women_islam1

خواتین کےچند ایسے اُمور جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہیں

EjazNews

زیر نظر سطور میں ہم خواتین میں پائے جانے والے چند ایسے اُمور کا تذکرہ کر رہے ہیں جو دین کے برعکس ہیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہیں۔
عقیدہ:
عقیدے کے مخالف اُمور جو بکثرت خواتین میں پائے جاتے ہیں اور ان سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ ان میں سرفہرست، جادو ٹونا ہے۔ جادوگروں کے پاس آمدورفت کرنا، ان سے معاشرے و خاندان میں بگاڑ پیدا کرنے والے تعویذ کروانا، بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح شعائر دین کا استہزاء، مذاق اڑانا، دین دار خواتین و حضرات پر طنز و تشنیع کرنا اور غیر اللہ کے ناموں کی قسمیں کھانا، بھی دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح نحوست اور بدشگونی لینا اور غیر مسلم اقوام کے تہواروں مثلاً ہیپی نیو ائیر اور ویلنٹائن ڈے منانا اور بہت سی بدعات و خرافات میں شرکت کرنا بھی دیکھا گیا ہے۔ شادی بیاہ کی رسومات میں دینی اُمور کو بھول جانا اور موت و وفات پر نوحہ خوانی کرنا، یہ سب ایسے اُمور ہیں جو عقائد اسلام اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ خواتین ان سے پرہیز کریں۔
ارکانِ اسلام:
ارکان اسلام میں نماز و روزہ کے متعلق بہت سستی اور غفلت پائی جاتی ہے۔ نمازوں کو بے وقت پڑھنا یا خشوع و خضوع کے بغیر پڑھنا۔ روزوں میں سارا وقت کھانے پکانے اور دیگر مصروفیات میں صرف کر دینا جن کا رمضان سے کوئی تعلق نہ ہو۔
لباس و حجاب:
لباس کے متعلق بہت سی خامیاں اور بے حیائی کے اُمور موجود ہیں:
1۔تنگ لباس پہننا، گردن و کمر کو عریاں کرنا۔ باریک ترین لباس پہننا جس سے جسم کے تمام خدوخال واضح نظر آتے ہوں۔
2۔اگر لباس کے اوپر عبایا پہنا ہے تو وہ بہت تنگ، چست، بھڑکیلئے نقش و نگار موجود ہیں۔
3۔نمایاں ترین نظرآنے کے لئے مختلف رنگوں والے لینس (آنکھوں میں) استعمال کرنا۔
4۔نوجوانوں اور مردوں میں اپنی دلچسپی ابھارنے کے لئے میک اپ اور فیشن اختیار کرنا۔
5۔گھر سے نکلتے وقت پرفیوم اور دیگر خوشبویات استعمال کرنا۔ مردوں کی طرح بال رکھنا۔ بیوٹی پارلر میں جا کر بے پردگی، عریانی اختیار کرنا۔ وگ لگانا، اپنی بھوؤں کو باریک کروانا اور چہرے پر نقش و نگار کھدوانا اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنا بھی خواتین میں بکثرت موجود ہے اور یہ تمام اعمال خلافِ اسلام ہیں۔
انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خلاف دین معاملات:
آج کل خواتین میں درج ذیل اُمور بہت تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ اور یہ تمام اسلام اور قرآن و سنت کے برعکس اور منافی ہیں۔ ان سے اجتناب بہت ضروری ہے۔
1۔والدین اور رشتہ داروں سے بدسلوکی، بداخلاقی کرنا۔
2۔شوہر کی نافرمانی، گھر داری سے غفلت اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ نہ کرنا۔
3۔بے دین اور شرعاً و اخلاقاً بری زندگی گزارنے والے مرد سے شادی کرنا، اس کو پسند کرنا۔
4۔بے نماز شوہر اور بے دین اولاد کو نصیحت نہ کرنا، اس معاملے میں لاپرواہی برتنا۔
5۔اپنی بیٹی کو اس کی بلوغت کے مسائل کی تعلیم نہ دینا، اس کی اچھی تربیت اور اچھی بیوی بننے کی نصیحت نہ کرنا۔
6۔اپنی اولاد کی تربیت و پرورش کے لئے نوکروں، آیاؤں پر بھروسہ کرنا، خود غافل رہنا۔
7۔غیر مردوں کی مجالس میں شرکت کرنا، غیر محرم ڈرائیور کے ساتھ تنہا سفر پر جانا۔
8۔بغیر اخلاقی و شرعی وجہ کے شوہر سے طلاق طلب کرنا۔
9۔اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں داخل کرنا، گانے بجانے اور مخلوط محفلوں میں شرکت کرنا، کثرت سے لعن طعن کرنا، عورتوں کی محفلوں میں عریانی اور بے حیائی اختیار کرنا۔
10۔بغیر ضرورت کے غیر ممالک کا تنہا سفر کرنا، خصوصاً غیر اسلامی ممالک۔
11۔دینی معاملات بالخصوص خواتین کے متعلق اسلامی احکامات سے جان بوجھ کر لا علم رہنا۔
12۔پردے اور چہرے پر نقاب کے متعلق لاپرواہی برتنا۔
13۔فنکاروں، گانے بجانے والوں کا پرستار بننا، غیر اخلاقی سی ڈیز اور کیسٹ کو خریدنا۔
14۔انٹرنیٹ کی مادر پدر آزاد فحش ویب سائٹ کا وزٹ کرنا۔
اے مسلمان بہن! گناہوں میں پڑنے اور حرام کردہ افعال کو کرنے کے بہت سے دروازے ہیں۔ ان کی جان پہچان کرنا اور تمام معلومات رکھنا بہت ضروری ہے۔ تاکہ ان سے اچھی طرح اجتناب کیا جا سکے۔ یہ جان لیجئے کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ گناہوں سے آزادی کا راستہ توبہ و استغفار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اپنی اس مختصر سی چند روزہ زندگی میں خلوص نیت سے عبادت الٰہی اور رجوع الٰہی کی طرف توجہ کیجئے۔ تقوی، صدقہ و خیرات، اخلاقِ حسنہ کو اپنا شیوئہ زندگی بنا ڈالو اور تربیت اولاد اور معاشرے کی اسلامی بنیادوں پر ترویج کرنا اپنا نصب العین۔
تقریبات اور محفلوں کی برائیاں:
زیرنظر سطور میں ہم اپنے خاندان اور معاشرے میں منعقد کی جانے والی تقریبات اور پارٹیوں میں پائی جانے والی برائیوں اور منکرات پر نظر ڈال رہے ہیں۔ مقصد تحریر ان منکرات سے پرہیز کرنا اور عوام الناس کو خبردار کرنا ہے۔
1۔اول تو ہمارے ہاں جو تقریبات منعقد ہوتی ہیں ان کا کوئی دینی یا فلاحی مقصد کم ہی ہوتا ہے۔ بلکہ یہ اپنے اپنے نظریات اور میلانِ طبع کے مطابق ہوتی ہیں۔
2۔فضول خرچی اور اسراف کرنا، اپنے اسٹیٹس اور معیارِ زندگی کو ظاہر کرنے کے لئے۔
3۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں اکثر اوقات مالداروں اور اربابِ اختیار کو بلایا جاتا ہے۔ غریب افراد اور اپنے ہی خاندان کے مساکین کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
4۔مردوں اور عورتوں کی مخلوط مجالس، عورتوں کا بے پردہ مردوں میں آنا جانا بھی ایک بہت بڑی خرابی ہے۔
5۔شادی بیاہ کی تقریبات میں گانے بجانے والوں کو بلایا جاتا ہے۔ تصویروں اور کیمروں کی چمک دمک میں رقص و سرود کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔
6۔شادی کے خاص لباس میں بلا وجہ بلاضرورت ہزاروں روپے ضائع کرنا۔
7۔خواتین بے پردہ اور خوشبویات میں معطر ہو کر آتی جاتی ہیں۔
8۔خواتین میں سے بہت سی عورتیں صرف نمائش کے لئے مصنوعی بال (وگ) لگا کر آتی ہے۔ بے تحاشہ میک اپ کرنا، بھوؤں کے بال اکھاڑنا بھی بہت بڑی برائی ہے۔
9۔اکثر یہ تقریبات رات گئے تک چلتی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے بے شمار لوگ فجر کی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ یہ آج کل کی تقریبات کا ایک بہت برا پہلو ہے۔
10۔پڑوس اور گرد و نواح کے رہائشی افراد ان تقریبات سے بہت پریشان ہوتے ہیں۔ اونچی آواز میں گانے کی آواز آتی ہے۔ اور کبھی کبھار یہ تقریب اگر نام نہاد دینی محفل ہو تو پھر ساری ساری رات اونچی آواز میں نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔
11۔ہنی مون منانے کی رسم، شادی کے بعد فضول خرچی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اور یہ ہنی مون اکثر اوقات غیر اسلامی ممالک میں منایا جاتا ہے۔
12۔ولیمے اور نکاح کی محفلوں میں بے جا فضول خرچی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھوکے پیاسے کو کھلانے پلانے کی فضیلت