حضرت داﺅد علیہ السلام (۶)

EjazNews

عمر مبارک:
مشہور محدث حاکم نے اپنی کتاب مستدرک میں ایک روایت نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عالم بالا میں جب حضرت آدم کی صلب سے ان کی ذریت کو نکال کر ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے ایک خوبصورت چمکتی ہوئی پیشانی والے شخص کو دیکھ کر دریافت کیا، پروردگار یہ کون شخص ہے ؟ جواب ملا تمہاری ذریت میں سے بہت بعد میں آنے والی ہستی داﺅد ہے۔ حضرت آدم نے عرض کیا اس کی عمر کیا مقرر کی گئی ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ساٹھ سال۔ حضرت آدم نے عرض کیا ۔ الٰہی میں اپنی عمر کے چالیس سال اس نوجوان کو بخشا ہوں، مگر جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آپہنچا تو آدم علیہ السلام نے ملک الموت سے کہا کہ ابھی تو میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتہ موت نے کہا۔ آپ بھول گئے۔ آپ نے اس قدر حصہ عمر اپنے ایک بیٹے داﺅد کو بخش دیا ہے۔الخ۔ (مستدرک جلد ۲ کتاب التاریخ)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داﺅد کی عمر سوسال کی ہوئی اور تورات کے باب سلاطین اور تواریخ میں ہے کہ حضرت داﺅد نے کہن سالی میں انتقال فرمایا ، اور اسرائیلیوں پر چالیس سال حکومت کی۔
”اور داﺅد بن ایشی نے سارے اسرائیلیوں پر سلطنت کی اور وہ عرصہ جس میں اس نے اسرائیل پر سلطنت کی چالیس برس کا تھا اس نے حبرون میں سات برس اور یروشلم میں پینتیس برس سلطنت کی اور اس نے بڑھاپے میں خوب عمر رسیدہ ہو کر اور دولت وعزت سے آسودہ ہو کر وفات پائی۔(تواریخ ۱باب ۹۲)۔
اورجعفر بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت داﺅد نے ستر سال حکومت کی ۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد کا انتقال اچانک سبت کے دن ہوا وہ سبت کے روز مقررہ عبادت میں مشغول تھے اور پرندوں کی ٹکڑیاں پرے باندھے ہوئے ان پر سایہ فگن تھیں کہ اچانک اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔ (فیض الباری جلد ۲)
مدفن:
تورات میں مذکور ہے:
اور داﺅد اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا، اور داﺅد کے شہر صیہون میں دفن ہوا۔
بصائر:
حضرت داﺅد علیہ السلام کی مقدس زندگی کے حالات و واقعات نے ہمارے لیے جن بصیرتوں اور عبرتوں کوپیش کیا ہے وہ اگرچہ بہت وسیع دائرہ رکھتی ہیں تاہم چند اہم حقائق اور بیش بہا نتائج خصوصیت کے ساتھ جاذب توجہ ہیں۔
جب خدائے تعالیٰ کسی ہستی کو اولو العزم بنانا اور اس کی شخصیت کو خاص فضائل سے سرفراز کرنا چاہتا ہے تو اس کے فطری جوہروں کو شروع ہی سے چمکا دیتا ہے اور اس کے ناصیہ قسمت ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح روشن نظر آنے لگتی ہے۔ چنانچہ حضرت داﺅد کو جبکہ پیغمبر اور اولوالعزم رسول بنانا تھا تو زندگی کے ابتدائی دور ہی میں جالوت جیسے جابر و قاہر بادشاہ کو ان کے ہاتھ سے قتل کرا کر ان کی ہمت و شجاعت اور ان کے عزمم راسخ اور ثبات قدمی کے جوہر اس طرح نمایاں کر دیے کہ تمام بنی اسرائیل ان کو اپنا محبوب قائد اور مقبول رہنما تسلیم کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت یوسف علیہ السلام (آخری حصہ)