meer usman nizam of hyderabad

نظام آف حیدرآباد میرآف عثمان علی کی حیدر آباد کو ہندو تسلط بچانے کی کوششیں

EjazNews

15اگست 1947ءکو نئی بھارتی حکومت نے نظام آف حیدر آباد میر آف عثمان علی کو بھارت کی ریاست میں شامل نہ ہونے پر جینا حرام کر دیا۔ بھارت نے نظام آف حیدر آباد کا بائیکاٹ کر دیاکھانے پینے کی اشیاءخوردو نوش بند کرتے ہوئے حیدر آباد کی عوام کو بھوک، مفلسی او قحط سے مارنے کی پوری کوشش کی۔ یہ محاصرہ کئی روز جاری رہا۔ حیدرآباد میں ضروری اشیاءسازو سامان کی سخت قلت ہو گئی۔ مگر میر عثمان علی خان پر عزم اور با ہمت انسان تھے۔ عمر رسیدہ تھے مگر عقل و دانش ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ نہروکے پولیس ایکشن سے پہلے انہوں نے پرتگال سے تعلقات قائم کر لیے ۔ میر عثمان بیرونی تجارت کے لیے پرتگال سے مرما گواmarmago نامی بندرگاہ خریدنے کے لیے کافی پیش رفت کر چکے تھے۔ دونوں ممالک میں گہرا رابطہ تھا اور لیڈران مختلف ذرائع سے بات چیت کر رہے تھے۔ قریب تھا کہ یہ معاہدہ ہوجاتا اور پرتگال کی یہ خوبصورت بندرگاہ نظام آف حید ر آباد میر عثمان کے قبضے میں آجاتی اس بات کا انکشاف 30سال بعد ڈی کلاسیفیڈ ہونے والی دستاویزات میں ہوا ہے۔ تاج برطانیہ کے ایما پر برصغیر میں تجارت کرنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگریز حکمران جاتے جاتے تمام دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ میر عثمان علی اور پرتگال کے حکمرانوں کے مابین ہونے والی خط و کتابت اور ممکنہ معاہدہ بھی انہی دستاویزات میں شامل ہے۔تلنگا کی تاریخ جاننے کے لیے بھارتی رکن پارلیمنٹ کی کویتا کی ایک این جی او لندن میں تحقیق کر رہی تھی۔ دوران تحقیق اس کی نظریں ریاست حیدر آباد د کی خفیہ دستاویزات نظر سے گزریں کئی صفحات کو اب بھی دولت مشترکہ کے تعلقات عامہ کے دفتر میں انتہائی اہم قرار دے کر خفیہ رکھا ہوا ہے۔ ریاست تلنگا اور حیدر آباد کی یہ انتہائی اہم دستاویزات اب تک لوگوں کی نظروں میں نہیں آئیں۔ تاہم یہ ٹیم اس دستاویزات کا کچھ حصہ بھارت لے گئی ہے۔ نظام قومی ترقی میں بندرگاہ کی اہمیت سے باخوبی آشنا تھے۔ وہ gonکی بندرگاہ بھی خریدنے کے موڑ میں تھے اس بارے میں بھی کافی پیش رفت ہو چکی تھی۔ سر الیگزینڈر راجر 17ہزار پاﺅنڈ کے عوض گوا کی بندرگاہ بیچنے پر راضی تھے۔ برطانیہ کو کیاان کے سامنے کشمیر کا سودا بھی موجود تھا۔ برطانیہ انسانوں سمیت ریاستوں کی خریدو فروخت آٹے دال کی طرح کر تے تھے۔ گوا بھی بک جاتی مگر حکومت ختم ہونے سے معاہدات ادھورے رہ گئے۔ مسودے کے مطابق حیدر آباد حکومت کا ایک ایجنڈ نے lisbunکا دورئہ کیا۔ نظام حیدر آباد کی ہدایت پر تیار کردہ معاہدہ اس نے لسبن میں پرتگالی حکومت کو پیش کیا۔ پرتگال کا لسبن میں سفارت خانہ بھی اس معاہدے میں مذاکراتی عمل میں شریک تھا۔
15اپریل 1948ءکی ایک دستاویزات سے برصغیر پاک و ہند میں برطانوی کوششیں عیاں ہوتی ہیں۔ یعنی حیدر آباد کو بھارت میں زعم کرنے کی سازش سے تقریباً 6مہینے پہلے برطانیہ گوا کی ریاست بیچنے پر آمادہ تھا جبکہ پرتگالی بھی اپنی ایک بندرگاہ نظام آف حیدر آباد کو بیچنے میں کافی پیش رفت ہو چکی تھی۔ ایک دستاویز میں ماﺅنٹ بیٹن کا ایک خفیہ خط بھی شامل ہے۔ اس خط کا تعلق اکتوبر 1945ءمیں نظام آف حیدر آباد کی جانب سے گوا کی خریداری سے متعلق ہے۔
سلطنت حیدرآباد 2لاکھ 15ہزار 340مربع کلومیٹر پر مشتمل تھی۔ یہ کرناٹکا کی جانب گجک gadag تک پھیلی ہوئی ہے۔ جبکہ مرما گوا کی بندرگاہ کی خریداری کے بعد لینڈ لائٹ حیدر آباد کو ایک سو میل مغرب کی جانب ایک راستہ مل جاتا۔
2سال تک کیا پیش رفت ہوئی یہ دستاویزات ابھی برطانوی لائبریری سے حاصل نہیں ہوئی۔ مئی 1947ءکا سر الیگزینڈر راجر کا خط ملا۔ الیگزینڈر راجر اس زمانے کا ایک معروف برطانوی صنعت کار تھا۔ پرتگال میں اس کے کئی معاشی مفادات تھے۔ وہ اینگلو پرتگال ٹیلی فون کمپنی کا کرتا دھرتا تھا۔ اسی طرح سے وہ ان مذاکرات کے عمل میں شامل ہوا۔ اس نے مرما گوا کے عوض 27مارچ 1947ءکو 7ہزار پاﺅنڈ اور 26اگست 1947ءکو 10ہزار پاﺅنڈ لیے۔ یہ پاﺅنڈ نظام آف حیدرآباد نے براہ راست سر راجر کے اکاﺅنٹ میں امپیریل بینک آف امریکہ لندن میں منتقل کر دئیے تھے۔ پاﺅنڈوں کی وصولی سے پہلے جون تک معاہدہ کی دستاویزات کا خاکہ مرتب کر لیا تھا۔دونوں نے مل بیٹھ کر عبوری تجاویز کا ایک خاکہ سا تیار کر لیا تھا۔دستاویزات میں لکھا ہے ”حکومت پرتگال ری پبلک اور نظام کی حکومت مرما گوا کی بندرگاہ میں نقل و حمل میں اضافے کے متمنی ہیں۔ دونوں ممالک پرتگالی بھارت اور دوسری ٹیرا ٹریز میں ریلوے کے ذریعے نقل و حمل میں اضافے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچی ہے “۔
بظاہر یہ معاہدہ کاروباری نوعیت کا تھا۔ لیکن اس کی بہت سی دستاویزات بہت واضع تھی جو اسے کاروباری معاہدے سے کافی ممتاز کرتی تھیں۔ مثلاً پرتگال مرمرا گوا کی بندرگاہ میں اس قسم کی سہولت کسی اور ملک کو مہیا نہیں کر سکے گا۔ یعنی اس پر خالصتاً حیدر آباد کا حق ہوگا۔ 1510ءتک گوا پرتگالیوں کے لیے ایک ساحلی علاقہ کا حصہ تھا۔ 1510ءمیں نظام نے فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے گوا کی خریداری کے لیے پر تگال سے مذاکرات کیے اسے قیام پا کستان کے بعد اپنی فکر تھی وہ پاکستان کے حا می تھے زبردست حامی تھے۔ بھارت کے سینے پر وہ لوہے کا چنا تھے ۔1510ءمیں ہی ان کے خاندان نے لینڈ لاک ریاست کو بیرونی دنیا سے ملانے کے لیے کئی اقدامات پر کام شروع کیا۔
تاج برطانیہ نے پرتگالی گوا اور نظام آف حیدر آبادکے لیے کئی صدیوں تک معاہدے کیے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانویوں نے ایک کے بعد ایک معاہدہ کر کے اپنی حکومت کو وسعت دی۔ اور اسی میں سے یہ لوگ پیسہ بناتے تھے۔ ماﺅنٹ بیٹن نے بھی پیسہ بنایا اور میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں کی خریدو فروخت میں بھی انگریزوں نے در پدر کھدائی کی۔ آج کی کرنسی میں کلکتہ میں بغاوت کے لیے کروڑوں روپے میر جعفر سے لیے تھے۔ اس معاہدے کے بھی 3بینی فشری تھے۔ گوا کی بندرگاہ ، حیدر آباد کو مل جاتی اس کی ترقی کو چار چاند لگ جاتے۔ حیدر آباد تو لینڈ لاک ملک سے نکل کر کہیں زیاد ہ طاقتور اور بندرگاہ کا حامی ملک بن کر نکلتا اور الیگزینڈر راجر اسے تو خزانہ مل چکا۔
قیام پاکستان بھی سر الیگزینڈر راجر معاہدے کی تکمیل میں لگا رہا۔ پرتگالی وزیراعظم انتونیو ڈی اولی ویرا سالا زارنے اسے معاہدہ کر نے کا مکمل اختیار دے رکھا تھا۔ اسی موضوع پر انڈیا میں جنرل آف انڈین ہسٹری میں بھی ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا۔ بقول مصنف سالار نے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کو دھوکے باز اور ناقابل اعتبار سیاستدان قرار دیا۔وہ ہندوستان کی چھوٹی ریاستوں کو مسلسل جذب یا زعم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ قیام پاکستان کے بعد نظام آف حیدر آباد کے مشیروں نے معاہدے کو انجام تک پہنچانے کی بہت کوشش کی، وہ اس عبوری معاہدہ کی تگ و دو میں بھی لگے رہے۔ کوئی سٹینڈ سٹیل ایگریمنٹ ہی ہو جائے۔ نظام کے نمائندے نے پرتگالی نمائندوں سے کہا۔ نظام نے انگریزوں کے ساتھ کئی معاہدوں پر بھی دستخط کیے تھے جن کا مقصد حیدر آباد کو معاشی استحکام اور سماجی تحفظ مہیا کرنا تھا۔ یہی نہیں بلکہ نظام نے اپنی ریاست میں انگریز مشیر بھرتی کر رکھے تھے ۔ان کا ایک مشیر سر والٹر ماﺅنٹن walter monckton شامل تھا۔ سٹینڈ سٹیل ایگریمنٹ میں اس مشیر کی کوششوں کا بھی عمل دخل ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نظام اوربھارتی حکومت کے مابین کشیدگی انتہا پر تھی۔ الزامات در الزامات کا سلسلہ جاری تھا ۔ بھارت نے حیدر آباد میں امن و امان کی آگ کو بھڑکایا ۔ بھارتی گھس بیٹھیوں نے حیدر آباد کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے اپنے ایجنٹ چھوڑے جنہوں نے وہاں فرقہ وارانہ فسادات اور لوٹ مار شروع کر دی۔ کھانے پینے کا سامان ویسے ہی کم تھا۔ جو تھا وہ بھی ان لوگوں نے لوٹ لیا۔ اس مرما گوا کی بندرگاہ کی خریدو فروخت اسی ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کی نظر ہو گئی۔ حیدر آباد کو بھارت میں شمولیت کے لیے نہرو نے بڑی منفرد حکمت عملی اختیار کی ایک طرف سماجی بائیکاٹ کیا دوسری طرف حیدر آباد کے اندر اپنے گروہ کے ذریعے تشدد کی آگ بڑھکائی اس سے ملتی جلتی حکمت عملی سابق مشرقی پاکستان میں استعمال کی گئی جہاں مکتی باہنی نے بنگالیوں کا قتل کیا، تشدد کیا اسی کے پروفیسروں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں علیحدگی کے بیج بوئے جو ایک تحریک کا باعث بنے۔ نظام آف حیدر آباد نے بھارتی حکمرانوں کو حیدر آباد کی تعلیمی اداروں میں گھس بیٹھیوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کا تعلیمی ڈھانچہ صاف ستھرا اور ہر برائی سے پاک تھا مگر نظام آف حیدر آباد کو مار صرف لینڈ لاک کی وجہ سے پڑی اور پھر بالآخر انہیں اپنے عوام کو روٹی مہیا کرنے کے لیے بھارتی مطالبات کے آگے جھکنا پڑا۔
17ستمبر 1948ءکو بھارتی فوج حیدر آباد میں داخل ہوئی ۔ فوجی بوٹوں تلے حیدر آباد کی آزادی کچلی گئی۔ تاریخ میں یہ کسی ریاست کو سرنگوں کرنے کا عمل آپریشن پولو یا پولیس ایکشن کہلاتا ہے۔ اس کا مقصد حیدر آباد کو بھارت کا حصہ بنانا تھا۔ میجر جنرل جی این چوہدری نے چار محازوں سے حملہ کیا بڑا حملہ شعلہ پور کی جانب سے ہوا۔ اور لگ بھگ 4دن اور 4گھنٹے نظام کی فوج بھارتی فوج کے سامنے بے بس تھی۔ مگر بھارتی فوجی حیدر آباد کے عوام کے دل جیتنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے علاقہ تو فتح کر لیا مگر وہ عوام کے دل جیتنے میں ناکام رہے۔ لہٰذا حیدر آباد 1961ءتک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر قائم رہا پھر خفیہ اداروں نے ایک اور خفیہ آپریشن تشکیل دیا۔ یہ آپریشن وجے کہلاتا اس آپریشن کی قیادت بھی جی این چوہدری کے سپرد تھی ۔ وہ حیدر آباد کو ایک دفعہ فتح کر چکے تھے۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل اور جی او فی انچیف برائے جنوبی کمانڈ اس وقت پونے میں تعینات تھے۔ انہیں 7اکتوبر 1961ءمیں گوا میں فوجی کارروائی کا حکم ملا۔ 17دسمبر سے 19دسمبر 1961ءتک ان کی فوج نے گوا پر قبضہ کر لیا۔ یوں عوامی خواہشات پر ریاستی طاقت غالب آگئی۔ یہ تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے۔ بھارتی تاریخ قبضے ، تسلط اور فوجی کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ دھوکہ دہی، عیاری اس کے پس منظر میں کار فرما ہے انہی عناصر کی مدد سے بھارتی رہنماﺅں نے اس ملک کی تشکیل کی جسے وہ آج بھارت ماتا کہتے ہیں اسی بھارت ماتا کے لیے آج بھارت میں قتل عام ہو رہا ہے۔ بھارتی باشندے مخالفین کو کچلنے کے در پے ہیں۔ ان کے طاقتور گروپ مختلف جھتوں کی صورت میں لسانی ، مذہبی یا سیاسی اختلافات کی حامل شخصیات کو زندہ جلا رہے ہیں۔ ایسے واقعات اب بھارت میں ہو چکے ۔ جو بھارت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔لیکن انہیں کیا پرواہ ہے۔
دہلی کے مرکزی حصے کے قریب ایک قبر ہے یہ قبر صفدر جنگ کی ہے۔ صفدر جنگ کا اصلی نام عبدالمنصور خان ہے۔ جبکہ یہ قبر 1754ءمیں مرزا مقیم عبدالمنصور خان کے بیٹے نے بنوائی۔

یہ بھی پڑھیں:  اکبر کے مذہبی خیالات اور نئے تاثرات