kartar pur

1883-84میں لاہور کی مذہبی زندگی

EjazNews

درج ذیل گوشوارے سے ضلع لاہور میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد (فی دس ہزار) ظاہر ہوتی ہے۔

مسلمان اور ہندو:
یہاں صرف اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ لاہور کے مسلمانوں اور ہندوؤں اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہب میں کوئی خاص فرق نہیں البتہ یہاں کے ہندو ہندوستان کے باقی علاقوں کے ہندوؤں کی طرح مذہبی رسوم سختی سے کار بند نہیں بلکہ بعض ہندوستانی منشی یہ دیکھ کر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں کے ہندو مشکیزوں سے پانی پیتے ہیں حالانکہ ہندو مذہب میں مشکیزے (مشک سے پانی پینے کی ممانعت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشکیزے کے لیے کھال مہیا کرنے کی غرض سے ایک جان قربان کرنا پڑتی ہے۔
سکھ مذہب کا مختصر تذکرہ:
ہندوستان کے اس علاقے میں سکھ مذہب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس سے پہلے اس مذہب کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اس لیے ہم یہاں اس کے مختصر تذکرے پر اکتفا کریں گے۔ سکھوں نے ہندومت کو چھوڑ کر یہ مذہب اختیار کیا ہے ۔ سکھ مذہب کی بنیاد بابا نانک نے پندرہویں صدی میں رکھی ۔ بابانا تک کے دو بیٹے سری چنداورلکشمی چند تھے جنہوں نے سکھ مذہب کے الگ الگ فرقے بنائے ۔ سری چند نے مذہبی زندگی گزاری اور ان کے پیرو کار جنہیں اداسی فقیر کہا جاتا ہے دنیاوی معاملات میں حصہ نہیں لیتے لکشمی چند نے دنیاوی زندگی بسرکی اور ان کے جانشین بیدی کہلاتے ہیں ۔ وہ کسی بھی سکھ کے گھر جا کر پانی پیسے طلب کر سکتے ہیں۔ انہیں مقدس شخصیت تصور کیا جاتا ہے البتہ وہ دنیاوی معاملوں میں بھر پور حصہ لیتے ہیں۔
بابا نانک کے جانشین:
بابا نانک کا 1539ء میں انتقال ہو گیا اور ان کے بیٹوں کے بجائے ان کے ایک چیلے انگہ کو بابا نانک کا جانشین مقرر کر دیا گیا۔ 1553 میں ضلع امرتسر کے ترن تارن پرگنے کے ایک مقام پر وفات کے بعد امرداس نامی شخص اس کا جانشین بن گیا جس نے جالندھر دوآب میں دریائے بیاس کے کنارے گوئندوال کو اپنی قیام گاہ بنالیا۔ اس کا انتقال 1575ء میں ہوا۔ اس کے پیروکاروں کو بھلے کہا جاتا ہے۔ امرداس کا جانشین اس کا داماد رام داس بنا جس کے بعد گورو کا منصب اس نسل میں وراثتا چلا آرہا ہے جنہیں سوڈھی کہا جاتا ہے۔ اگلے تین چار گورو کوئی نمایاں کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ ان کے بعد اورنگ زیب کے دور میں تیغ بہادر اپنے والد کرشن کا جانشین بنا۔ اورنگ زیب کو گوروتیغ بہادر کے مذہبی جوش و خروش کا پتا چلا تو اسے قتل کرادیا۔ تیغ بہادر کے بعد اس کا بیٹا گوبند سنگھ گورو بن گیا جس نے خوف یاجوش کی وجہ سے سکھوں کے مختلف فرقوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی جس میں اسے جزوی طور پر کامیابی حاصل ہوئی۔
گوبند سنگھ بحیثیت مصلح:
گوبند سنگھ نے سکھ مذہب میں کئی اصلاحات جاری کیں۔ اس نے سر پر بال اور داڑھی رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ سکھوں میں بالوں کی کاٹ تراش کی ممانعت ہے۔ اس نے بپتسمہ کرنے کے لیے پابل کی رسم کی بنیاد رکھی، تمباکو پینے پر پابندی لگا دی اور ہندوؤں کی طرح جینوں باندھنے کی رسم ترک کر دی ۔ سکھوں کے نام کے ساتھ سنگھ کا لفظ لگانا لازم قرار دے دیا گیا ۔ سات سال کی عمر میں سکھ بچے کی پابل کی رسم ادا کی جاتی۔ یہ رسم امرتسر کے گوردوارے میں انجام دی جاتی البتہ دیہات کے گرنتھیوں کو بھی یہ رسم ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔ اس موقع پر پروہت شکر اور پانی کا ایک پیالہ لے کر انہیں کرپان کے ساتھ ہلاتا ہے اور مذہبی کتاب سے جپ جاپ اور سویا نامی مقدس گانا گاتا ہے۔ وہاں موجود سب لوگ بھی اس کے ساتھ گاتے ہیں۔ اس کے بعد سکھ مذہب اختیار کرنے والا شخص یہ فقرے دہراتا ہے:”ہمارے رب کا نام سچا ہے، وہ ہر جگہ موجود ہے اسے کسی کا خوف نہیں، نہ وہ کسی سے نفرت کرتا ہے، وہ ہمیشہ رہنے والا ہے، ہمیشہ قائم و دائم – گورو کی طاقت سے کہو کہ خداسب سے بہترین ہے۔ وہ ازل سے ابد تک قائم رہے گا اور نانک نے سچ کہا ہے۔
اس کے بعد شکر اور پانی پانچ مرتبہ اس کی ہتھیلی پر ڈالا جاتا ہے اور وہ اسے پی جاتا ہے۔ اس دوران وقفو وقفوں کے ساتھ وہی الفاظ کہتا جا تا ہے:”واہ گور جی کا خاصہ واہ گورو جی کی فتح ۔‘‘ بعد میں شکر اور پانی کا محلول پانچ مرتبہ اس کے چہرے اور سر پر چھڑکا جاتا ہے اور اسے تلقین کی جاتی ہے کہ وہ لفظ ’’ک‘‘ سے شروع ہونے والی یہ پانچ چیزیں ہمیشہ اپنے پاس رکھے: 1۔ کیس (لمبے بال)2- کنگھا3- کڑا 4- کچھہ (زیر جامہ )5- کر پان۔ اس کے علاوہ اسے یہ بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ سر کے بال منڈوانے والوں (مونوں) تمباکو نوشی کرنے والوں (نریماروں)، دختر کشی کرنے والوں ( کڑی ماروں) اور ان پانچ فرقوں کے لوگوں سے ہمیشہ کے لیے تعلق ختم کرلے۔
1۔ منیا جنہوں نے گورو ارجن کو زہردیا۔
2۔ مسند یہ ظلم اور جبر کی وجہ سے مشہور ہیں۔
3۔ ما لیے جنہوں نے ہرگوبند کا احترام کرنے سے انکار کیا۔
4- کنگو شاہی جنہوں نے ابتدائی مرحلے میں سکھ مذہب اختیار کرنے سے انکار کیا اور
5- رام رائے جنہوں نے آسا کی وار میں تحریف کا ارتکاب کیا۔
اگر ان فرقوں کا کوئی شخص پہلے کسی تقریب میں موجود ہو تو اسے مٹھائی دے دی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت نہیں۔ گورو گوبند کے پیرو کارسکھ مذہب سے خارج ان فرقوں میں شادی نہیں کرتے۔
سکھ مذہب اختیار کرنے والے سب ہندو ہیں:
جن لوگوں نے سکھ مذہب اختیار کیا ہے، وہ سب ہندو برہمن کھتری دھوبی حجام اورجھیور ہیں ۔ سکھ مذہب میں داخل ہونے کے بعد سب کو ذات برادری سے قطع نظر برابری کا درجہہ مل جاتا ہے۔ انہیں گوشت کھانے اور شراب پینے کی اجازت ہے جس کے وہ پرانے عادی ہوتے ہیں۔ گورو گوبند نے خاکروبوں (چوہڑوں کو بھی سکھ مذہب میں داخل کیا البتہ دوسرے سکھ ان کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں اور نہ ہی انہیں برابری کا درجہ دیتے ہیں حالانکہ سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق یہ لوگ مساوی سلوک کے مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اورانہیں اب بھی مذہبی کہا جا تا ہے جس کا مطلب ہے مذہب تبدیل کرنے والا۔
سکھوں کی مذہبی کتابیں:
سکھ اپنی مذہبی کتابوں کا بہت احترام کرتے اور انہیں بڑی احتیاط کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اصل گرنت ضلع جالندھر میں کرتار پور کے گورو جواہرسنگھ کے پاس ہے جس سے دوسری جلدوں میں تصحیح اور نقل کی جاتی ہے۔ یہ کتاب سخت پہرے میں رکھی گئی ہے۔ اس میں بابا نا نک کے فرمودات کو جمع کیا گیا ہے۔ اسے ادی گرنتھ کہا جاتا ہے۔ دوسری کتاب گورو گوبند کی گرنتھ ہے۔ یہ کتابیں اور ان کے اقتباسات مذہبی عبادت کے اجتماع کے موقعے پر پڑھے جاتے ہیں اور سکھ ان کتابوں کے گرد نقد روپیہ اور غلہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹرٹرمپ نے ادی گرنتھ کا عالمانہ ترجمہ شائع کیا ہے۔
سکھوں کی لوٹ مار کی عادت:
گورو گوبند سکھوں کا پہلا لیڈر تھا۔ وہ مسلمانوں کے دیہات میں لوٹ مار کے دوران سکھوں کی قیادت کرتا، جس کے نتیجے میں اس کے پیرو کار جنگجو بن گئے۔ اس طرح سکھوں کو لوٹ مار اور غارت گری کی ایسی لت پڑ گئی کہ یہ عادت ان کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔ انگریزوں سے ان کی محبت کی بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے دور میں دہلی اور لکھنو میں خوب لوٹ مار مچائی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے پیکنگک کے گرمائی محل سے بیش قیمت نوادرات لوٹ لیے ہیں جواب سکھوں کے کئی دیہات میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ مسٹر سونڈرز نے 1869ء میں لکھا تھا جب کوئی نوجوان سکھ میرے پاس آتا ہے تو اس نے چینی ریشم کا ایک خلعت پہن رکھا ہوتا ہے جوشہنشاہ چین کے گل کے کھنڈرات سے ماجھے کی سرزمین میں لایا گیا ہے۔‘‘ 1884ء میں ایک ریٹائرڈ نان کمیشنڈ سکھ افسر کرنل بیڈن سے ملنے آیا تو اس نے بھی خلعت پہن رکھا تھا جو پیگینگ میں لوٹ مار کے دوران اس کے ہاتھ آیا تھا۔
کو کے
پچھلے چند برسوں میں سکھوں کا ایک نیا فرقہ پیدا ہو گیا ہے جس کو کوکا کہتے ہیں۔ اس فرقے کا بانی لدھیانے کا ایک بڑھئی رام سنگھ ہے۔ رام سنگھ کے بے شمار پیروکار ہیں اور یہ فرقہ اپنے بہترین تعلیمی نظام کی وجہ سے بہت مقبول ہوا ہے۔ ہر ضلع میں ایک یا دوصوبیدار مقرر کیے گئے ہیں جو براہ راست رام سنگھ کے ساتھ خط و کتابت کرتے ہیں اور اس کے احکامات پرعملدرآمد کرتے ہیں ۔ جنوری 1872ء میں لوگوں نے مالیرکوٹلہ پر حملہ کر دیا جس کے بعد اس فرقے کے کئی لیڈروں کو پھانسی دے دی گئی اور رام سنگھ کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ہی فرقہ زوال پذیر ہے۔ وہ نانک کے فرمودات پڑھتے ہیں لیکن گورو گوبند کی کتاب کا احترام نہیں کرتے ۔ کو کے خاص انداز میں ماتھے کے نچلے حصے تک پگڑی پہنتے ہیں جس کی وجہ سے آسانی کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی داڑھی کا انداز بھی مختلف ہے۔ اس فرقے میں پاہل کی رسم خفیہ طور پر ادا کی جاتی ہے۔ وہ بعض مقدس الفاظ مسلسل دہراتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ بالوں داڑھی اور تمباکو کے بارے میں سکھ قوانین پرسختی کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے گوشت اور شراب استعمال نہیں کرتے اور اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں ضلع لاہور میں ان کی زیادہ طاقت نہیں ہے البتہ لاہور پرگنے کے علاقے بھاسین میں ان کا خاصا زور ہے۔ انہوں نے لاہور شہر کے مستی گیٹ پر اپنی عبادت گاہ تعمیرکر لی ہے جہاں جمع ہوکر وہ گرنتھ پڑھتے ہیں۔
گلاب داس:
سکھوں کا ایک اور فرقہ ہے جس کا بانی قصور پر گنے کے گاؤں چھٹیانوالہ کا رہائشی گلاب داس تھا۔ یہ ہر ذات کے لوگوں کو اپنے فرقے میں داخل کر لیتے ہیں البتہ ان میں شادیاں نہیں کرتے۔ یہ خدا کی ذات کے قائل ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ انسان لافانی ہے اور وہ آخرکارخدا کی ذات میں ہی گم ہو جائے گا لیکن وہ اخروی زندگی پر ایمان نہیں رکھتے۔ اپدیس باس ان کی سب سے مقدس کتاب ہے۔ گلاب داس اب بھی زندہ ہے۔ جو چاہے مٹھائی لے کر اس کے پاس جاتا ہے اور وہ اسے اپنے فرقے میں داخل کر لیتا ہے۔ اس موقع پر سوہنگ دہراتے جاتے ہیں اوراس عقیدے کا اقرار کیا جاتا ہے کہ انسان لافانی ہے۔ ان کی ظاہری صورت اور لباس مخصوص نہیں ہے۔ یہ لوگ سائیں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور صاف ستھرے رہتے ہیں تمباکو نوشی سے پرہیز نہیں کرتے ۔ ان کا گورو جنسی بے راہروی کا شکار ہے لیکن اس کے پیرو کاراس پرکوئی اعتراض نہیں کرتے ۔ قصور پر گنے میں ان کی اکثریت ہے۔ لوگ محرمات کے ساتھ جنسی اختلاط کو معیوب نہیں سمجھتے۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کے جنگلات اور مویشی