umro_ayyar

عمرو پر خاص عنایت

EjazNews

ایک دن امیر حمزہ مقبل اورعمروچھت پر بیٹھے باتیں کررہے تھے اور بازار کی رونق دیکھ رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ہر طرف سے آرہے ہیں اور شہر سے باہر چلے جاتے ہیں۔ یہ حیران ہوئے کہ اتنے بہت سے لوگ شہر سے باہر کیوں جارہے ہیں۔ امیر حمزہ نے عمرو سے کہا۔ ” ذرا پوچھ کر تو آو یہ لوگ کہاں جارہے ہیں۔ عمرو چھت پر سے اتر ا نیچے جاتے ہوئے لوگوں کو روک کر پوچھا کہ آپ لوگ کہاں جارہے ہیں۔ لوگوں نے عمرو کو بتایا کہ شہر سے باہر میلہ لگا ہے۔ میلے میں گھوڑوں کے سوداگر آئے ہوئے ہیں اور طرح طرح کے گھوڑے بکنے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ ایک سے ایک گھوڑا دیکھنے کے لائق ہے۔ عمرو نے واپس آ کر امیر حمزہ کو لیا کہ شہر سے باہر بہت اچھے اچھے گھوڑے آئے ہوئے ہیں اور یہ لوگ ان گھوڑوں کو دیکھنے جارہے ہیں۔ امیرحمزہ کو بچپن سے گھوڑوں کا شوق تھا۔ عمرواور مقبل کو ساتھ لیا اور وہ بھی اسی طرف چلے جہاں لوگ جارہے تھے۔ آخر اس جگہ گئے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ واقعی کیا خوبصورت گھوڑے ہیں ایک سے ایک اعلیٰ نسل کا گھوڑا موجود تھا کہ ان کو دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا۔ یہ تینوں گھوڑوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ انہوں نے دیکھا کہ مخمل کے شامیانے کے نیچے ایک خوبصورت گھوڑا زنجیروں سے بندھا ہوا ہے۔ امیر حمزہ نے گھوڑوں کے سوداگر سے پوچھا کہ اس گھوڑے کو کیوں باندھ رکھا ہے۔ سوداگر نے کہا۔ ”اگراسے نہ باندھوں تو یہ آدمیوں کونہ آنے دے۔ آج تک اس گھوڑے پر کسی نے سواری نہیں کی اپنے قریب کسی کو آنے نہیں دیتا“۔ امیر حمزہ نے کہا پھر بھی اتنے خوبصورت گھوڑے کو ایسے تو نہیں باندھنا چاہئے۔ سوداگر نے کہا ”اگر اس گھوڑے پر کوئی سواری کرے تو میں اس کو یہ گھوڑا مفت دے دوں اور پیسے بھی نہ لوں“عمرو نے کہا۔ ”ایسے تو سب ہی کہتے ہیں۔ بھلا آپ اپنا گھوڑا مفت کیسے دے دیں گے۔ کہتے تو سب ہیں، کرتا کوئی نہیں۔سوداگرنے کہا۔ ”میں ٹھیک کہہ رہا ہوں“ عمرو نے کہا ” گھوڑا اگر مجھے مفت دے دوتو میں اس پر سوار ہو کر خوب پھروں۔ سوداگر نے کہا۔ اگر یہ بات ہے تو اس پر سوار ہوجاو¿۔ میں یہ گھوڑا نہیں مفت دیتا ہوں۔ عمرو نے سب کی طرف منہ کر کے کہا۔ ” یارو گواہ رہنا۔ یہ خود اس بات کو کہہ رہا ہے کہ گھوڑا مجھے مفت دیتا ہے ایسانہ ہو کہ بعد میں گھوڑے کی قیمت مانگے بیٹھ جائے۔سوداگر نے بھی کہا۔ سب لوگ گواہ رہنا یہ لڑکا اپنی جان دینے کے لئے تیار ہے۔ اگر گھوڑا اسے ماردے تو کوئی مجھ سے یہ نہ کہے کہ میں نے اس لڑکے کو مروایا۔ سب نے کہا۔”ہاں، بھلا اس میں آپ کا کیا قصور ہے آپ تو سمجھارہے ہیں یہ خودہی نہیں سمجھتا اگر مرے گا تو اپنی کرنی سے مرے“ عمرو گھوڑے کے قریب گیا تو گھوڑے نے لات جمادی۔ عمرو فوراًاٹھ کھڑا ہوا اس نے امیرحمزہ کے پاس آ کر کہا کہ میری بات ہے کہ میں تو گھوڑے پرسوار ہوں اور آپ کھڑے ہیں۔ امیرحمزہ نے کہا کھڑا کیوں رہوں ابھی گھوڑے پرچڑھتا ہوں۔ یہ کہ کر امیر حمزہ گھوڑے کی طرف بڑھے۔جتنی زنجیروں سے گوڑا بندھا ہوا تھا اس نے ساری زنجیریں کھول دیں۔ گھوڑے کی آنکھوں پر جواندھیری چڑھی ہوئی تھی وہ بھی اتاردی۔ گھوڑے کی آنکھیں کھلیں تو اس نے اپنے قریب آدمی کو دیکھا۔ گھوڑے نے اپنا منہ کھولا اور امیر منہ کی طرف کاٹنے کو بڑھا۔ امیر حمزہ نے گھوڑے کا کان پکڑا اور اتنے زور سے اس کے سر پر مکہ مارا کہ گھوڑا کانپ گیا اور سر جھکا دیا۔ اب امیرحمزہ نے گھوڑے کی زین منگوائی اور گھوڑے کا کان پکڑ کر اس کی پیٹھ پرزین کس دی۔ اب گھوڑا سواری کے لئے تیار تھا۔
امیر حمزہ نے گھوڑے کو شامیانے سے نکالا اور اس پر سوار ہو گئے۔امیر حمزہ نے گھوڑے کو قدم لگایا۔ مگر گھوڑے نے اپنے آپ کو آزاد یکھا اور میدان کی ہوا کھائی تو صحرا کی طرف بھاگ پڑا۔ امیر حمزہ نے گھوڑے کو آہستہ آہستہ چلانا چاہا مگرگھوڑاتو آج آزاد ہوا تھا اور اتنے دنوں تک بندھنے کے بعدآج کھلا تھاوہ بھلا کیسے رکتا۔ گھوڑ ابڑی تیزی سے بھاگا۔ اس نے کسی اشارے کا خیال تک نہیں کیا اور بھاگتا چلا گیا۔ امیر حمزہ گھوڑے کی پیٹ پر جم کر بیٹھ گئے اور گھوڑا اپنی پوری رفتار سے بھاگتارہا۔ تمام دن میں پچاس، ساٹھ کوس تک گھوڑا بھاگا۔ ابھی سورج ڈوبنے میں کچھ دیر تھی کہ گھوڑا ایک خندق کے پاس جا پہنچا۔ گھوڑا چھلانگ لگا کے خندق کو پار کر گیا مگر خندق اتنی چوڑی تھی کہ گھوڑے کی کمرٹوٹ گئی اور وہ وہیں گر کر مر گیا۔
امیر حمزہ گھوڑے پر سے اترے۔ چاروں طرف دیکھا۔ دور تک ریتی ہی ریت یہ صحراتو انہوں نے پہلے بھی دیکھاکبھی دیکھا ہی نہ تھا نہ ہی ان کواندازہ تھا کہ کس طرف جانا ہے۔ اب گھوڑا تو تھا نہیں۔ پیدل چلنا شروع کردیا۔ چلتے چلتے پاو¿ں میں چھالے پڑ گئے اور تھکن سے چور ہو گئے تو ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور خدا سے دعا مانگنے لگے۔ اچانک ایک سوارآتا دکھائی دیا اس نے چہرے پر سبز رنگ کا نقاب ڈال رکھا تھا۔ امیر حمزہ کے پاس آ کر سوار گھوڑے سے اترا اور کہا: ”خدا کے حکم سے ہم نے تم پر عنایت کی۔ کوئی پہلوان تمہارے برابر نہ ہو سکے گا۔ اس پتھر کے نیچے ایک صندوق ہے جس میں مختلف پیغمبروں کے اسلحہ ہیں۔ اس کو اپنے جسم پرسجا لو اور اس گھوڑے پر سوار ہوجاو¿۔ یہ اسحق ؑنبی کا گھوڑا ہے اور اس کا نام قیطاس ہے۔ امیر حمزہ اس گھوڑے پر سوار ہوئے۔ نقاب پوش سے نام پوچھا تو انہوں نے اپنانام خضر بتایا اور غائب ہوگئے۔ امیر حمزہ کی ساری تھکن دور ہوگئی اور پہلے سے زیادہ طاقت آگئی تھی وہ بہت خوش ہوئے اور گھر کی طرف چلے۔
اب اس طرف کی سنیئے۔ عمرو نے جب دیکھا کہ اس کی شرارت بہت زیادہ مہنگی پڑی گھوڑا تو ایسے بھاگا جیسے اس کو پر لگ گئے ہوں۔ اب عمرو پچھتارہاتھا کہ میں نے امیر حمزہ کو اس گھوڑے پر سوار ہونے کو کیوں کہا۔ اب اگر اس گھوڑے نے امیر حمزہ کو گرادیا تووہ مرجائیں گے۔ وہ جتنا سوچتا اتنا پریشان ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا اس نے مقبل سے کہا میں حمزہ کی تلاش میں جارہا ہوں اور اسی طرف دوڑ پڑا
جس طرف گھوڑ احمزہ کو لے کر گیا تھا۔ کافی دیر تک چلتا رہا۔ چلتے چلتے پاو¿ں میں چھالے پڑگئے ٹھوکریں لگ لگ کر ناخن اتر گئے اور تھکن سے چور ہو گیا۔ پیاس کے مارے برا حال ہو گیا۔ اب اس سے چلا نہیں جارہا تھا تھک کر گر پڑا اور بیہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو ایک شخص کو دیکھا جس نے منہ پرنقاب ڈال رکھا تھا۔ انہوں نے عمرو سے کہا۔ ”خدا کے حکم سے ہم نے تم عنا یت کی۔ رہتی دنیا تک تیرا نام رہے گا۔ بڑے بڑے عیار اور چالاک لوگ تجھ سے خوف کھائیں گے۔ کوئی تجھ سے آگے نہ چل سکے گا اور بھاگنے میں کوئی تمہاری برابری نہ کر سکے گا ۔عمرو نے کہا۔”آپ نے اتنی عنایت کی۔ اپنانام تو بتاتے جایئے۔ انہوں نے کہا۔ ”میرانام خضر ہے یہ کہا اور غائب ہوگئے۔ عمرو نے اٹھ کر دیکھا تو پہلے سے چوگنی طاقت ہوگئی تھی۔ دوڑ کر دیکھا تو دوڑنے کی رفتار اتنی ہی تھی کہ اس رفتار سے کوئی بھاگ نہیں سکتا تھا۔ عمرو نے خدا کا شکر ادا کیا اور امیر حمزہ کی تلاش میں چل پڑا۔ اب وہ بہت تیز چل سکتا تھا اس لئے تھوڑی دیر میں بہت دور گیا۔ اس نے دیکھا کہ امیر حمزہ بڑی شان سے کالے رنگ کے گھوڑے پر سوار آرہے ہیں۔ عمرو نے امیر حمزہ کی پیشانی دیکھی تو حیران ہو کر پوچھنے لگا۔ ”اوعرب وہ سوداگر کا گھوڑا کہاں بیچا اور کس کو مار کر اس کا اسلحہ اور گھوڑالے آ ئے۔ امیر حمزہ نے کہا یہ مارنے کا کام تمہارا ہے میرا نہیں، مجھے تو یہ سب چیزیں حضرت خضر نے دی ہیں،عمرو نے کہا مجھے تو یقین نہیں آرہا، مجھے تو جب یقین آئے گا جب یہ گھوڑا مجھ سے آگے نکل جائے گا۔ امیرحمزہ نے کہا ٹھیک ہے دوڑ کر دیکھ لو ،عمرو نے کہا کچھ شرط باندھو۔ امیر حمزہ نے کہا ”تم جوشرط ہو، مجھے منظور ہے۔ عمرو نے کہا ”اگر میں اس گھوڑے سے آگے نکل جاو¿ں تو اس اونٹ کو مجھے دے دینا اور اگر یہ مجھ سے آگے نکل جائے تو میرا باپ ایک سال تک تمہارے باپ کے اونٹوںکو مفت چرائے گا۔ امیر حمزہ نے کہا۔ ”مجھے منظور ہے۔ اب امیر حمزہ نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور عمر بھی ان کے ساتھ دوڑا۔ دونوں ساتھ ساتھ دوڑ رہے تھے کوئی بھی آگے پیچھے نہیں ہورہا تھا۔ امیر حمزہ بڑے حیران ہوئے اور عمرو سے کہنے لگے۔ یہ تم اتنے تیر کیسے دوڑ رہے ہو ،عمرو نے کہا کسی نے عنایت کی ہے۔ امیر حمزہ نے کہا کس نے‘ عمرو نے کہا ” جس نے تم پر کی ہے۔ یہ سن کر امیر حمزہ بہت خوش ہوئے اور دونوں خوشی خوشی گھر کی طرف چلے۔
خواب عبدالمطلب کو بھی اس بات کی خبر ہوئی تھی کہ امیر حمزہ ایک نئے گھوڑے پر سوار ہوکر گئے ہیں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ شہر سے باہر کھڑے انتظار کررہے تے تو انہوں نے امیر حمزہ اورعمرو کو آتے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔
مقبل نے جب دیکھا کہ امیرحمزہ اور عمرو پر عنایت ہوئی ہے اور میں ویسے کا ویسا ہی رہ گیا ہوں تو اس نے سوچا کہ یہاں سے چلا جانا چاہئے۔ صحرامیں پہنچ کر اس پر بھی عنایت ہوئی اور اسے تیر اندازی میں سب سے بہتر اور بڑھ کر بنادیا گیا ۔مقبل واپس آیا تو عمرو اور حمزہ اس کے لئے پریشان ہورہے تھے۔ اس نے اپنے بارے میں بتایا تو دونوں بہت خوش ہوئے اور تینوں دوست پہلے کی طرح کی خوش رہنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کا کمال