Lahore_village_1

1883-84گزیٹئر میں لاہور کے گاؤں(۱)

EjazNews

گاؤں کی تفصیل
ہر گاؤں میں عام طور پر ایک بڑا چوپال موجود ہوتا ہے جہاں گاؤں کے تمام لوگ روزانہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ گاؤں کے مکان مٹی کے گارے سے بنائے جاتے ہیں ۔ مٹی کے ان گھروندوں کے قریب جوہڑ ہوتا ہے۔ پانی کا تالاب اور مٹی کے گھروندے لازم وملزوم ہیں ۔ تالاب کا پانی مویشیوں کے پینے اور کپڑے دھونے کے کام آتا ہے اور بعض اوقات دیہاتی بھی اسے پینے کے لیے استعمال کر لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہر چوپال میں پیپل یا کوئی اور بڑا سایہ دار درخت ہوتا ہے جس کے نیچے موسم گرما میں دیہاتیوں اور مسافروں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ مذہبی رسوم اور عبادات کے لیے تکیہ یا مسجد بنائی جاتی ہے۔ گاؤں کے اردگردمویشیوں کے لیے چارے کے گٹھے اور گوبر کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں جنہیں کھیتوں میں کھاد کے طور پر ڈالا جاتا ہے۔ گاؤں کا داخلی حصہ صاف ستھرا ہوتا ہے البتہ گاؤں کے اردگرد پھیلے ہوئے کوڑے کرکٹ اور گوبر کے ڈھیروں کی وجہ سے فضا میں تعفن پھیلا رہتا ہے۔ اس وقت صحت و صفائی کے انتظامات نہایت ناقص بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ گاؤں کے تمام مکان اورصحن ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ اور ان کے بیچوں بیچ گندی اور بد بودارگلیاں ہوتی ہیں ۔ گندے پانی کے نکاس کے لیے کوئی انتظام نہیں ۔ گاؤں کے گردا گرکوئی چار دیواری تعمیر نہیں کی جاتی البتہ مکان اندر سے کشادہ ہوتے ہیں اور ان کی بیرونی دیواریں گلیوں میں ملتی ہیں۔
مکان:
گاؤں کے مکان خواہ وہ متمول کاشتکاروں ہی کے کیوں نہ ہوں مٹی کے گارے سے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ دریاؤں کی وادیوں میں گھاس پھوسں کے چھپر بنائے جاتے ہیں ۔ دوسرے مقامات پر چھتیں گارے سے تیار کی جاتی ہیں۔ گو بظاہر یہ مکان آرام دہ دکھائی نہیں دیتے لیکن واقعہ یہ ہے کہ گارے سے بنے یہ مکان گرمیوں میں بہت ٹھنڈے ہوتے ہیں اور ان میں پکے مکانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسودگی ملتی ہے۔ ہر مکان عام طور پر ایک یا دو تاریک کمروں پرمشتمل ہوتا ہے جن میں روشنی اور ہوا کے لیے صرف دروازہ لگایا جا تا ہے ۔ کمروں کے سامنے کشادہ صحن ہوتا ہے جہاں اہل خانہ دن بھر کام کاج میں مصروف رہتے ہیں ان کے ایک کونے میں گھر کی بوڑھی مالکن چرخا کاٹتی اور اس کی بہو اپنے شوہر کے لیے دوپہر کا کھانا تیار کرتی نظر آتی ہے جسے لے کر وہ کھیتوں میں جائے گی صحن میں بچے بھینسوں کو چارہ کھلاتے ہیں ان کا دودھ دوہتے ہیں اور مویشیوں کے گوبرکو اکٹھا کرتے ہیں۔ گھر کے تمام افراد رات کو مکان کی کھلی چھت پر سوتے ہیں۔
خوراک
کھیتی باڑی کرنے والے لوگ عام طور پر گھٹیا قسم کا اناج استعمال کرتے ہیں۔ باری دوآب نہر کا پانی ما مجھے میں پہنچنے سے پہلے لوگوں کو صرف شادی بیاہ کی تقریبات میں گیہوں کا آٹا کھانے کو ملتا تھا۔ اس وقت گندم دوسرے علاقوں سے خرید کر لائی جاتی اور اسے بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا۔ اب وسیع پیمانے پر گندم کاشت کی جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عنقریب پورے ملک میں گیہوں استعمال ہونے لگے گا۔ غلے کو پیس کر پانی کے ساتھ گوندها جاتا ہے اور اس طرح چپاتیاں تیار کر لی جاتی ہیں۔ چاول بہت مہنگا ہے اور عام لوگوں میں اسے خریدنے کی استطاعت نہیں۔ اسے دور دراز علاقوں سے یہاں لایا جاتا ہے۔ گوشت بھی کھایا جاتا ہے۔ لوگ بکری یاد نبے کا گوشت بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔ سبزیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر سرسوں کا ساگ بہت پسند کیا جاتا ہے۔ دیہاتی دودھ دہی اور مکھن بہت استعمال کرتے ہیں۔ دودھ کی عدم دستیابی کو بڑی بدقسمتی سمجھا جاتا ہے۔ گڑ اور شکر بھی بہت زیادہ کھائی جاتی ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے موقعوں پر اس کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ پر یہ ایک مہنگی چیز ہے اور اسے نہ صرف کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے بلکہ پانی میں ملا کر شربت بھی تیار کیا جاتا ہے۔ نمک ہر کھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ اسے مویشیوں کو بھی کھلایا جاتا ہے۔ گھی چپاتیوں کے ساتھ اور کھانے میں استعمال ہوتا ہے مختلف قسم کی دالیں بھی کھائی جاتی ہیں۔ کسان بہت زیادہ کھاتے ہیں کیونکہ نہیں کھیتی باڑی کے کام میں محنت مشقت کرنا پڑتی ہے۔ کھلی فضاؤں میں توانائی برقرار رکھنے کے لیے انہیں اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ دوپہر بارہ بجے سے پہل بمشکل کچھ کھاتے ہیں۔ اس کے بعد صرف رات کو کھاناکھایاجاتا ہے۔
لباس:
دیہات میں رہنے والے لوگ عام طور پر اپنی کپاس سے بنا کپڑا استعمال کرتے ہیں۔ صرف خوشحال طبقے کے لوگ انگریزی لباس پہنتے ہیں اور وہ بھی صرف شادی بیاہ تہواروں اور میلوں میں۔ کپڑا تیار کرنے والے برطانوی کارخانے دیسی جولاہوں جیسا مضبوط اور گرم کپڑا تیارنہیں کر سکے جو زیادہ دیر تک چل سکے۔ اہم کپڑوں میں کھدر، پنیسی اور دھوت وغیرہ شامل ہیں جنہیں سادہ یا رنگ کر پہنا جاتا ہے۔ مرد سر پر پگڑی باندھتے ہیں ۔ جسم پر چادر سردیوں میں سرخ کھیس اور ڈبا بانگی باندھی جاتی ہے جو دیہات میں تیار ہوتی ہیں ۔ گرمیوں میں کرتا اور سردیوں میں اون کا کمبل یا لونگی اوڑھی جاتی ہے۔ مسلمان ارغوانی یا نیلے رنگ کی لنگی اور سکھ پاجامہ پسند کرتے ہیں۔ عورتیں سر اور کندھوں کے اوپر سفید سرخ یا پیلے رنگ کا کڑھا ہوا دوپٹہ یا چادر اوڑھتی ہیں۔ ان کے کناروں پر سوئی سے کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ عورتیں کرتہ یا چولی اور رنگ دار پاجامہ پہنتی ہیں جن کے پائے تنگ ہوتے ہیں۔ یہ لباس سوئی کپڑے سے تیار کیا جا تا ہے۔ اس لباس کے اوپر عام طور پر گھگرا پہنا جاتا ہے جس کے کنارے
مختلف رنگ کے ہوتے ہیں۔ ہندو عورتیں سروں پر جوڑا باندھتی ہیں لیکن مسلمان عورتیں بالوں کو کنگھی کر کے شانوں پر ڈالتی ہیں۔
تفریح اور کھیل:
یہاں تفریح اور کھیل کے زیادہ سامان نہیں اور نہ ہی ان میں زیادہ دلچسپی لی جاتی ہے۔ لڑکے عام طور پرگلی ڈنڈا کھیلتے ہیں یا پتنگے اڑاتے ہیں۔مرد لکڑی کے ڈھیل سے ورزش کرتے ہیں۔ ماجھے کے جٹ بھاری وزن اٹھانے اور انہیں دور پھینکنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ شادی بیاہ اور میلوں میں سائونچی کا کھیل بہت مقبول ہے۔ اس کے لیے کھلی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں کھلاڑی دو دائروں کی شکل میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا کھلاڑی دائرے سے نکل کر دوسرے دائرے کے کھلاڑیوں کے پاس جاتا ہے اور انہیں ہاتھ لگا کر واپس آتا ہے۔ اس دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑی اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کھلاڑی کا تعاقب کیا جاتا ہے وہ مخالف کے سینے پر دوتھپڑ مارتا اور دوسرے حربے استعمال کرتا ہوا دائرے سے واپس آنے کی کوشش کرتا ہے۔ لاہور اور اس کے نواح میں دنگل اور کشتیاں بہت مقبول ہیں۔ ان کشتیوں کے قواعد وضوابط انگلستان کی کشتیوں سے مختلف ہیں اور یہاں صرف جسم کے بالائی حصے پر حملہ کرنے کے برطانوی قانون کے برعکس پورے جسم پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ بڑودا گا ئیکواڑ اس کھیل کے بڑے سر پرست ہیں اور لاہور کے کئی پہلوان ان کے ہاں ملازم ہیں۔ بعض اوقات وہ واپس آ کر پوری دنیا کے پہلوانوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ دنگل کے موقع پر تماشائیوں میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے اور فاتح پہلوان ڈھول کی تھاپ پر میدان میں چکر لگاتا ہے۔ اس موقع پرفاتح کے لیے رقم بھی جمع کی جاتی ہے۔ مینڈھوں ،بٹیروں اور مرغوں کی لڑائیاں بھی کرائی جاتی ہیں جن سے بڑے بوڑھے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ ان مقابلوں کو مقامی باشندے بہت بڑی تعداد میں دیکھتے ہیں۔ شرطیں باندھنے اور جوا کھیلنے کی عادت عام ہے۔یہاں تک کہ معززین بھی جوا کھیلتے اور شرطیں باندھتے ہیں۔
موسیقی گانا اور رقص:
مقامی باشندوں کو موسیقی گانے اورر قص سے بے حد رغبت ہے۔ رقص کے لیے ناچنے والی پیشہ ورلڑکیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں لیکن یہ رقص اس قدر بے جان ہوتا ہے کہ یورپی باشندے اس میں کوئی بھی دلچسپی نہیں لیتے۔ یہاں کئی قسم کی موسیقی ہے لیکن یہ موسیقی ہمارے کانوں کو بھلی معلوم نہیں ہوتی ۔ ڈھول کو ایک ہی انداز میں مسلسل بجاتے رہتے ہیں البتہ مقامی باشندوں میں اس کی تھاپ سے زبردست جوش وخروش پیدا ہوتا ہے۔ الغوزے کے ساتھ گایا جاتا ہے۔سرود ،بانسری اور وائلن کی کئی قسمیں ہیں لیکن یہاں ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ کسانوں میں مرزا صاحباں اور وارث شاہ کی ہیر بہت مقبول ہے۔ اول الذکر میں مرزا اور ایک جٹ مسلمان عورت صاحباں کے عشق کا تذکرہ ہے۔یہ ضلع منٹگمری کے رہنے والے تھے۔ اس قصے کے مطابق مرزا صاحباں کو لے کر بھاگ گیا۔ صاحباں کے والدین اور رشتے داروں نے ان کا تعاقب کر کے مرزا کو مار ڈالا۔ دیہاتی لوگ اس قصے کو بھرے مجمع میں سن کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دوسرا قصہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ یہ ضلع جھنگ کی ہیر اور رانجھے کی داستان عشق ہے جن کا تعلق ایک ہی قبیلے سے تھا۔ رانجھے کو ہیرسے عشق تھالیکن ہیر کے والدین نے اس کی مرضی کے خلاف اسے ایک اور آدمی کے ساتھ بیاہ دیا۔ آخر کار ہیر وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ مقامی باشندے جذبات سے عاری ہیں لیکن ان دونوں قصوں میں ان کی گہری دلچسپی اس دعوے کی تردید ہوتی ہے۔
باہمی امداد:
مقامی باشندوں میں مصیبت کے وقت اکٹھے نہ ہونے کا رجحان بہت بڑی کمزوری ہے البتہ بعض موقعوں پروہ ایک دوسرے کی بے دریغ امداد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اس توقع کے ساتھ دوسروں کی مدد کرتے ہیں کہ دوسرے بھی وقت آنے پر ان کی مددکریں گے ۔ مثال کے طور پر چھت اور کنوئیں پر بھاری شہتیر ڈالنے ،آگ بجھانے کنوئیں میں گرے ہوئے مویشی کو باہر نکالنے اور شادی بیاہ اور موت کے وقت ایک دوسرے کی فوری امداد کی جاتی ہے۔ شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضے کا بھی انتظام کیا جاتا ہے جو شادی کے موقع پرلوٹایا جاتا ہے۔ لیکن اگر آگ لگنے سے دوسرا گاؤں خالی ہو جائے یا قحط اور بیماری کی مصیبت آن پڑے تو اس صورت میں صرف رشتے داروں اور برادری کے لوگوں سے ہی امدادکی توقع کی جاسکتی ہے۔
خواتین کی حیثیت:
زراعت پیشہ لوگوں کی بیویوں کو اپنے شوہروں کے جیون ساتھی سے زیادہ گھریلو خادماؤں کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ وہ صبح سے رات گئے تک گھر کی صفائی ستھرائی ،اناج پیسنے، دودھ دوہنے ،دودھ بلونے مکھن نکال کر اس سے گھی بنانے زمینوں میں کام کرنے والوں کے لیے کھانا پکا کر کھیتوں میں پہنچانے ،پانی بھرنے ،کپڑے کے لیے روئی کات کر دھاگہ بنانے، کپڑے سینے، پودوں سے کپاس اتارنے اور سبزیاں اکٹھی کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔ فصل کی کٹائی کے موقع پروہ روزمرہ استعال کے لیے غلہ الگ کرتی ہیں، کھانا پکانے کے لیے گوبر سے اپلے بناتی ہیں اور اناج کو پیس کر کسی بڑے گاؤں میں لے جاتی ہیں اور آٹے کے عوض نمک، مرچ اور دوسری چیز میں حاصل کرتی ہیں۔ دیہات میں غیر شادی شدہ کسان شاذ و نادر ہی ملے گا کیونکہ بیوی کے بغیر اس کے کھیتوں کا کام اور گھر کا انتظام نہیں چل سکتا۔ اوپر بیان کیے گئے فرائض کے علاوہ گھر کی جمع پونجی بھی اس کے پاس ہوتی ہے اور وہ شوہرکو فضول خرچی سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتی ہے۔ شادی بیاہ کا انتظام بھی اسی کے سپرد ہوتا ہے۔ چالاک بیویوں کے شوہران کی دل جوئی کاممکن سامان کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ظہیر الدین محمد بابر کی ہندوستان فتح کیلئے پیش رفت کے حالات