umro ayara

عمرو کی استاد سے شرارتیں (۳)

EjazNews

جمعہ کا دن تھا، عمرو ایک بساطی کی دکان پر گیا اور دوکاندار کے کان میں آہستہ سے کہا ’’تم یہاں بیٹھے رہو اور گھر میں تمہاری بیوی بہت بیمار ہو گئی ہے۔‘‘ اس دوکاندار کو اپنی بیوی کی فکر ہو گئی اس نے اپنے شاگرد سے کہا’’تم دوکان کا خیال رکھو میں گھر سے ہو کر آتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر دوکاندار جلدی جلدی گھر کی طرف گیا۔ عمرو بھی تھوڑی دور تک اس کے پیچھے گیا اور پھر واپس دوکان پر آیا اور شاگر د سے کہنے ’’لگا سوئیوں کا پڑ ا تمہارے استاد نے مانگا ہے کسی شخص کو وہ بیچنا پڑا ہے ‘‘۔ شاگرد نے سوئیوں کو پڑیا میں باندھ کر وہ پڑا عمرو کو دے دیا اس پڑے کو لے کر اپنے گھر آگیا۔
دوسرے دن صبح سویرے عمرو مدرسے میں آیا اور استاد کے بیٹھنے کی جگہ پر سوئیاں رکھ کر اوپر چادر بچھا دی اور چلا گیا۔ جب سب لڑکے پڑھنے کے لئے آگئے تو عمرو بھی آیا۔ استاد نے جیسے ہی اپنی جگہ پر پائوں رکھا تو سوئیا ں اس کے پائوں میں چھید گئیں وہ آہ کر کے بیٹھا تو بیٹھتے ہی سوئیاں جسم میں گڑ گئیں اور ہر جگہ سے خون بہنے لگا۔ استاد درد کے مارےبیتاب ہوگیا اور درد سے تڑپنے لگا۔ اس کی خراب حالت دیکھ کر لڑکے گھبرائے اور بھاگ کر استاد کے پاس آئے۔ استاد نے کہا۔ ’’درد سے میری جان نکلی جارہی ہے۔ میرے جسم سے سوئیاں نکالو‘‘۔ سب لڑکوں نے استاد کے جسم سے سوئیاں نکالیں۔ جب سب سوئیاں نکال چکے تو استاد لیٹے اور دوپہر تک بے ہوش رہے۔ سوئیوں کی وجہ سے تمام جسم سوج گیا۔ جب استاد کو ہوش آیا تو کہا۔’’لڑکو! معلوم نہیں تم میں سے میرا ایسا دشمن کون ہے جس نے یہ حرکت کی اور مجھے اتنا سخت درد اور تکلیف دی۔ جانے وہ کون ہے جو میری تکلیف سے خوش ہوتا ہے‘‘۔ عمرو نے کہا۔ ’’اگر ہمیں معلوم ہو جائے تو ہم اس سے بھی ایسا ہی سلوک کریں اور ان سوئیوں کو اس کے جسم میں چھید دیں۔ ایک دفعہ معلوم ہو جائے۔ پھر بچہ یاد کرے گا۔‘‘ استاد نے عمرو سے کہا۔ ’’تم جاکر سواری لے آئو تاکہ میں سوار ہو کر گھر جائوں اور آرام کروں۔‘‘عمرو جا کر سواری لایا ۔ استاد اس پر سوار ہوا اور لڑکوں سے کہا۔ ’’تم بیٹھے پڑھتے رہو۔جب چھٹی کا وقت ہو تو اپنے گھروں کو چلے جانا۔‘‘ یہ کہہ کر استاد نے عمرو کو ساتھ لیا اور اپنے گھر کی طرف سواری میں چلا۔ جب سواری بساطی کی دوکان کے سامنے سے گزرنے لگی تو دوکاندار نے عمرو کو دیکھ لیا۔ اسی وقت دوکان سے بھاگا اور کہنے لگا۔ ’’لڑکے تو بڑا شریر ہے۔ کل مجھ کو بہانہ کر کے دوکان سے اٹھایا اور جب میں گھر چلا گیا تو شاگرد سے سوئیو ں کا پڑا لے گیا۔ تم نے میرا نقصان کیا۔ اب ٹھہر جا میں تیری خبر لیتا ہوں۔‘‘ استاد نے سوئیوں کا نام سنا تو دوکاندار سے کہنے لگا۔ ’’کیا بات ہے۔‘‘دوکاندار استاد کو ساری بات بتانے لگا۔ استاد نے تو دوکاندار کی بات سننے لگا اور عمرو نے سوچا موقع اچھا ہے۔ یہاں سے بھاگ جانا چاہئے۔ اب عمرو جلدی جلدی بھاگ کر مدرسے گیا۔ امیر حمزہ اور مقبل سے کہا ’’اب ہم اس شہر میں نہیں رہ سکتے۔‘‘ امیر حمزہ نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ ’’مجھے اتنی فرصت نہیں ہے بہت جلدی میں ہوں۔ پوری بات بتا نہیں سکتا بس اب مجھے اجازت دو میں شہر چھوڑ کر جارہا ہوں ۔ زندہ رہا تو پھر ملاقات ہوگی۔‘‘ امیر حمزہ نے کہا۔ ’’یہ کیا کہہ رہے ہو ، میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ جہاں تم جائو گے میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔ تمہیں اکیلے نہیں جانے دوں گا۔ چلو دونوں ساتھ چلتے ہیں۔‘‘ مقبل نے یہ دیکھا تو کہا۔ ’’یارو مجھے چھوڑ کر کیوں جارہے ہو میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔ میں تم دونوں کے بغیر یہاں رہ کر کیا کروں گا۔‘‘ یہ تینوں لڑکے چلے تو جو لڑکے امیر حمزہ کے دوست تھے وہ بھی ساتھ چلوں گا۔عمرو ان سب کو لے کر شہر سے نکل گیا۔
شہر سے باہر ایک پہاڑ تھا۔ جبل ابو قبیس نام تھا اس کا۔ یہ سب لڑکے اسی پہاڑ کے غار میں جاکر چھپ گئے۔ ساری رات اسی غار میں گزاری اور یہیں سوئے رہے ۔ صبح اٹھ کر ایک چشمے کے پانی سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ اس کے بعد سب مل کر باتیں کرنے لگے۔ ادھر ادھر کی باتوں میں وقت گزرنے کا خیا ل نہ رہا۔ جب اچھی طرح دن نکل آیا تو امیر حمزہ نے عمرو کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’بھوک بہت لگی ہے، رات سے کچھ نہیں کھایا اب تو بھوک برداشت نہیں ہو رہی۔ کچھ کھانے کے لئے ہونا چاہئے۔‘‘عمرو نے کہا ’’سب یہاں ٹھہرو میں جا کر کھانا لاتا ہوں ‘‘۔ عمرو نے سب لڑکوں کو اسی غار میں چھوڑا اور خود شہر کی طرف گیا۔ شہر میں قصائی کی دوکان سے ایک آنت لی اور چل پڑا۔ راستے میں آنت صاف کرتا گیا۔
شہر میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی، اس کا نام زبیدہ تھا۔ زبیدہ نے بہت ساری مرغیاں پالی ہوئی تھیں۔ وہ ان مرغیوں کے انڈ اور چوزے بیچ کر گزارا کرتی تھی۔ عمرو زبیدہ کے گھر کے پچھواڑے گیا۔ وہاں مرغیاں دانہ دنکا چگ رہی تھیں۔ عمرو نے آنت کے ایک سرے پر گرہ لگائی اور اس گرہ والے سرے کو مرغیوں کی طرف پھینک دیا۔ ایک مرغی نے دیکھ لیا اور وہ دوڑ کر آئی اور اس نے گرہ کو کھانے کی چیز سمجھ کر نگل لیا۔ عمرو نے دوسرے سرے کو جو اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا، اس سرے کو پھونک مار کر پھلانا شروع کیا۔ آنت جب پھول گئی تو مرغی کے گلے میں گر ہ اٹک گئی۔ مرغی درد سے تڑپنے لگی کیونکہ اس کے گلے میں اٹکی ہوئی گرہ اسے تکلیف دے رہی تھی۔ مرغی کی آواز بھی نہیں نکلی اور عمرو نے چپکے سے مرغی کو پکڑ لیا اور ایک طرف ہو کر مرغی کو ذبح کر دیا۔ مرغی کے پر نوچے اور صاف ستھرا کیا اور اپنے رومال میں باندھ لیا۔ اب زبیدہ کی چھت پر چار پانچ پتھر مارے۔ زبیدہ شور مچاتی ہوئی اس طرف آئی کہ کون ہے جو چھت پر پتھر مار رہا ہے۔ یہاں زبیدہ مرغیوں کو دیکھ رہی تھی اور وہاں دوسری طرف عمرو اپنی کارروائی میں لگا ہوا تھا۔ عمرو نے دوسری طرف جا کر بانس کے بنے ہوئے ٹوکروں کو دیکھا جن میں انڈے بھرے ہوئے تھے اس نے انڈوں سے بھری ایک ٹوکری اٹھائی اور چل پڑا۔
اب عمرو ایک کباب بنانے والے کی دوکان پر پہنچا وہاں جا کر اس نے کبابی سے کہا ’’ان انڈوں کا خاگینہ بنا دو اور مرغی کے کباب بنادو ۔ پانچ روپے کی روٹیاں اور قلچے بنا دو۔ ان تمام چیزوں کو تھال میں لگا دو۔ کبابی سے جب یہ کہا تو اس نے کہا ’’پیسے کون دے گا۔‘‘ عمرو نے کہا ’’خواجہ عبدالمطلب کے گھر مہمان آئے ہیں ان کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ پیسے خواجہ صاحب دیں گے۔‘‘ کبابی نے خواجہ عبدالمطلب کا نام سنا تو اپنا ہر کام چھوڑ کر پہلے حلوہ بنایا، مرغی کے کباب بنائے، روٹیاں قلچے تیار کئے اور تھال میں تمام چیزیں سجا دیں۔ عمرو نے تھال اپنے سر پر اٹھایا اور چل پڑا۔ کبابی نے ایک آدمی ساتھ کر دیا اور اس سے کہا ’’خواجہ صاحب سے پیسے لے آنا‘‘۔ عمرو کچھ دیر تک اس آدمی کے ساتھ چلتا رہا۔ تھوڑی دور جا کر آدمی سے کہا ’’تم خواجہ عبدالمطلب کے دیوان خانے میں جا کر بیٹھو۔ مجھے ایک کام کرنا ہےمیں وہ کام کر کے آتا ہوں۔‘‘وہ آمی خواجہ صاحب کے گھر کی طرف چلا اور عمرو ابو قبیس پہاڑ کی طرف دوڑ لگا دی۔ بھاگم بھاگ وہ پہاڑ کے پاس جا پہنچا اور جو کچھ لے گیا تھا ۔امیر حمزہ کے سامنے رکھ دیا۔ امیر حمزہ نے کھانادیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ کھانا تو اچھا لایا ہے۔ امیر حمزہ نے باقی لڑکوں کو بھی بلا لیا اور سب لڑکوں نے مل کر مزے دار کھانا کھایا۔ سب لڑکوں نے عمرو کے کھانا لانے کی بہت تعریف کی اور عمرو کی پیٹھ پھونکی اور شاباشی دی کہ اتنا اچھا کھاناکھلا کر دل خوش کر دیا۔ سب لڑکے کھانا کھا کر خوش گپیاں کرنے لگے اور کھیل کود اور باتوں میں لگ گئے ،آج وہ سب بہت خوش تھے کہ انہیں استاد کی مار اور ڈانٹ سے نجات ملی تھی۔ وہ سب آزاد تھے اور کسی قسم کی فکر انہیں نہیں تھی۔ یہ سب تو یہاں اپنی آزادی پر خوش تھے اور ادھر خواجہ عبدالمطلب کی طرف کیا ہو رہا تھا ؟۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو پر خاص عنایت