hajj-2019

حج، عمرہ اور جہاد کی فضیلت

EjazNews

1۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک، درمیان والے عرصے کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے۔ اور حج مقبول کا ثواب صرف اور صرف جنت ہے۔ (صحیح بخاری)۔
2۔پیارے نبی ﷺنے فرمایا: ’’رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے، یا میرے ساتھ کی طرح ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
3۔سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: ’’ایک شخص یوم عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺکے پیچھے سوار تھا، وہ ادھر ادھر خواتین کو دیکھنے لگا، رسول اللہ ﷺنے اسے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے! یہ ایسا دن ہے جو شخص یہاں اپنی آنکھوں، کانوں اور زبان پر کنٹرول کرے گا تو اس کو بخش دیا جائے گا‘‘۔ (مسند احمد)۔
4۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص صبح کرے اور کسی کو (دورانِ حج) گالی نہ دے، فاسقانہ عمل نہ کرے تو وہ ایسے لوٹے گا جیسے آج ہی وہ پیدا ہوا ہے یعنی گناہوں سے بالکل پاک‘‘ (صحیح بخاری)
5۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جس شخص کے قدم اللہ کی راہ میں خاک آلود ہوں تو انہیں جہنم کی آگ نہ چھو سکے گی‘‘ (صحیح بخاری ۲۸۱۱)۔
6۔رسول اکرم ﷺنے فرمایا: ’’بے شک جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘ (صحیح بخاری)
7۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ایک دن رات کا پہرہ دینا پورے مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر وہ مر گیا تو اس کا اجر و ثواب جاری رہے گا، اس کا رزق بھی (جنت میں) جاری رہے گا اور وہ (قبر کے) فتنوں سے محفوظ بھی ہو گا‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
8۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص اللہ سے صدقِ دل سے شہادت کا طلبگار ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقامات تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر کیوں نہ فوت ہو جائے‘‘ (صحیح مسلم:۱۹۰۹)
9۔سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو جہاد کی برابری کرنے والا ہو؟ آپ ﷺنے فرمایا: ایسا کوئی عمل نہیں ہے‘‘۔ وہ صحابی عرض کرنے لگا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو سیدنا ابوہریرہؓ نے فرمایا: وجہ یہ ہے کہ مجاہد کا گھوڑا بڑے بڑے طویل سفر کرتا ہے، اتنی ہی نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں۔
10۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجاہد کی مثال ایسے ہے کہ جس طرح کوئی روزے دار ہو، قیام اللیل کرنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون جہاد کرنے والا ہے۔ اور مجاہد فی سبیل اﷲ کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیئے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت دے گا یا وہ اجر اور غنیمت کو لے کر واپس آئے گا‘‘۔ (صحیح بخاری ۲۷۸۷)۔
11۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو بندہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ کبھی دوبارہ دنیا میں نہیں آنا چاہتا اگرچہ اسے ساری دنیا و ما فیہا کی دولت بھی ملتی ہو۔ سوائے شہید کے، اس کو شہادت کے وقت اس قدر انعام و اکرام ملے گا کہ وہ چاہے گا کاش میں دنیا میں دوبارہ جاتا اور دوبارہ شہید ہوتا‘‘ (صحیح بخاری۲۸۹۵:)۔
12۔سیدنا براءء سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺکے پاس تشریف لایا اور اس نے لوہے کا لباس پہنا ہوا تھا، عرض کی اے اللہ کے رسولﷺمیں جہاد کروں یا اسلام قبول کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’پہلے اسلام قبول کرو پھر قتال کرو‘‘۔ وہ مسلمان ہو گیا، لڑائی میں حصہ لیا، شہید ہو گیا۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’عمل بہت کم کیا اور اجر بے پناہ دیا گیا‘‘۔ (صحیح بخاری:۲۸۰۸)۔

یہ بھی پڑھیں:  اجروثواب کے دروازے