isi

خطے کی کشیدہ صورتحال : فوجی قیادت کو آئی ایس آئی ہیڈ آفس میں بریفنگ

EjazNews

بھارت اس وقت مختلف بحرانوں سے نبرد آزما ہے جس میں پڑوسیوں کے ساتھ سرحدی تنازعات، کمزور معیشت اور عالمی وبا کرونا وائرس کی بگڑتی صورتحال شامل ہے۔چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں 1975 کے بعد پہلی مرتبہ فوجی جانی نقصان دیکھنے میں آیا جس سے مودی حکومت کے لیے اندرونی طور مشکل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب دہلی میں فوجی تربیت کا سلسلہ جاری ہے خیال ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف ہدف بنایا جائے گا، لائن آف کنٹرول پر دراندازی کا بیانیہ تشکیل اور حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں اپنی ہلاکتوں کا چرچا کیا جارہا ہے۔کچھ کو خوف ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ فوجی محاذ آرائی کے لیے ماحول تیار کررہی ہے۔دیگر خدشات کے علاوہ پاکستانی عہدیداروں کو پریشانی ہے کہ بھارت کے ساتھ کوئی بھی تنازع افغانستان میں امن کے لیے ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق فوجی قیادت کو خطے کی سلامتی کے مسائل بالخصوص لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر جامع بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف آف ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان اور چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل شہیر شمشاد مرزا نے شرکت کی۔
چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے قومی سلامتی کے لیے آئی ایس آئی کی انتھک محنت کو سراہا اور پیشہ ورانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ قومی سلامتی پر بریفنگ کے لیے تمام سروسز چیفس کا آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز کا یہ غیر معمولی دورہ تھا۔
مسلح افواج کے سربراہان عموماً جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے فورم پر ملاقات کرتے ہیں جو تینوں افواج میں تعاون کا بنیادی فورم ہے۔جوائنٹ چیفس سٹاف کمیٹی کا اجلاس جولائی 2018 کے بعد سے نہیں ہوا اس طرح کے اجلاس بالخصوص بحران کے وقت انٹر سروسز تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
آئی ایس آئی سیاسی اور فوجی قیادت کو بریفنگ دے چکی ہے وزیراعظم عمران خان نے انٹیلیجنس بریفنگ اور سکیورٹی خطرات پر بریفنگ کے لیے 2 مرتبہ 23 اپریل اور 3 جون کو آئی ایس آئی کا دورہ کیا۔یہ بریفنگز اس لیے اہمیت کی حامل ہیں کہ کیوں کہ یہ بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران ہورہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین جاسوس کلبھوشن کے فیصلے پر ملکی اور غیر ملکی رہنما کیا کہتے ہیں؟

یاد رہے چین اور بھارت کے درمیان بھی سرحد پر کشیدہ صورتحال ہے ۔ اور اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرحدی تنازع میں بھارت کے 20فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ جس کے بعد ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
اس سے پہلے مالدیپ کے معاملے پر بھی ہم سنگین صورتحال دیکھ چکے ہیں لیکن تب اتنی فوجیوں کی ہلاکت کا معاملہ نہیں ہوتا تھا ۔