Asthma

دمہ اب جان لیوا مرض نہیں

EjazNews

دمہ سانس کی نالی میں سوزش کا عارضہ کہلاتا ہے، جس کی بنیادی وجہ الرجی ہے۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جب الرجی شدت اختیار کر کے سانس کی نالیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، تو یہ متورم ہوکر تنگ ہوجاتی ہیں اور یہ تکلیف اس قدر بڑھتی ہے کہ بالآخر مریض دمے کا شکار ہو جاتا ہے۔جہاں تک الرجی کی بات ہے، تو یہ بالعموم پیدائشی ہوتی ہے، جبکہ کئی افرادعام لوگوں کی نسبت زیادہ حسّاسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم، جو افراد پیدایشی الرجی کا شکار ہوں، ان میں الرجی کے جینز پائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ عام افراد کی نسبت جلد دمے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام آباد میں بعض افراد کو پولن سے الرجی ہو جاتی ہے، جبکہ بعض ان کے ساتھ گھوم پھر رہے ہوتے ہیں، مگر انہیں کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح کئی افراد کو مختلف قسم کی غذاؤںسے بھی الرجی ہوجاتی ہے۔ دیکھیں، اگر کسی فرد کے جسم میں الرجی کے جینز پہلے سے موجود ہوں، تو وہ آگے چل کر سانس کی نالیاں متاثر کرنا شروع کردیتے ہیںاور پھر یہی دمے کا عارضہ لاحق ہونے کا سبب بن جاتے ہیں۔
یہ ایک عام مرض ہے،جس کی شرح دنیا بھر میں تقریباً یکساں ہی ہے۔ یعنی11سے16فیصد ۔ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں مرض کی شرح بُلندہے، تو ایسا نہیں ہے۔ ترقّی یافتہ ممالک مثلاً امریکہ، یورپ میں بھی اس مرض کی شرح تقریباً اتنی ہی ہے، البتہ وہ ممالک جہاں فضائی آلودگی زیادہ پائی جاتی ہو، وہاں یہ مرض بھی قدرے زیادہ پایا جائے گا۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 20کروڑ عوام میں سے تقریباً 15فیصد یعنی 60سے70لاکھ افراد دمے کا شکار ہیں،جب کہ پوری دُنیا میں مجموعی طور پر 35سے 40کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔

دمہ کے عالمی دن پر خصوصی تحریر

دمے کی بنیادی وجہ تو وہ الرجن جینز ہیں، جو وراثت میں ملتے ہیں اور عُمر کے کسی بھی حصے میں بگڑ کر دمے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم، دیگر وجوہ میں سرِفہرست ماحولیاتی آلودگی ،اسموگ، گردوغبار، پولن، بال و پَر والے جانور، پرندے، لال بیگ، ہائوس ڈسٹ مائٹس،تمباکو نوشی ،بعض کھانے پینے کی اشیاءاور سرسبزو شاداب کھیتوں کی جگہ عمارتوں اور رہائشی کالونیوں کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔ رہی بات مرض کی شدّت میں اضافے کی، تو موسمیاتی تبدیلیاں اور ماحولیاتی بگاڑدمے کی شدت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اگر مرض ابتدائی مرحلے میں بھی ہو، تواس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض کیسز میں مرض کی شدت گرمیوں یا پھر سردیوں میں بڑھ جاتی ہے۔ اور کچھ مریضوں میں سال بھر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دوسرے نمبر پرتمباکو نوشی، گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواںبھی مرض میں شدت پیدا کردیتاہے کہ دھوئیں میں شامل مضر کیمیکلز سانس کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہوکےسانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتےہیں۔ اسی طرح گھروں میں موجود پالتو پرندے اور جانور بھی مرض بڑھاتے ہیں۔جیسے مرغیاں، کتے، طوطے وغیرہ ۔
الرجی کی وجہ سے جب سانس کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں، توان کے مسلز سکڑنےلگتے ہیں اور رطوبت یا بلغم زیادہ بنتی ہے،جو سانس کی نالیوں کومزید تنگ کردیتی ہے،نتیجتاً سانس لیتےہوئے سیٹی کی سی آواز آتی ہے۔ سینے میں جکڑن محسوس ہوتی ہے اور بار بار کھانسی ہوتی ہے، جو لمبے عرصےتک رہتی ہے۔ ہر مریض میں یہ علامات مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ یاد رہے، کھانسی، نزلہ زکام اور سانس پھولنا وغیرہ غیر معمولی علامات نہیں۔ ہاں جب ایک ہی طرح کی علامات بار بار ظاہر ہوں اور عام علاج سے بھی افاقہ نہ ہو، تو مستند معالج سے رابطہ ضروری ہے۔
اس مرض کا عُمر کے کسی خاص حصے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کسی بھی عُمر کے مَرد و خواتین، حتیٰ کہ بچّوں کو بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔
دورجدید میں اس مرض کا بہترین علاج ’’اِن ہیلر‘‘ ہے، جس کے ذریعے دوا کی معمولی مقدار براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچ کر فوری ریلیف کا باعث بنتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب ادویہ پرانحصار بہت کم ہوگیا ہے،کیونکہ ادویہ خون میں شامل ہو کر بہت تاخیر سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ان ہیلرکے حوالے سے کئی مفروضات عام ہیں۔ یاد رکھیے، اِن ہیلر کے ضمنی اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں، کیونکہ اس میں موجود دوا کی مقدار ملی گرام کا بھی ہزارواں حصّہ ہوتی ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک بار اِن ہیلر کا استعمال شروع ہو، تو پھر تاعُمر کیا جائے۔ کئی مریض صحت یاب ہونے کے بعد معالج کے مشورے سے اس کا استعمال ترک کرچُکے ہیں۔ اس کے علاوہ نیبولائزر کا طریقۂ علاج بھی عام ہے۔ اس طریقۂ علاج کی بدولت مریض آسانی سے سانس لے سکتا ہے ،لیکن میرے نزدیک اس کا استعمال صرف ایمرجنسی کی صورت ہی میں کیا جائے، وقت بے وقت درست نہیں۔
اگرمیاں بیوی دونوں ہی اس عارضےمیں مبتلا ہیں، تو بچّے میں50فیصد اور اگر ایک مرض کا شکار ہے، تو 25فیصد امکانات پائے جاتے ہیں،کیونکہ یہ مرض جینز کی شکل میں منتقل ہوتا ہے۔ اگرشادی کے بعد مرض کی تشخیص ہو، تو گھبرانےکی قطعاً ضرورت نہیں، کیونکہ بہتر علاج اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ پھر بھی اگر اس ضمن میں احتیاط برتی جائے ،تواچھی بات ہے، تاکہ آنے والے بچّے ہر طرح سے صحت مند زندگی گزاریں۔
عام طور پر والدین کے لیے کم سِن بچّوں میں ادویہ مینیج کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچّوں میں مرض کی علامات ظاہر ہوں، تو عموماً والدین جنرل فزیشن سے رجوع کرتے ہیں، جو کئی کئی بار اینٹی بائیوٹکس کا کورس مکمل کروا تے ہیں،مگر افاقہ نہیں ہوتا،کیونکہ اینٹی بائیوٹکس سانس کی نالیوں کی سوزش ختم نہیں کرتیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مرض کی علامات ظاہر ہوتے ہی ماہر امراضِ سینہ سے رابطہ کیا جائے۔
پودے اور درخت تو ہر جگہ پائے جاتے ہیں ،لیکن بعض پودوں کا بُور (الرجن) فضا میں پھیل کرسانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر الرجی کا باعث بن جاتا ہے۔ ان میں شہتوت کے درخت اور جھاڑیاں سب سے اہم ہیں، جو اسلام آباد میں زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہیں۔عام طور پرمارچ ،اپریل، مئی میں یہ بُور اُڑ کر فضا میں پھیل جاتا ہے اور انہی مہینوں میں یہ مرض بھی بڑھتا ہے۔ اور صرف اسلام آباد ہی نہیں ،بلکہ پنجاب اور شمالی علاقوں میں جہاں جہاں گندم کاشت ہوتی ہے، وہاں بھی فصلوں کا بور، کٹائی اور وڈائی کرنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔
دورِ جدید میں دمہ ناقابل علاج یا جان لیوامرض ہرگز نہیں رہا،یہ اب قابل علاج مرض ہے اور اس پر مکمل طور پر قابو رکھا جاسکتا ہے، بشرطیکہ معالج کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔ علاج کے ساتھ احتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں بھی ضروری ہیں۔ اگرمرض پرقابو رہے ،توضروری نہیں کہ مریض تاعُمر ادویہ پر انحصار کرے، البتہ اُسےمحتاط زندگی بسر کرنا ہوگی۔تاہم، اس ضمن میں مریض اور اہلِ خانہ کی کاؤنسلنگ ضروری ہے، تاکہ ا دویہ کے علاوہ رہنما اصولوں سے بھی آگاہ کیاجاسکے۔ خود ڈاکٹرز کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ مریض کو کم سے کم دوا استعمال کروائی جائے۔عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ علاج کی بدولت مریض بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اس وقت مریض اور ڈاکٹر کا کام اس کیفیت پر قابو پاناہوتاہے،لہٰذا مریض اگر خود کو مرض کے ساتھ ایڈجسٹ کر لے، تو وہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔
عام طور پرکیلے، چاول، دودھ وغیرہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دمےکے مریضوںکے لیے مضر ہیں، حالانکہ ان اشیاء کے استعمال کا مرض سے براہ راست کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، البتہ بعض افراد کو کھانے پینے کی مخصوص اشیاء سے فوڈ الرجی ہوسکتی ہے۔مثلاً کچھ افراد کو جھینگےکھانے سےاسکن الرجی ہو جاتی ہے ،توبعض کو گندم سے۔ یہاں اس کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ دمہ چھوت کی بیماری ہرگز نہیں ۔مریض کے ساتھ کھانے پینے اور ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں،تاہم تھوڑی بہت احتیاط کرلی جائے۔
خوراک، ماحول اور عادات اس مرض کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،لہٰذا وہ غذائی اشیاء،جن سے الرجی ہو،ان کا استعمال ترک کردیں۔ عام طور پر معالج ٹھنڈی، ترش اور کھٹی چیزوں سے پرہیز بتاتے ہیں،تاکہ مریض کا گلا خراب اور سینے کا انفیکشن نہ ہو۔پھرمریض اپنے اطراف کے ماحول سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خاص احتیاط برتے۔جیسا کہ کھیتوں اور کیمیکل فیکٹریوں میں کام کرنے والے اپنا پیشہ نہیں چھوڑ سکتے، لیکن منہ پر ماسک لگانے، دوران کام تھوڑا تھوڑا وقفہ لینے اور کچھ وقت کےلیے اس ماحول سے باہر رہنے جیسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ اگر کسی کو پرفیوم، مچھر کُش ادویہ یا میٹ وغیرہ سے الرجی ہے، تو ان کا استعمال نہ کیا جائے۔تمباکو نوشی نہ کی جائے۔ علاوہ ازیں،جس خاندان میں الرجی کی شکایات ہوں، وہاں کے مکین خاص احتیاط برتیں۔صفائی نصف ایمان ہے اور اسلام کا یہ سنہرا اصول، دمے کے مرض کے لیے بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ پانچ وقت وضوکرنا ہمیں ناک، کان، گلے، منہ اور ہاتھ، پاؤں کی صفائی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ریبیز ایک خطرناک مرض ہے اگر بروقت تشخیص نہ ہو
کیٹاگری میں : صحت