن اور آف لائن کلاسیں ہورہی ہے دیکھانا ہوگا کہ ان کے طالب ممکنہ حد تک تمام آف لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔امریکہ میں موجود وہ طالب علم جو ایسے پروگرامز میں داخل ہیں جہاں کلاسز آن لائن ہورہی ہے انہیں ملک چھوڑنا چاہیے یا دوسرے اقدامات کرنا چاہیے جیسا کہ کسی ایسے ادارے میں داخلہ لیں جہاں آف لائن کلاسز ہو رہی ہوں۔
اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے جو کہ ملک بدری ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ایسے طالب عملوں کو ویزا جاری نہیں کرے گی جو کہ ایسے سکولز یا پروگرام میں انرول ہیں جہاں تمام کورسز آن لائن ہیں اور نہ ہی یو ایس کسٹم ایند بارڈر پروڈیکشن کا ادارہ ان کو امریکہ میں داخل ہونے دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  سلگتا ہوامقبوضہ کشمیر، ظلم و جبر سہتے کشمیری، نہ جانے کب آزمائش ختم ہو گی