Lahore_gate2

لاہور کی نباتات: گزیٹئر 1883-84لاہور کیسا تھا؟ (۳)

EjazNews

ارضیات اور نباتات:
ہندوستانی ارضیات کے بارے میں ہماراعلم ابھی تک محدود ہے اور پنجاب میں ارضیات کے ضمن میں اب تک اس قدر کم تحقیق ہوئی ہے کہ ہر ضلع پر الگ الگ اظہار خیال کرنا ممکن نہیں۔ جیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سپرنٹنڈنٹ مسٹرمیڈ لیکورٹ نے صوبہ پنجاب کی ارضیات کے بارے میں ایک بنیادی خاکہ فراہم کیا ہے ۔ گزیٹر سیریز کے علاوہ علیحدہ پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کیا جارہا ہے۔
کنکر:
ضلع لاہور میں ملنے والی واحد معدنیات کنکر ہے جسے سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے چونے کی جگہ جلائے جاتے ہیں ۔ کنکر پورے ضلع، خاص طور پر بالائی علاقوں میں ایک سے چھ فٹ کی گہرائی میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے چھوٹے ٹکڑے زمین پر مل جاتے ہیں اور انہیں بھٹوں میں چونے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔
کلر،روڑی:
کلر قدیم دیہات میں پایا جاتا ہے۔ طلوع آفتاب سے تھوڑی دیر پہلے ہی زمین پر چمکتا دکھائی دیتا ہے جس کے فوراً بعداسے وہاں سے اٹھا کر گیہوں کی فصل پر ڈال دیا جاتا ہے، خاص طور پر ان فصلوں پر جوکھاری پانی سے سیراب ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کلرمضر پانی کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے۔ اس کی بو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں زیادہ مقدار امونیا کی ہوتی ہے۔ ایک ہی جگہ بار بار پایا جاتا ہے اور اسےبیل گاڑیوں کے ذریعے کھیتوں میں ڈالا جاتا ہے۔
شورہ:
ضلع لاہور میں شور ہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس کی تیاری کے لیے درخواست دینے والے کسی بھی شخص کو لائسنس دے دیا جاتا ہے۔ لائسنس حاصل کرنے والے لوگ ایک موزوںمقام پربھٹی لگانے اور اس کے ایندھن کے لیے کاشتکاروں کے ساتھ شرائط طے کر لیتے ہیں ۔ مٹی قدیم دیہات (تھیہہ ) سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے لوہے کے بڑے بڑے کڑاہوں میں پانی میں ابالا جاتا ہے۔ ابالنے کے بعد اسے زمین میں گڑے ہوئے لکڑی کے کونڈوں میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں سے اسے مٹی کے برتنوں میں کشید کیا جاتا ہے۔ اس طرح تجارتی مقاصد کے لیے شور ہ دستیاب ہوجاتا ہے۔ 1869ء میں ضلع لاہور میں اس مقصد کے لیے 29 بھٹیاں کام کررہی تھیں جن سے 5249 من شورہ حاصل ہوا۔ شورے کی قیمت تین روپے فی من ہے۔ 83-1882ء میں صرف20 لائسنس جاری کیے گئے اور ان سے252.5 من شورہ حاصل ہوا جس کی مالیت 1970 روپے دس آنے تھی۔
درخت:
ضلع میں پیدا ہونے والے درخت چند اور غیر اہم ہیں۔ ان میںکیکر، توت اور چند مقامات پرکھجوریں شامل ہیں۔ جنڈ ون اور پھلاہی جھاڑیوں کی صورت میں پائی جاتی ہیں۔ شیشم امب (آم ) املتاس، برنا پیل اور بوڑھ ان سب کے پودے لگائے جاتے ہیں اور تین چار سال تک ان کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔ شیشم کی لکڑی بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن ابھی تک اسے زیادہ تعداد میں نہیں لگایا گیا شیشم کی لکڑی بہت وزنی ہوتی ہے اور اس سے فرنیچر اور بیل گاڑیوں کے پئیے بنائے جاتے ہیں۔ شیشم کے بڑے درخت کی قیمت 40سے 70 روپے ہے۔ کیکر بارہ سال میں مکمل درخت بنتا ہے۔ اس کی لکڑی بہت سخت ہوتی ہے۔ کیڑے مکوڑے اس پر جلد حملہ کر دیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر زری آلات اور تارکول میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی قیمت ایک روپے سے پندرہ روپے فی درخت ہوتی ہے۔ بیر، کیکر کے مقابلے میں نرم درخت ہے۔ اس پر پانی کااثر نہیں ہوتا اس لیے اسے عام طور پرکنوئوں میں استعمال کیا جاتا ہے البتہ کیکر کے مقابلے میں اس کی قیمت زیادہ ہے۔ دھریک کا پودا بھی دس بارہ سال میں درخت بنا ہے جس کے بعد اس کی معیاد ختم ہوجاتی ہے۔ دیہات میں مکانوں کی چھتوں پر اس کی کڑیاں ڈالی جاتی ہیں کیونکہ سفید چیونٹیاں اس پرحملہ نہیں کرتیں۔ شریں بیس سے تیس سال میںمکمل درخت بنتا ہے لیکن اس کی لکڑی کم پائے کی ہوتی ہے۔ اس سے چھتوں کے شہتیر او کولہو بنائے جاتے ہیں۔ توت کی لکڑی بھی معمولی درجے کی ہوتی ہے اور اس سے چار پائیاں اور بعض دوسری اشیا بنائی جاتی ہیں۔ پھلاہی سے زرئی آلات بنتے ہیں۔ اس کے درخت کی قیمت چار سے پانچ روپے ہوتی ہے۔ ہندواسے مسواک کے طور پراستعمال کرتے ہیں۔ برنا ایک سایہ دار درخت ہے لیکن اس کی لکڑی کی مصرف میں نہیں آتی ۔ پیپل، بوڑھ اور آم کے درختوں کی بھی یہی حالت ہے۔ جنڈ ایندھن کے لیے استعمال ہونے والا بہترین درخت ہے۔ اس کی جڑیں اس کی بلندی کے برابرز مین میں ہوتی ہیں جن کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما کی رفتارسست ہے جس کی وجہ سے اب اس کی کاشت کم ہورہی ہے۔ اس سے ابھی تارکول بنتی ہے۔ جنڈ کی لکڑی عمارتوں ،مکانوں اور ریلوے سلیپرز کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ دیودار کی لکڑی پہاڑی علاقوں سے درآمد کی جاتی ہے۔
خودرو پھول اور پودے:
ضلع لاہور میں خودرو پھلوں اور پودوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
پلچھی:
یہ دریا کے بہاؤ سے آنے والی مٹی میں راوی اور ستلج کے دونوں کناروں پر پیدا ہوتی ہے۔ زمیندار اس سے مکان کی چھتیں اور کہا راور ملاح اس سے ٹوکریاں بناتے ہیں۔ تاجرایک کشتی برچھی کے لیے کاشتکاروں کو پانچ سے دس روپے اور ایک گھٹڑی کے عوض ایک یا دو پیسے ادا کرتے ہیں۔ کٹائی کے بعد وہاں فصل کاشت کر دی جاتی ہے لیکن یہ فصل اگلے سال پیداہوتی ہے۔
ڈب:
یہ ایک قسم کا جھاڑی دار درخت ہے جو دریاؤں کے کناروں پر پیدا ہوتا ہے۔ اس سے چٹائیاں بنائی جاتی ہیں۔
منج:
ایک نہایت کارآمد پودا ہے جودریا کے کناروں خاص طور پرستلج پرریتلی زمین میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے کئی چیزیں تیار ہوتی ہیں مس سونڈر کوپتا چلا ہے کہ تحصیل قصور کے کئی دیہات میں صرف منج کی آمدنی سے حکومت کو مالیہ ادا کر دیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی دس سے پندرہ فٹ تک ہوتی ہے۔ منج عام طور پر ناقابل کاشت اراضی میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے کانے چکوں، موڑھوں اور صوفوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ منج کے بالائی حصے سے چھپراوربیل گاڑیوں کی چھت بنتی ہے۔ اگر صحیح سر کی بنائی جائے تو اس سے پانی نہیں گزرتا۔ منج سے رسے بھی بنائے جاتے ہیں۔ اس کے بنے رسے اعلیٰ ریشے کی وجہ سے مضبوط ہوتے ہیں اور پانی میں نہیں گلتے۔ کنوئیں سے پانی کھینچنے کے لیے جس ماہل یارسوں کے ساتھ مٹی کے برتن باندھ دئیے جاتے ہیں وہ عام طور پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور دیر پا ہوتے ہیں اس لیے زمیندارمنج کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔
پنی یا خس:
یہ پودا خاص طور پرڈیک کے کنارے پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی جڑوں کی بھینی بھینی خوشبو ہوتی ہے۔ اسے زمین سے نکال کر تین روپے من کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ ٹٹیاں بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ اس سے عطر بھی بنایا جاتا ہے۔ دیسی باشندے اس کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ ماجھے کے علاقے میں پنی کی خصوصیات کا کیوی نام کا ایک پودابھی پیدا ہوتا ہے لیکن صرف مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
لانا:
اس پودے سے سجی بنائی جاتی ہے۔ یہ کپڑے دھونے اور دیسی صابن بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ ضلع لاہورمیں اچھی قسم کا لانا پیدا نہیں ہوتا۔ یہ پودا چونیاں تحصیل کے جنوب مغرب میں ڈیک کے کنارے رکن پورہ اور شہباز کی میں پیدا ہوتا ہے۔
تمبا:
یہ تربوز جیساوز نی سنگترے سے مشابہ پھل ہوتا ہے جو کاشت نہیں کیا جاتا اور ماجھے کے کم زرخیز،سیم زدہ علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔ مقامی باشندے اس سے گھوڑوں کی دوا ئیاں بناتے ہیں۔ یور پی دوا ساز کمپنیاں بھی اسے مختلف ادویات میں استعمال کرتی ہیں۔
پیلو:
یہ وَن پودے پر لگنے والا میٹھا پھل ہے جو ماجھے کے علاقے خاص طور پر چونیاں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ ارغوانی ہوتا ہے۔ مقامی باشندے اسے بڑی رغبت کے ساتھ کھاتے ہیں۔ قحط کے زمانے میں غریب لوگ پیلو کھا کر گزارا کرتے تھے۔
ڈیلا یا پنجو:
یہ پھل ما جھے کے جنگلوں میں کریل درخت پرلگتا ہے۔ پکنے سے پہلے اتار کر اس کا اچار بنالیا جاتا ہے جو بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ پکنے پر اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے۔
کوکن بیر:
یہ میٹھا خودرو پھل ہے جو پکنے پر سرخ ہو جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ بہت میٹھا ہوتا ہے۔ اسے لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
سنگری:
یہ پھل جنڈ کے درخت پر لگتا ہے۔ اسے سبزی کے طور پربھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ککائورا:
یہ جنڈ اور کریل کے درختوں پرلگتا ہے۔ اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور عموماً سبزی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
کھمب:
لاہور میں اکثر مقامات پر کھمب پیدا ہوتے ہیں ۔ کھمبیوں کو تازہ اورخشک دونوں صورتوں میں بہت زیادہ رغبت کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس سے اچاربھی تیار کیا جاتا ہے۔
گم:
اسے کیکر اورپھلائی کے درختوں سے حاصل کیاجاتا ہے۔تا ہم لاہور میں زیار مقدار میں دستیاب نہیں ہوتا۔
لاکھ:
یہ بیر کے درختوں سے حاصل ہوتی ہے۔ اسے رنگائی اور مہر لگانے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔
رنگ:
یہ کیکر کے درخت سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے رنگائی اور شراب کشید کرنے میں استعمال کیا جا تا ہے۔
جنگلی جانور:
ضلع لاہور میں جنگلی اور شکار کے جانور کالا ہرن، خرگوش، کالے اور سرمئی تیتر اور بھیڑ، رکھوں اور جنگلات خاص طور پر چھانگا مانگ میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ موسم بہار میں تیتر بہت زیادہ تعداد میں نظر آتے ہیں ۔ جنگلی سورراوی کے اس پار پشاور روڈ پر کالا کے قریب اور چھانگا مانگا میں بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔ راوی کے شمال اور چونیاں اور چھانگا مانگا میں جنگلی مرغ اور کے ستلج کےکنارے بطخیں، ماہی خور اور دوسرے آبی جانور پائے جاتے ہیں۔ پٹی،نلورائے ونڈ اور ضلع نگری کے درمیان ضلع لاہور کے وسطی علاقوں اور شر قپور سے آگے راوی کے شمال میں پائی جاتی ہے۔ جنگلی کبوتر تقر یباًہر قدیم عمارت اور کنوئیں پر پائے جاتے ہیں۔ چھانگامانگا کے جنگلات میں نیل گائے اور بعض اوقات تیندوے نظر آتے ہیں، ضلع کے جنگلی علاقوں، قصور اور شرقپور کی تحصیلوں میں بھیڑ یے عام ہیں۔ جنگلات میں لومڑیوں، گیدڑوں اورجنگلی بلیوں کی بہتات ہے۔
مچھلی ‘:
ضلع لاہور میں پائی جانے والی مچھلیوں کے بارے میں گوشوارہ درج ذیل ہے:

یہ بھی پڑھیں:  گپتا خاندان

| سانپ اور دیگر حشرات الارض:
سانپ اور بچھو بہت عام ہیں ۔ ناگ حد درجہ زہریلا سانپ ہے۔ دریائے ستلج میں گریال اور مگرمچھ بھی پائے جاتے ہیں۔
خطرناک جنگلی جانوروں کو ہلاک کرنے کے عوض جو انعام دیا جاتا ہے اس کے گوشوارے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 83 بھیڑیے اور 1245 سانپ ہلاک کیے گئے ۔ اسی مدت کے دوران جنگلی جانوروں نے آٹھ اور سانپوں نے 354 افراد کو مار ڈالا۔