Shivaji

مرہٹوں کا دکن میں فروغ

EjazNews

مغل شہزادوں کی خانہ جنگی کے زمانے میں دکن کی ’’شاہیوں ‘‘ کو خاصی فرصت مل گئی تھی۔ بیجا پور والوں نے اسے آپس کی لڑائی ، رقابت و حسد کی مشق میں صرف کیا۔ گول کنڈ ے کے بادشاہ عیش شراب لنڈھاتے ، گلاب کے حوضو ں میں غوطے لگاتے رہے۔ البتہ دکن کے جنگل اور پہاڑوں کی ایک نئی قوم تاریخ کے میدان میں آرہی تھی۔ یعنی مرہٹے جن کی نسل دراوڑی، زبان آریائی اور وطن شمالی دکن سے مغرب گھاٹ کے علاقے تک پھیلا ہوا تھا۔ اس مہارا شٹر یا مرہٹہ دیش کابڑا حصہ بیجا پور و احمد نگر کی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ جب مغلوں کا سیلاب بندھیا چل سے نیچے امنڈا تو سب سے پہلے ملک عنبر نے اپنی مرہٹہ رعایا کو نظام شاہی فوجوں میں بھرتی کیا اور قزاقانہ جنگ کے گر سکھائے جس کے لئے یہ چالاک اور گھنی قوم جسماً و طبعاً بہت موزوں ثابت ہوئی۔ ملک عنبر کی وفات کے بعد اس کا فوجی نظام کافور ہو گیا تاہم بعض مرہٹہ سرداروں کو بیجا پور میں جاگیریں مل گئیں۔ ان میں سابق نظام شاہی امیر ساہو جی ممتاز تھا۔ اسے پونا اور سوپا کے پرگنے اور جنگی خدمات کے صلے میں کرناٹک کا کچھ علاقہ عطا ہوا۔ اسی کا چھوٹا بیٹا شوا جی تھا جس نے لڑکپن سے رہزنی کی مشق بہم پہنچائی اور حکومت بیجا پور کی غفلت و بدظمی میں نشوونما پائی ۔ عمر کے ساتھ جب اس کی جمعیت بڑھی تو آس پاس کے قصبوں کو لوٹنے لگا ۔پے در پے شکایتوں پر حکومت نے اس کے باپ ساہو کو قید میں ڈال دیا کیونکہ بیجا پور میں سب یہی سمجھتے تھے کہ شیوا جی کی دست درازی باپ کے اشارے سے ہے۔ شیواجی نے مجبور ہو کر مغلیہ دربار میں عرضی گزرانی اور شاہ جہاں کے حکم سے دربار بیجا پور نے ساہو کو قید سے رہائی دی تاہم نگرانی قائم رکھی اور اسی کے قتل کیے جا نے کے خوف سے شیوا نے کئی سال تک کوئی تازہ فساد برپا نہیں کیابلکہ اپنی جاگیر ہی میں فوجی قوت بڑھاتا اور قلعے بنواتا رہا ۔ پھر مغل شہزادوں کی جنگ اور محمد عادل شاہ کی وفات نے شمال مغربی دکن اور بیجا پور میں ابتری ڈال دی۔ تب شیواجی نے دور دو ر چھاپے مارے۔ کئی پرگنو ں پر قبضہ کر لیا۔بیجا پور کے سپہ سالار افضل خاں کو دھوکے سے مار ڈالا۔ علی عادل شاہ نے فوج کشی کی تو پہاڑوں میں جا چھپا اور آخر باپ کی سعی سفارش سے اس شرط پر معافی حاصل کرلی کہ آئندہ بیجا پور کی مملکت میں غارت گری نہ کی جائے ۔ ممکن ہے یہ اسے مغلیہ علاقے پر لہکانے کی تدبیر ہو کیوں کہ اب اس کے گرد پچاس ہزار سے زیادہ لٹیرے جمع ہو گئے تھے۔ جنہیں کھلانے کے لئے پونا کی جاگیر کسی طرح کافی نہ تھی۔ چنانچہ یہ غارت گر آئندہ سال اورنگ آباد کے سرحدی پرگنوں میں نمودار ہوئے ۔بیجا پور والوں نے اپنی ذمہ داری سے تحاشی دی۔ مغل بادشا ہ نے چند سال پہلے شیواجی کی عرضی پر ساہو کو قید سے چھڑوایا تھا۔ اب اگر وہ کافر نعمت اپنے سابقہ محسنوں پر پلٹ پڑا تو دربار بیجا پور کو کیا پڑی تھی کہ سدباب کرتا۔ غرض مغل صوبہ دار شائستہ خاں نے خود فوج کشی کی ۔ حسب عادت شیوا سامنے آنے سے بھاگا۔ کوکن کے سب قلعے مغل فوج کے قبضے میں آگئے۔ شائستہ خاں نے پونا فتح کر لیا اور خاص شیوا جی کی حویلی میں قیام کیا۔ شیوا ایک اندھیری رات میں چھپ کر آیا۔ چند خونی ساتھ لایا اور سوتے میں شائستہ خاں پر تلوار چلائی مگر اس کے جاگتے ہی چور قاتل فرار ہو گئے۔ پھر بھی امیر الامرا کوایسی شرمندگی ہوئی کہ بادشاہ کو لکھ کر اپنا تبا دلہ کرالیا۔ نئے صوبہ دار شہزاد معظم نے اسی قدر تادیب پر اکتفا کیا۔ راجہ جے سنگھ کی سفارش سے شیواجی کو پھر معافی مل گئی۔ مگر جن ماولیوں اور مرہٹوں کو لوٹ کی چاپڑ گئی تھی انہیں ہل چلا کے موٹی جھوٹی روٹی کھانے میں مزا نہ آنا تھا۔ کوئی دو سال بعد چھپ کر جمع ہوئے اور اچانک سورت کی بندگارہ پر حملہ کیا۔ حاجیوں کی کشتیاں بظاہر مشرقی اور جنوبی سمت بغیر حفاظت کھڑی تھیں انہیں لوٹ لیا اور اسی تیزی سے اپنے پہاڑوں میں جا چھپے۔ لیکن عالمگیر جیسے بادشاہ سے بھاگ کر نکل جانا سہل نہ تھا۔ چند مہینے کے اندر دلیر خاں اور جے سنگھ شاہی فوج لے کر آپہنچے۔ سارے کوکن کو پامال کر ڈالا اور ایسی ناکہ بندی کی کہ ’’موش کوہی‘‘ کو سرک جانے کے لئے سوراخ نہ ملا۔ راجہ جے سنگھ نے اول اول اس کی منت سماجت پر توجہ نہ کی مگر جب وہ امان مانگنے تنہا شاہی لشکر میں آیا تو مغلیہ روایات کے بموجب اطاعت قبول کر لی۔ اس کا سب سے بہتر علاقہ ضبط ہوا اور یہ ریاست بیجا پور کی بجائے مغلوں کی باجگ زار قرار دی گئی۔ سال آئندہ لشکر شاہی بیجا پور کی تادیب کے لئے چلا تو شیوا کا بیٹا اپنی جمعیت کے ساتھ مغل سپہ سالار کے ہمرکاب حاضر تھا۔ ان خدمات کے صلے میں بادشاہ کی خوش نودی کا پروانہ حاصل ہوا جشن سالانہ میں شرکت کے لئے باپ بیٹے آگرے بلائے گئے ۔دربار میں نذر گزرانی اور دونوں کو پنج ہزاری منصب عطا ہوا (1067ھ) پھر کچھ غلط فہمی، کچھ بد گمانی کی بنا پر شیوا جی چھپ کر آگرے سے بھاگا اور غیر معروف راستوں سے بمشکل تمام نو مہینے میں پونا پہنچ گیا تاہم سلطنت مغلیہ کی عظمت و قوت دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ قزاقی کی بجائے اگر مستقل ریاست قائم کرنی ہے تو مغلوں کے بغیر کام نہ چلے گا ۔چنانچہ دکن کے نیک مزاج صوبہ دار (شہزادہ معظم ) کی وساطت سے پھر با دشا ہ سے معافی مانگ لی اور آئندہ کئی سال تک اپنی ریاست کو مغلوں کے نظام حکومت کے مطابق منظم کرتا رہا۔ البتہ ساہو کی وفات پر اپنی راجگی کا دھوم دھام سے اعلا ن کیا ۔ باپ کی جاگیر واقعہ کرناٹک بھی اپنے بھائی سے جبراً چھین لی۔ اسی طرف جاتے وقت وہ قطب شا ہی کے نئے وارث ابو الحسن تانا شاہ سے گول کنڈے میں ملاتی ہوا۔ بہت سی توپو ں اور غالباً روپیہ بھی تحفتۃ اسے ملا اور ایک دفعہ پھر بیجا پور اور گول کنڈے کی مدد اور شہ سے وہ مغلوں سے سرکشی پر آمادہ ہو گیا۔
دکن کی شاہیوں کی تباہی:
ایک مدت تک سفیروں کے قدم ، منشیوں کے قلم گھستے رہے ۔ دکن کے عیار ارباب سیاست قابو میں نہ آئے وہ جس خود مختاری سے خود غرضی اور فساد پروری کاکم لیتے رہے تھے، اسے ہاتھ سے دینا گوارا نہ کرتے تھے۔ تہدید و عتا ب سے کام نہ چلا تو مغل بادشاہ نے فوج کشی کی ۔ اہل بیجا پور میدان میں ڈٹ کے لڑے۔ پھر قلعہ بند ہو کے بہت دن تک اڑے رہے۔ مرہٹوں کو اکسایا۔ گول کنڈے کو مدد پر بلایا۔ مغل شہزادوں اور سپہ سالاروں کے اخلاف سے فائدہ اٹھایا لیکن رفتہ رفتہ عالم گیر کی گرفت سخت ہوتی گئی۔ بیجا پور کی ہتھیار ڈالنے پر عادل شاہی کا وارث مغل امرامیں منسلک اور اس کا ملک سلطنت مغلیہ کا جزا بنا لیا گیا۔
ایک اور مغل لشکر قطب شا ہی سے لڑنے بھیجا گیا تھا۔ بادشاہ کابڑا فرزندمحمد معظم جنگی معرکے میں فتح یاب اور شہر حیدر آباد میں داخل ہوگیا ۔ تانا شاہ نے گول کنڈے کے قلعے میں پناہ لی۔ معظم کی مروت سے صلح کی شرطیں بھی آسان قرار پا گئی تھیں لیکن شاہی فوج کے ہفتے ہی انہیں التوا میں ڈالا اور ایک تازہ فوج مرتب کی جسے زعم تھا کہ خود عالم گیر کا سر ا تارلائے گی۔ یہ شیخی خورے مغلوں کی آمد آمد سن کر ہی میدان سے بھاگ آئے لیکن قلعہ بند ہو کر تانا شاہ نے کئی مہینے مقابلہ کیا۔ قلعے کی وسعت و سنگینی اور بعض سرداروں کی جان بازی کے علاوہ ، خارجی اسباب سے بھی مدد ملی۔ شہزادہ معظم سے خفیہ نامہ و پیام جاری تھے۔ شاہی لشکر کے ہر منصوبے کی خبر پہلے سے محصور ین کو پہنچ جاتی اور وہ ہوشیار و تیار ہو جاتے تھے ۔ بارش کی غیر معمولی شدت، رسد رسانی کی وقت محاصرین کو الگ پریشان کئے ڈالتی تھی۔ بہ ایں ہمہ بادشاہ کا آہنی استقلال اقبال کی دلیل، کامیابی کا کفیل تھا۔ تانا شاہ کے مایوس امرا مغلوں کی اطاعت قبول کرنے لگے اور آخر کار خود پہرہ داروں نے قلعہ کا پھاٹک کھول دیا۔ تانا شاہ کے ساتھ کرو ڑہا روپے نقد اور بیش بہا جواہرات فتح مندوں کے ہاتھ آئے یہ اس خراج کی رقم سے کہیں زیادہ مالیت تھی، جسے ادا نہ کرنے کے باعث قطب شاہی پر حملے کی آفت آئی اور آزادی کا خاتمہ ہوا۔
ان عظیم فتوحات کے بعد مغلوں نے نیا انتظام جمانے اور مرہٹو ں کا فساد مٹانے پر توجہ کی۔ بیجا پور کے جوابی حملے میں ادھونی کا مضبوط قلعہ سنبھا جی کا جنگی مرکز بن گیا تھا۔ یہیں سے مغل حملہ آوروں کے خلا قزافی دستے بھیجے جاتے اور عاد ل شاہیوں کو بالواسطہ کمک پہنچاتے تھے۔نئے صوبے کا انتظام فیروز جنگ کے سپرد ہوا تھا جس نے یہاں کے معرکوں میں بڑی بہادری دکھائی اور قدر شناس بادشاہ سے ’’فرزند بے ریوورنگ فیروز جگ ‘‘ کا جلیل القدر لقب حاصل کیا۔ اس کے بڑھتے ہی سنبھا جی بھاگ نکل۔ ادھونی معمولی مزاحمت کے بعد فتح ہوگیا۔ فیروز جگ نے خاص مرہٹوں کی ر اج دھانی پر پیش قدمی کی ایک حیدر آبادی سردار نے قلعہ پر نالہ کا منہ بند کیا اور مرہٹہ فوج کو اندر گھیر رکھا تھا۔خبر لگی کہ فراری سنبھاقریب ہی کھیلنا کے قلعے میں ہے۔ وہ مٹھی بھر جمعیت لے کے دوڑااور مرہٹوں کےلشکر میں درانہ گھس گیا ان کی تعداد بہت بڑی، مگر دل تھوڑے تھے۔ چوروں کی طرح مغل سپاہیوں کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ سنبھا جی کسی مندر میں جا چھپا اور ڈاڑھی موچھ منڈا کے بھیس بدلتے پکڑا گیا۔ یہ خبر بہت جلد ملک میں پھیل گئی اور جب مقرب خاں اسے باندھ کر لے چلا تو راستے میں دیہات والوں نے خوشیاں منائیں۔ سنبھا جی کی سفاکی اور بد چلنی سے رعایا نالاں رہی تھی۔ خافی خاں جو ان دنوں دکن میں موجو تھا لکھتا ہے کہ جس گائوں سے قیدی سنبھا گزرتا، مرد و عورت باہر نکل آتے اور اس کی گرفتاری پر خدا کا شکر بجالاتے تھے ۔ دربار شاہی میں سنبھا نے بڑی بد زبانی کی اور ویسی ہی انتہائی سزا پائی۔ (1099ھ) لیکن اس کا بیٹا ساہو امرائے شاہی میں داخل کیا گیا اور اس کی بادشاہ نے جس عنایت سے پرورش کی تھی اسے عمر بھر دلی عقیدت سے یاد کرتا رہا۔
سنبھا کے رفیقوں نے اس کے بائی رام راجا کو گدی پر بٹھایا اور کرناٹک میں جنجی کے مضبوط و بلند قلعے کو بہترین سامان و سپاہ سے اجت بنایا تھا۔ اسے ذوالفقار خاں کی پےدر پے ضربات نے 1108ھ میں ڈھادیا۔ رام راجا کو کہیں پائوں ٹکانے کی جگہ نہ ملتی تھی۔ وہ چار سال تک دھر اھر پھرنے کے بعد فوت ہوگیا۔ مرہٹوں قزاقوں کے گروہ شاہی علاقوں میں نہ ٹھہر سکے۔ جوگھر جانے سے بچے تھے وہ کوکن کے پہاڑی قلعوں میں چھپے۔ یا تلواریں کھول دی اور پھر ہل سنبھال کر کھیتی کیاری کرنے لگے لیکن عالم گیری منصوبے کی تکمیل ابھی باقی تھی اور مغل سردار کو کن کی تنگ و پر پیج وادیوں میں لشکر کشی کرنے سے گھبراتے تھے جہاں بارش کی جھڑی سے راستے ، ندی نالے بن جاتے تھے۔ ہر موڑ مرہٹوں کی کمین گاہ اور ہر چٹان ، دیدبان کا کام دیتی تھی۔ امیوں کا تساہل دیکھ کر یہ مہم بادشاہ نے اپنے ذمے لی ہر چند کہ عمر اسی سال سے متجاوز ہو چکی تھی۔ ہمت و جفا کشی میں فرق نہ آیا تھا۔ 1109ھ بمطابق 1698ء میں اس فاتحانہ اقدام کا آغاز ہوا جس کے معرکے عزم و استقلال کی عجیب داستان ہیں کیونکہ یہاں صرف مرہٹوں کی مایوسانہ جدوجہد سے مقابلہ نہ تھا بلکہ یہ بادو باراں کے طوفان، دشوار گزار کوہستان ، جنگل اور سیلابوں سے لڑائی تھی جسے جیتنے میں پانچ سال تک بوڑھے بادشاہ نے آرام و آسائش کو ذہن سے فراموش کر دیا۔ انسان کے فولادی ارادے کے آگے مرہٹوں کے بلند اور سنگین قلعوں کی کیا بساط ہے۔ پہاڑ نہیں ٹھہرتے۔ اول بسنت گڑھ تاراج ہوا۔ پھر ستارا، ڈوبا، ٹورنا، ٹوٹا، کھیلنا ، کھیل کھیل ہوگیا۔ پرلی ،پرنالا ، بھوسان گڑھ میں خاک اڑنے لگی۔ یہ سب قلعے یا توڑ دئیے گئے یا ان میں شاہی فوج تعینات ہوئی۔ رام راجا کی بیوہ تارا بائی کسی کونے میں جا چھپی تھی۔ وہ شیوا جی کی وراثت کا دعویٰ ضرور رکھتی ہو گی لیکن عملاً دکن میں چند میل کا قطعہ بھی ایسا نہ رہا، جہاں مرہٹوں کی خود مختار حکومت باقی ہو۔
عالمگیر کی وفات:
مرہٹوں کا قلع قمع کرنے کے بعد بادشاہ نے احمد نگر کی طرف مراجعت کی ۔ راستے میں داکن کھیڑ کا دور دست قلعہ فتح کیا جہاں بے ڈر قوم کے راجہ نے بہت سر اٹھایا تھا اور بار بار اطاعت قبول کر کے باغی ہو جاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ منزلیں طے کرتا ، نئے انتظامات کو دیکھتا بھالتا احمد نگر آگیا۔ یہیں ایک سال سے زیادہ قیام رہا اور ذی قعد1118ھ (فروری 1707ء)میں خفیف علالت کے بعد عالم آخر ت کی راہ لی ۔ وفات سے چند گھنٹے پہلے جبکہ دمے کا دور ہ تھا ایک عرض داشت پر اپنے قلم سے وصیت لکھی کہ تجہیز وتکفین میں خلاف سنت کوئی رسم نہ کی جائے۔ خواجہ برہان الدین غریب ؒ کے پائیں میں مجھے دفن کیا جائے اور کوئی پکی قبر یا اوپر سقف و گنبد نہ بنایا جائے۔ جس وقت جنازہ احمد نگر سے خلد آباد لائے تو قریب قریب تمام راستے پر دو رویہ عام رعایا کے لوگ کھڑے آنسوئوں کے موتی نچھاور کرتے تھے اور ہزارہا اہل دربار و لشکر تماتم کناں ہمرکاب تھے۔ نصف صدی تک فرماں روائی کے بعد اس کا دنیا سے اٹھ جانا ایک بڑا انقلاب محسوس ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سلیم شاہ سوری