بچو ں کیلئے حفاظتی ٹیکے

بچوں کیلئے حفاظتی ٹیکوں سے بہترکچھ نہیں

EjazNews

ویکسی نیشن کیا ہے، حفاظتی ٹیکے مختلف امراض سے کیسے محفوظ رکھتے ہیں، ہمارے مُلک میں اس حوالے سے کیا کام ہورہا ہے؟ فوائد، نقصانات، حفاظتی ٹیکوں میں نسل کُشی کی ادویہ کی ملاوٹ اور پولیو کے حفاظتی قطروں سے متعلق منفی پروپیگنڈے جیسی باتوں کی حقیقت کیا ہے؟ ۔جانتے ہیں۔
والدین کی آنکھوں میں اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے کئی خواب سجے ہوتے ہیں، جو اُسی صورت پورے ہوسکتے ہیں کہ جب بچّہ ذہنی و جسمانی طور پر صحت مندہو اور کسی بھی قسم کی معذوری کا شکار نہ ہو۔تو یاد رکھیے، ان حفاظتی ٹیکا جات کے استعمال سے آپ کا بچّہ جان لیوا امراض اور عُمر بھر کی معذوری سے بچ سکتا ہے، لہٰذا اپنے بچّوں سے عملی محبّت کا اظہار ان کی ویکسین کروا کےکریں۔ میرا ماننا ہے کہ اولاد کے لیے والدین کی طرف سے جو سب سے بہتر تحفہ ہوسکتا ہے، وہ حفاظتی ٹیکے ہی ہیں۔
جان لیوا یا معذور کردینے والے متعدد امراض سےتحفظ کے لیے قوت مدافعت کا مضبوط ہونا ناگزیرہے۔ چونکہ کمزور مدافعتی نظام مختلف وائرسز، بیکٹریا وغیرہ سے جلد متاثر ہوجاتا ہے، تو انسانی جسم کی مدافعت بڑھانے کے لیے ان ہی وائرسز، بیکٹریا اور کچھ دوسرے اجزاء سےمختلف حفاظتی ٹیکے تیار کیے جاتے ہیں، جو مختلف انفیکشنز اور متعدی عوارض کے خلاف ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ یہ حفاظتی ٹیکے انتہائی مفید ہیں، جس کی اہم مثال دنیا بھر سے چیچک اور طاعون کا خاتمہ ہے۔
امیونائزیشن کے طریقوں میں اورل (منہ کے ذریعے دی جانے والی)ادویہ، انجیکشنز اور اب دورجدید میں اسپرے (ناک کے ذریعے )وغیرہ شامل ہیں۔ انجیکشنز بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو گوشت میں اور دوسرا کھال کے نیچے لگایا جاتا ہے۔ تاہم، ناک کا اسپرے ماڈرن ویکسین کہلاتی ہے، جو پاکستان میں کہیں بھی دستیاب نہیں۔ جبکہ عموماً حفاظتی ٹیکوں میں انجیکشن کا استعمال عام طریقۂ کار ہے۔
ایکٹیو امیونائزیشن میں ویکسین انسانی جسم میں داخل کی جاتی ہے، تاکہ ہمارا جسم بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لیے ایکٹیو یعنی سرگرم کردار ادا کرسکے۔ زیادہ تر ویکسینزایکٹیو امیون ہی کے تحت کام کرتی ہیں، جبکہ پیسو امیونائزیشن میں تیار اینٹی باڈیز دی جاتی ہیں، جو بروقت اور جلد اثرکرتی ہیں۔ جیسے ٹیٹنس اور کتے کے کاٹنے کے بعد دی جانی والی ویکسین وغیرہ۔
چونکہ ویکسینز کے استعمال کی بدولت مختلف امراض کے کیسز زیادہ تعداد میں سامنے نہیں آرہے تھے، تو عوام الناس میںحفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کم ہونے لگی یا یوں کہہ لیں کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے حفاظتی ٹیکے لگوانے میں کمی آنے لگی، لہٰذا عالمی ادارئہ صحت نے یہ صورتحال بھانپتے ہوئے 2012ء میں باقاعدہ طور پر’’ویکسی نیشن ویک‘‘ منانے کا آغاز کیا ،تاکہ حفاظتی ٹیکوں کی افادیت و اہمیت بھرپور انداز سے اجاگر کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈھلتی عمر اور بوڑھی ہڈیاں

کیا پولیو ویکسین نقصان دہ ہے؟

1978ء میں چند امراض سے بچائو کے ٹیکے میسر تھے، لیکن اب دس جان لیوا بیماریوں سے بچائو کے لیے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیںاورعنقریب ہی ہر قسم کے ٹائیفائیڈ سے بچائو کی ویکسین بھی آنے والی ہے۔ رہی بات شیڈول کی، تو ای پی آئی کے جاری کردہ حفاظتی ٹیکا جات کے شیڈول کے مطابق پیدائش کے فوری بعد بی سی جی کی ویکسین جِلد میں لگائی جاتی ہے، جو تپِ دق سے بچائو کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے دو قطرے بھی پلائے جاتے ہیں۔ دوسری، تیسری اور چوتھی ویکسین، چھٹے، دسویں اور 14ویں ہفتے میں کی جاتی ہے، جس میں اوپی وی (Oral Polio Vaccine)، نیوموکوکل (Pneumococcal)، روٹا وائرس اور پینٹا ویلنٹ (Pentavalent) کی ویکسین دی جاتی ہے، جبکہ 14ویں ہفتے میں ان سب کے ساتھ آئی پی وی (Inactivated Polio Vaccine) ویکسین بھی دی جاتی ہے۔ پانچویں اور چھٹی ویکسین، جو 9اور 15ماہ کی عُمر میںدی جاتی ہے، خسرے سے بچائو کی ہے۔ ان حفاظتی ٹیکوں کی بدولت بچہ تپِ دق، پولیو، خناق، نمونیا، کالی کھانسی، کالا یرقان، گردن توڑ بخار، اسہال، تشنج اور خسرے سے محفوظ رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، 2سال کی عُمر میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی ویکسین انجکیشن کی صورت گوشت میں لگائی جاتی ہے۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں جتنی بھی بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں، ان کا شرحِ تناسب روز بروز کم ہورہا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے، تو یہاں گردن توڑ بخار، دو سال سے کم عُمر بچّوں میں انتہائی شدید قسم کے ڈائریا اور نمونیا جیسے خطرناک عوارض کی شرح میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔تاہم، پولیو کا خاتمہ نہ ہونے کی کئی وجوہ میں ایک وجہ مختلف علاقوں میں ویکسین دستیاب نہ ہونا بھی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو ملین بچّوں میں سے کوئی ایک بچّہ شدید مضراثرات سے دوچار ہوسکتا ہے۔ جیسے”Anaphylaxis”۔ اس میں بچے کا بلڈ پریشر زیرو ہوکرزندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔اسی طرح کالی کھانسی کے ٹیکے سے جھٹکے لگ سکتے ہیں۔تاہم، اس علامت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور ایسے بچّوں کو دوبارہ یہ ٹیکا نہیں لگایا جاتا۔ واضح رہے کہ مِرگی کے شکار چاہے بچّے ہوں یا بڑے، اگر انہیں کالی کھانسی کا ٹیکا لگایا جائے،تو اس کے کوئی مضراثرات مرتّب نہیں ہوتے۔
مُلک بَھر میں ویکسین کی کوئی کمی نہیں ، لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب والدین بچّے کی ویکسین کروانے کے لیے سینٹر جاتے ہیں، تو عموماً یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’ویکسین موجود نہیں ہے‘‘۔ اصل میں جو فرد ویکسی نیشن کررہا ہے، اس کے ذمّے ویکسین کرنا ہی نہیں، بلکہ اس حوالے سے کئی اضافی کام ہوتے ہیں، جن کا اُسے کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ حتیٰ کہ ویکسین لانے کے لیے سواری تو دُور کی بات، فیول کی مَد میں رقم بھی نہیں دی جاتی، تو اگر کسی سینٹر میں ویکسین دستیاب نہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے مُلک میں ویکسین موجود نہیں، بلکہ وہ کئی وجوہ کی بنا پر بروقت پہنچ نہیں پاتی۔ پھر دور جدید میں ہمارا ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن یعنی ای پی آئی کمپیوٹر کی بجائے مینول طریقے (یعنی رجسٹر میں اندراج کرنا)سے کام کررہا ہے۔ اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ سسٹم غلط ہے۔ اصل میں اس نظام میں وقت کے ساتھ جدت نہیں لائی گئی ہے۔ بحیثیت پاکستانی میرےلیے یہ قابلِ فخر بات ہے کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم دُنیا کا نمبر وَن سسٹم مانا جاتاہے اور کئی ممالک جیسے ترکی وغیرہ نے اسے فالو بھی کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے پاس یہ کاغذات کی حد تک محدود ہے، جب کہ ان ممالک نے اس پر عمل کر دکھایا ہے۔
ای پی آئی کے شیڈول کے تحت ایک خاص عُمر تک کے بچّوں کی ویکسین کی جاتی ہے۔ اگر کوئی بچّہ عُمر کی یہ حدیں پار کرچکا ہے، تو حکومت کی جانب سے ایسے بچّوں کے لیے ویکسین کی کوئی سہولت میسّر نہیں۔ تاہم، والدین ذاتی طور پر تجربہ کار ماہر امراضِ اطفال سے فوری رابطہ کرکے اس کے مشورے پر عمل کریں، تاکہ عُمر کی مناسبت سے ویکسین کروائی جاسکے۔
ہمارے مُلک میں 1978ء سے ویکسی نیشن ہورہی ہے، اس کے باوجود پاکستان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، تو یہ محض افواہ ہی ہے، جس کا حقیقت سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔
بلاشبہ ماضی کی نسبت اب حالات بہتر ہورہے ہیں، مگر مَیں سمجھتی ہوں کہ نئی ویکسینز کے اضافے سے کہیں زیادہ جو حفاظتی ٹیکے دستیاب ہیں،اُن کی ہر ایک تک رسائی ممکن بنائی جائے ۔ تاہم، سرکاری طور پر ٹائیفائیڈ، چکن پاکس، ہیپاٹائٹس اے اور ایچ پی وی کی ویکسینز کا اضافہ ضروری ہے۔
مَیں تو یہی کہوں گی کہ سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کی جانے والی ویکسین کو فوقیت دی جائے، کیونکہ ان کی کولڈ چین کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ کولڈ چین سے مُراد ویکسین بنانے کے عمل سے لے کر لگوائے جانے تک اس کا درجہ حرارت برقرار رکھنا ہے۔ نیز جو نجی ہسپتال بھی اس کولڈ چین کا خیال رکھتےہوں، وہاںسے بھی ویکسین کروانے میں کوئی حرج نہیں،البتہ عام کلینکس یا میڈیکل اسٹورز سے ویکسین خرید کرلگواناہرگز مناسب نہیں۔
پروفیسرڈاکٹر فائزہ جہاں

یہ بھی پڑھیں:  گردوں کے امراض سے بچنے کا آسان طریقہ
کیٹاگری میں : صحت