indian_troops

بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں سے جعلی کرنسی کی برآمدگی ،بہت سے سوال اٹھا رہی ہے

EjazNews

15 جون کو اسلام آباد کے علاقے خیابان سہروردی میں بھارتی ہائی کمیشن کی گاڑی کی ٹکر سے ایک شہری شدید زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد کمیشن کے دو اہلکاروں کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار صبح اسلام آباد میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔
اسلام آباد پولیس نے بھارتی سفارتکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا اور مقدمہ شہری کو کچلنے کے بعد فرار ہونے کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا۔ایک بھارتی اہلکار سے 10 ہزار روپے کی جعلی پاکستانی کرنسی نکلی جس کے بعد ایف آئی آر میں جعلی کرنسی کی دفعات شامل کردی گئی تھیں۔
دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن نے اپنے 2 اہلکاروں کی گمشدگی کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو اہلکار صبح 8 بج کر 32 منٹ پر ہائی کمیشن سے باہر نکلے لیکن یہ دونوں اہلکار تاحال اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے۔
تھانہ سیکرٹریٹ میں دونوں اہلکاروں کی حراست کی اطلاع پر بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر حکام تھانے پہنچے تھے اور ایس ایچ او کو اہلکاروں کی گمشدگی کا خط تھما دیا تھا۔خط کے متن میں کہا گیا تھا کہ وفاقی پولیس ہمارے گمشدہ اہلکاروں کو تلاش کرے۔
دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی ہائی کمیشن کو بتایا گیا کہ حادثے میں ملوث ان کے ملازمین کے غیر قانونی اقدامات اور لاپراوہ سلوک قانون اور سفارتی اقدار کے خلاف ہے۔
دفتر خارجہ نے بھارتی ہائی کمیشن کے 2 ملازمین کی نظر بندی سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو مسترد کردیا۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا قابل مذمت اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے بے بنیاد الزامات دراصل پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہے اور وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔بی جے پی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں اور یکطرفہ اقدامات خطے میں تیزی سے امن و سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں، بھارت کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ 15 جون کو این ڈی ٹی وی نے کہا تھا کہ عملے کو زبردستی اغوا کیا گیا اور 10 گھنٹے سے زیادہ غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے رپورٹ میں کہا تھا کہ عملے کے دونوں ارکان کو تفتیش، تشدد اور جسمانی حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔
بیان کے جواب میں دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کے نام سلواڈیس پال اور دوامو گراہمو ہیں اور ان کی گاڑی کی ٹکر سے 15 جون کو ایک شہری زخمی ہوگیا تھا۔سیاہ بی ایم ڈبلیو میں سوار بھارتی اہلکاروں نے حادثے کے بعد موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن موقع پر موجود افراد نے انہیں پکڑ کر اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا۔تحقیقات کے دوران ایک بھارتی اہلکار سے 10 ہزار روپے کی جعلی پاکستانی کرنسی بھی نکلی۔اس بات کی تصدیق کے بعد کہ مذکورہ عہدیدار بھارتی ہائی کمیشن کے ملازمین ہیں انہیں رہا کردیا گیا اور کمیشن کے ایک سینئر سفارتکار کے حوالے کردیا گیا۔سینئر بھارتی سفارتکار کو باور کرایا گیا کہ جعلی کرنسی اور گاڑی سے ٹکر مار کر فرار ہوجانا سنگین جرم ہیں۔بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیداروں کا فعل غیرقانونی ہے اور سفارتی اصولوں کے خلاف ہیں۔
بھارتی سفارتکاروں کو باور کرایا گیا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں اور ویانا کنونشن کے سفارتی تعلقات 1961 کے تحت کنونشن کی پاسداری کریں۔
دوسری جانب بھارت نے گزشتہ روز پاکستان میں ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو حراست میں لیے جانے پر پاکستانی ناظم الامور حیدر شاہ کو طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔پاکستانی ناظم الامور کو گزشتہ روز پاکستانی حکام کی جانب سے معاملے سے نمٹنے اور واقعے پر احتجاج کے لیے ایک مرتبہ پھر بھارتی وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا۔
اب اس سارے معاملے میں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں سے جعلی کرنسی نکلنے کے معاملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ان کے پاس جعلی کرنسی کہاں سے آئی۔ کیا یہ جعلی کرنی کے کسی نیٹ ورک کو تو پاکستان میں نہیں پھیلا رہے یا پھر جعلی کرنسی پاکستان میں پھیلانے کی منظوم کوشش تو نہیں کر رہے۔ یہ تمام امور بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم پوری صلاحیت کے باوجود امن کی بات کر رہے ہیں: ترجمان پاک فوج