US-North-Korea

امریکہ اور شمالی کوریا ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے

EjazNews

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو دشمن قرار دیتے ہوئے تمام مواصلاتی رابط ختم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے مابین تعلقات پر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی بیان جاری کیا جس کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے ایک سخت بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنی زبان کو لگا م دے اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی بجائے اپنے اندرونی مسائل حل کرنے پر توجہ دے۔
شمالی کوریا کی سرکاری ایجنسی کے مطابق جنول کوان جونگ کا کہناتھا کہ امریکہ اپنی زبان کو لگام دے کیونکہ یہ نہ صرف امریکی مفادات کے لیے بلکہ اس سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے آسان انعقاد کے لیے بھی بہتر ہوگا۔

امریکی صدر کی فراخدلی ، کم جونگ ان سے شمالی اور جنوبی کوریا کی…

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایک سرسری ساجائزہ لیتے ہیں کہ کب ان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے او یہ پایہ تکمیل تک کیوں نہیں پہنچ سکے اور یہ معاملات کیوں حل نہیں ہوسکے۔
ایسا نہیں ہے کہ جنوبی و شمالی کوریا کے درمیان پہلے کبھی مذاکرات ہی نہیں ہوئے، بلکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ چین اور امریکہ کی کوششوں کے باوجود 2007ء، 2011ء اور 2013ء میں ہونے والی بات چیت کے تینوں ادوار ناکام ہوئے اور اسی لیے ماہرین کی مذاکرات کے نئے سلسلے سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہیں۔ اگر متوقع مذاکرات کے پس منظر کو سامنے رکھا جائے، تو بہتری کے کچھ امکانات ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی و دفاعی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ اوباما انتظامیہ کے دور میں شروع ہوا تھا اور ماہرین کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کی جنوب مشرقی ایشیا سے متعلق ’’پائیووٹ‘‘ پالیسی کا محور ہی شمالی کوریا کے ہتھیاروں بالخصوص ایٹمی ہتھیاروں کو کند کرنا تھا۔ اوباما ایک دُور رس اثرات کی حامل دیرپا پالیسی پر یقین رکھتے تھے، جبکہ ان کے جانشین، ڈونلڈ ٹرمپ ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ کی پالیسی پر کاربندہیں اور بار ہا یہ کہہ چُکے ہیں کہ ’’امریکہ ایک سپرپاور ہے اور کوئی اسے ہلکا نہ لے۔‘‘ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے شمالی کوریا کے نوجوان صدر، کم جونگ اُن کی ہر دھمکی کا ترکی بہ ترکی جواب بھی دیا تھا اور اُن کی ’’فائر اینڈ فیوری‘‘ والی مشہور دھمکی نے تو دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا کہ اس دھمکی سے چند ماہ قبل ہی وہ شام میں 59کروز میزائل داغ کر اس کے فوجی اڈے کو تباہ کر چکے تھے۔ دھمکی کے وقت چینی صدر، شی جِن پنگ امریکی سر زمین پر موجود تھے۔ تاہم، ٹرمپ نے تند و تیز بیانات کے ساتھ سفارت کاری کا محاذ بھی گرم رکھا اور اپنے چینی ہم منصب سے شمالی کوریا کومہم جوئی ترک کرنے پر مجبور کرنے کی متعدد درخواستیں کیں۔ اس دوران شمالی کوریا کے ہر میزائل تجربے کے بعد امریکی دبائو پر اقوامِ متحدہ میں نہ صرف پیانگ یانگ کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کی قرار دادیں منظور ہوتی رہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ہوا کہ اس معاملے میں بیجنگ بھی واشنگٹن کا ہم نوا تھا۔ اسے چین کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو عملی تعبیر دینے اور اس کی ساکھ برقرار رکھنے کی شاندار کوشش قرار دیا جاسکتا تھا۔ لیکن کورین تنازع میں اس وقت ایک اور ڈرامائی موڑ آیا کہ جب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما، کم جونگ اُن سے 12جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی۔ ٹرمپ کے کم کو لکھے گئے خط میں کہنا تھا کہ’’ مَیں آپ سے ملاقات کا متمنی تھا، لیکن آپ کے حالیہ بیان میں پائی جانے والی مخاصمت سے ایسا لگتا ہے کہ یہ وقت ملاقات کے لیے مناسب نہیں۔‘‘ اُدھر شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ کم جونگ اُن کسی بھی وقت امریکی صدر سے ملاقات پر آمادہ ہیں۔ لیکن اگر امریکہ نے یک طرفہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہونے پر اصرار کیا، تو وہ یہ ملاقات منسوخ کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  سوڈان میں جمہوریت پسندوں پر فوجی حملے

امریکہ نے شمالی کوریا پر اضافی پابندیاں ختم کر دی

کورین تنازع کے مسلسل نشیب و فراز کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ملاقات کی منسوخی تجزیہ کاروں کے لیے حیرت کا باعث نہیں تھی اور اگر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ عنقریب ہی اس کا ڈراپ سین ہونے والا ہے، تو یہ بھی دُرست نہیں تھا۔ اس دوران ایک اور پیش رفت امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں ’’سیز فائر‘‘ کی شکل میں سامنے آئی تھی۔ اس ضمن میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کو دونوں ممالک کے لیے ہی مفید قرار دیا گیا تھا۔ اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ سارے معاملات کہیں نہ کہیں جا کر ایک دوسرے سے جُڑجاتے ہیں۔ مثلاً شمالی کوریا اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے چینی صدر، شی جِن پنگ کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور خود ٹرمپ بھی بارہا اس کا اعتراف کر چکے تھے۔
ٹرمپ، کم ملاقات کی منسوخی کے بعد یہ سوالات پیدا ہونے لگے تھے کہ کیا شمالی کوریا دوبارہ ایٹمی تجربات شروع کر دے گا؟ کیا امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان گرما گرم بیانات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا؟ نیز، کیا ملاقات کی منسوخی شمالی و جنوبی کوریا کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو گی؟۔
اس کے بعد پھر کچھ ڈرامائی موڑ اور آئے۔ کم ٹرین پر سوار ہو ئے اور روس پہنچ گئے جو کہ امریکہ کیلئے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک طویل خاموشی رہی اور کم کے بیمار اور حتیٰ کہ مر جانے کی افواہیں بھی گردش کرنے لگ پڑیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب میں تیل کی پائپ لائنوں پر حملہ

شمالی کوریا اور روس کی قربتیں

امریکہ کوریا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو تلف کر دیں۔ لیکن کوریا کے سامنے لیبیا کی مثال موجود تھی۔2003ء میں امریکا سے معاہدے کے بعد قذافی نے اپنے ایٹمی پروگرام کو خیر باد کہہ دیا، جس کے نتیجے میں مغرب اور لیبیا کے درمیان تعلقات معمول پر آگئے، لیکن 2011ء میں امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں نے قذافی کے مخالفین کی مدد سے نہ صرف ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، بلکہ انہیں ہلاک بھی کر دیا۔ ناقدین اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام کے خاتمے اور قذافی کی ہلاکت کے درمیان تقریباً 8برس کا وقفہ تھا اور لیبیا کی خانہ جنگی میں ’’عرب اسپرنگ‘‘ نے اہم کردار ادا کیا، لیکن شمالی کوریا نے اس بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ماحول میں مذاکرات کا انعقاد ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق، شمالی کورین حکام نے ’’لیبین ماڈل‘‘ کا مطلب غالباً یہ اخذ کیا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد کم کی حکومت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے، جبکہ وہ یہ معاہدہ اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔ بعض ناقدین اسے جان بولٹن کی سفارتی غلطی یا عجلت بھی قرار دیتے ہیں اور شاید اسی لیے ٹرمپ کو اپنے مشیر کے بیان کی وضاحت کرنا پڑی کہ ’’شمالی کوریا اور لیبیا کے درمیان کوئی موازنہ نہیں۔ کم کی حکومت نہ صرف برقرار رہے گی، بلکہ وہ معاشی استحکام کے لیے اُن کی مدد بھی کریں گے۔‘‘ علاوہ ازیں، شمالی کوریا کو امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی شدید تحفظات تھے، جسے اُس نے اشتعال انگیز اور حملے کی تیاری قرار دیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات منسوخ کر دئیے۔
کورین تنازع پر مستقل نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ شمالی و جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں جس برق رفتاری سے بہتری آئی تھی، اس تیزی سے ہوم ورک نہیں کیا گیا، جو اس قسم کے حساس تنازعات کے دیرپا حل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، تعلقات میں بہتری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد تینوں فریقین کے لیے مذاکرات کا انعقاد ضروری ہو گیا تھا ۔
کہا جاتا ہے کہ کم، ٹرمپ سے ملاقات کر کے دُنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ انہوں نے دبنگ انداز میں دُنیا کی سب سے طاقتور شخصیت تک اپنی بات پہنچا دی۔ تاہم، ٹرمپ ملاقات سے قبل کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنا چاہتے تھے اور اسی لیے انہوں نے کم کو بھیجے گئے اپنے خط کے آخر میں لکھا کہ اگر کم اپنا ذہن تبدیل کرلیں، تو وہ ان سے رابطہ قائم کر لیں گے۔ اُدھر شمالی کوریا بھی تنازع کے حل کا خواہش مند ہے۔ گو کہ امریکہ اور شمالی کوریا دونوں ہی خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر متفق ہیں، لیکن ڈی نیوکلرائزیشن سے متعلق دونوں کی سوچ میں فرق ہے۔
وہ چند ایک ملاقات کے بدلے ان جوہری ہتھیاروں کو کس طرح دائو پر لگا سکتے تھے، جو ان کی اور ان کے پیش روئوں کی 65سالہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ پھر وہ اپنے تحفظ کی ضمانت بھی مانگتے تھے، جبکہ امریکہ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو فوراً ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنا پڑے گا اور تبھی اس کی حفاظت کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نیوزی لینڈ کی 2مساجد میں فائرنگ49افرادجاں بحق