dinso hall

ڈینسو ہال ایک تاریخی عمارت جو حوادث زمانہ کی زد میں ہے

EjazNews

سنسان سی عمارت اپنی بے قدری پہ نوحہ کناں نظر آتی ہے، ماضی میں اس کی رونق بھی دیدنی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ تجاوزات میں گھری اس خُوبصورت عمارت کو انگریز سرکار نے لائبریری کے طور پر تعمیر کیا، لیکن یہ کوئی عوامی کتب خانہ نہیں تھا، بلکہ اسے کراچی میں تعینات 1882 برطانوی افسران کے لیے قائم کیا گیا۔ اسے شہر کے معروف پارسی سماجی رہنما، ایڈلجی ڈینشو کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ یہ وہی ایڈلجی ڈینشو ہیں، جن کے بیٹے کے نام پر این ای ڈی یونیورسٹی کا نام رکھا گیا یعنی نادر شاہ ایڈلجی ڈینسو یونیورسٹی۔ تاہم، بیش تر محققین کا کہنا ہے کہ یہ عمارت 1886 ء میں کراچی چیمبر آف کامرس کے چھ بار چئیرمین رہنے والے، میکس ڈینسو کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی، جس کے لیے 9 ہزار روپے اُن کے دوستوں اور باقی رقم کراچی میونسپلٹی اور چیمبر آف کامرس نے فراہم کی، جب کہ جیمز اسٹریچن نے اس کا نقشہ بنایا۔ اسی نقشہ ساز نے ایمپریس مارکیٹ، سندھ مدرسۃ الاسلام اور جہانگیر کوٹھاری بلڈنگ کے بھی نقشے بنائے تھے، اسی لیے ان عمارتوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ کتب خانہ برطانوی شہریوں کے لیے نہیں، بلکہ مقامی افراد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ڈینسو ہال کے سن تعمیر پر اختلاف ہے۔ بعض محققین نے 1886 ء تو کئی ایک نے 1888ء بتایا ہے، مگر کسی نے بھی کوئی ایسا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا کہ جس کی بنا پر اُس کی رائے کو ترجیح دی جا سکے۔ بہرکیف، پتھروں سے بنائی گئی اس دومنزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر کئی کمرے ہیں، جو کبھی لائبریری کے لیے استعمال کیے جاتے تھے، جبکہ بالائی منزل پر ایک 60 فٹ لمبا اور 30 فٹ چوڑا ہال ہے، جس میں تین سو سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ چونکہ عمارت کے دونوں اطراف سڑکیں ہیں، اس لیے دونوں جانب بالکونیاں بھی بنائی گئی ہیں۔ عمارت کے سامنے کا حصّہ انتہائی پُرکشش ہے، جس میں ایک گھڑیال بھی نصب ہے، جس کی سوئیاں ایک مدت سے کسی مسیحا کے انتظار میں رُکی ہوئی ہیں۔ اس گھڑیال کو راؤ صاحب مورارجی نے بطور تحفہ دیا تھا۔ انگریز دور میں تعمیر کی گئی کراچی کی کئی تاریخی عمارتوں کے بلند حصوں پر گھڑیال نصب کیے گئے تھے، مگر افسوس کہ تقریباً گھڑیال ہماری لاپروائی کے سبب ناکارہ ہوچکے ہیں۔
قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی بہت عرصے تک یہ لائبریری اہل علم کا مرکز رہی۔ یہاں مختلف تقاریب بھی منعقد ہوا کرتی تھیں، جب1950 ء میں حسرت موہانی پاکستان تشریف لائے، تو ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے اُن کے اعزاز میں ڈینسو ہال کی لائبریری ہی میں تقریب منعقد کی۔ بعض شواہد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لائبریری ستر کی دہائی تک قائم تھی اور لوگ مطالعے کے لیے بھی آیا کرتے تھے، پھر نہ جانے اس پر ایسی کیا قیامت گزری کہ تقریباً ایک صدی تک علم کی روشنی پھیلانے والی یہ شمع بجھ گئی۔ قدیم لائبریری تھی، تو کتابیں بھی قدیم ہی ہوں گی، مگر وہ کہاں گئیں؟ کسی کی ذاتی لائبریری کی زینت بنیں یا کسی کباڑیے کو فروخت کردی گئیں؟ یقیناً یہاں اخبارات، خاص طور پر مقامی اخبارات کا بھی اچھا خاصا ریکارڈ ہوگا، وہ کہاں غائب ہوگیا؟ ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ دراصل، ڈینسو ہال میں مختلف بلدیاتی محکموں کے دفاتر کام کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے لائبریری سکڑتے، سکڑتے ختم ہی ہوگئی۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہاں واٹر بورڈ کے دفاتر قائم تھے، جس کے سبب اس تاریخی ورثے کا حلیہ ہی بگڑ گیا۔ 24 اکتوبر 2009 ء کو’’ کے ای ایس سی‘‘(موجودہ کے الیکٹرک) اور’’ ہیریٹیج فاؤنڈیشن، پاکستان‘‘ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے جس کے مطابق دونوں ادارے ڈینسو ہال کی بحالی کے لیے مل کر کام کریں گے اور سٹی گورنمنٹ اس ضمن میں تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے گی۔ پھر سندھ حکومت نے بھی2010 ء میں اس عمارت کو’’ ثقافتی ورثہ‘‘ قرار دے دیا۔ اور یوں اب ڈینسو ہال کو اصل حالت میں بحال کرنے کا کام جاری ہے۔ چونکہ یہ عمارت، کے ایم سی کے پاس رہی ہے، تو یہاں موجود قدیم کُتب اور اخبارات کا ریکارڈ بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے، لہٰذا ڈینسو ہال کی عمارت کی بحالی کے ساتھ اس تاریخی ریکارڈ کو بھی تلاش کیا جانا ضروری ہے۔ ڈینسو ہال کے اطراف بڑے پیمانے پر تجاوزات قائم ہیں، جس نے عمارت کے حُسن کو گہنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ ان تجاوزات نے اس کے مرکزی دروازے تک کو بند کردیا ہے۔ سو ان تجاوزات کے خاتمے کے بغیر اس تاریخی ہال کو اصل شکل میں بحال کرنا ممکن نہیں، مگر اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ یہ دکانیں اور پتھارے، کئی دہائیوں سے ڈینسو ہال کے اطراف قائم ہیں، جنھیں ختم کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک ایسی جامع پالیسی کی ضرورت ہے، جس سے ایک طرف تو ان تجاوزات سے چھٹکارا پاکر ڈینسو ہال کی تاریخی حیثیت بحال کی جاسکے، تو دوسری طرف، متاثرین کے نقصانات کا بھی ازالہ ہو سکے۔
تجاوزات صرف ڈینسو ہال کا ہی مسئلہ نہیں پورے پاکستان میں ہمارے تاریخی نوادرات ناجائز تجاوزات کی زد میں ہیں ۔اگر ہم واقعی ہم ملک میں سیاحت کو فروخت دینا چاہتے ہیں تو ملک بھر کے تاریخی مقامات کو ہمیں ناجائز تجاوزات سے پاک کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  سلطان جلال الدین برنی