shblifraz+zadi+shahazad

کچھ پائلٹس کے لائسنس میں بے ضابطگیاں تھیں لہٰذا 54 ایسے لوگوں کو فوری معطل کردیا گیا:علی زیدی

EjazNews

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں وزیر بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک مؤقف لانے کی کوشش کر رہی ہے کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل فروخت ہو رہا ہے تو ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ جتنے بھی قومی اثاثے ہیں ان پر مستقل مشاورت ہوتی ہے کہ کیسے ان سے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکے لہٰذا اس وقت محض مشاورت ہو رہی ہے۔ اس وقت تو امریکا میں کوئی گاڑی نہیں خرید رہا لہٰذا یہ کہنا انتہائی احمقانہ بات ہے کہ روزویلٹ فروخت ہو رہا ہے، کچھ نہیں فروخت ہورہا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے مینڈیٹ کے تحت ماضی میں ملک کے اداروں کو جس طرح سے تباہ کیا گیا تھا، اس کے خلاف تحقیقات شروع کیں، اسی طرح پی آئی اے اور سول ایویشن بھی ادارے ہیں، ہر انڈسٹری میں یہ کام شروع ہوا۔ ہمیں بے باضابطگیوں اور مشکوک چیزوں کی اطلاعات موصول ہوئیں اور پتا چلا کہ کچھ پائلٹس کے لائسنس میں بے ضابطگیاں تھیں لہٰذا 54 ایسے لوگوں کو فوری معطل کردیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری آرگنائزیشن کی تفصیلی فرانزک انکوائری شروع کی گئی۔
ان کا کہنا 2010 سے ایک نیا لائسنس کا نظام متعارف کرایا گیا جو کمپیوٹرائزڈ تھا لیکن اس میں فائر وال اور پاس ورڈ کے تحفظ کی سہولت موجود نہیں تھی، اس لیے یہ ساری بے ضابطگیاں ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب فرانزک انکوائری کمیشن نے اس کی تفصیلی جانچ کی گئی تو پتا چلا کہ 2010 میں آٹھ، 2011 میں 20، 2012 میں 28، 2013 میں پھر 20، 2014 میں 12، 2015 میں 25، 2016 میں 39، 2017 میں 46 اور 2018 میں 38 (مجموعی تعداد 236 بنتی ہے) اور یہ پلائٹس کی بے ضابطگیاں تھیں اور یہ مشکوک تھے، جب یہ انکشاف ہوا تو ان تمام پائلٹس کو معطل کردیا گیا۔ پہلے ایوی ایشن پالیسی کی ہر سال تجدید ہوتی تھی لیکن مارچ 2019 میں پانچ سال کے لیے نئی ایوی ایشن پالیسی آئی ہے، ایک محترمہ کہہ رہی ہیں کہ ہر 6 مہینے اور سال میں ہوتا ہے لیکن یہ ان کے زمانے میں ہوتا تھا کیونکہ جتنی دفعہ تجدید ہوتی ہے اتنی دفعہ اسپیڈ منی بھی ہوتی ہے، ہمارے ہاں اسپیڈ منی جیسا کوئی چکر نہیں۔یہ واضح ہو جائے کہ کوئی بھی ایسا پائلٹ جس پر کوئی شک ہو یا بے ضابطگی میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو، وہ معطل ہے، اسے جہاز اڑانے کی اجازت نہیں ہے، ہماری حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ ہم حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی پائلٹس ملک سے باہر دیگر ایئرلائنز میں بھی ہیں، ان پر بھی اگر کوئی شک تھا تو وہ واضح کردیا گیا ہے۔ سول ایوی ایشن نےانفارمیشن ٹیکنالوجی نظام کو اپ گریڈ اور مضبوط بنایا ہے، انتظامی اصلاحات کی ہیں جیسے ڈیجیٹل فنگر پرنٹنگ کی ہے اور ان کیمرہ ٹیسٹ ہوتا ہے، فائر والز مناسب بن گئی ہیں، آزادانہ پاس ورڈ بن گئے ہیں تاکہ انہیں کوئی ہیک نہ کرسکے۔ ان باضابطگیوں میں ملوث افراد کو بھی معطل کردیا گیا ہے جس میں سے سول ایوی ایشن کے 5 اہم عہدیدار ہیں جو سول ایوی ایشن لائسنسنگ اتھارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔ ہر ایک سے تفتیش ہو گی تاکہ یہ پتا چلایا جاسکے کہ ان بے ضابطگیوں میں کون شامل تھا اور مزید تفتیش جاری ہے۔ جتنے بھی ملوث افراد ہیں سب کو کٹہرے میں لایا جائے گا، کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر کسی کی سیاسی وابستگی ہے تو وہ بچ جائے گا، آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ اداروں کو تباہ کرنے میں اس ملک میں بیٹھے ہوئے سیاستدانوں کا بڑا ہاتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آج محدود وسائل کے باوجود ہم اس وبا پر قابو پانے کی پوزیشن میں ہیں:تانیہ ایڈروس

وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا ہم تمام مسافروں کو یہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ جو پائلٹس بھی جہاز اڑا رہے ہیں وہ جانچ کے عمل سے گزر چکے ہیں اور سفر کرنے والوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ جہاز اڑانے والے اس عمل سے گزر چکے ہیں۔حکومت قومی ایئرلائن کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کر رہی ہے۔دو گزشتہ حکومتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پی آئی اے کو پہنچائے گئے ناقابل تلافی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔