imran farooq

10سال بعد بعد ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آگیا

EjazNews

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی اور فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 21 مئی کو محفوظ کیا گیا تھا فیصلہ سنادیاگیا ہے۔عدالت نے ملزمان کو قتل کی سازش، معاونت اور سہولت کاری کیس پر عمر قید کی سزا دینے کے ساتھ ہی عمران فاروق کے ورثا کو 10، 10 لاکھ روپے (مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے) کی ادائیگی کا بھی حکم دیا۔
ملزم معظم علی، محسن علی، خالد شمیم نے وڈیو لنک پر اڈیالہ جیل سے مقدمے کا فیصلہ سنا ۔اس کے ساتھ بانی متحدہ الطاف حسین سمیت افتخار حسین، اشتہاری ملزمان محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے گئے۔
گزشتہ سماعت میں وکلاءکے دلائل مکمل ہونے پر جج شارخ ارجمند نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  لاک ڈاؤن سے1کروڑ 80لاکھ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں 10لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں :وزیر منصوبہ بندی اسد عمر

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم بانی ایم کیو ایم نے دیا اور ایم کیو ایم لندن کے دو سینئر رہنمائوں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے معظم علی نے قتل کے لیے لڑکوں کا انتخاب کیا اور عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا جبکہ محسن اور کاش فکو برطانیہ لے جا کر قتل کروانے کے لیے بھرپور مدد کی گئی۔

فیصلے کے مطابق عمران فاروق کو قتل کرنے کا مقصد تھا کہ کوئی بانی ایم کیو ایم کیخلاف بات نہیں کر سکتا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا بھی تھا۔ عمرون فاروق قتل کیس دہشت گردی کے مقدمے کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔