islam-quran

رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ

EjazNews

ایک مسلمان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہی سب کچھ ہے۔ انہی کی نسبت سے وہ مسلمان اُن کا امتی کہلانے کا حق دار ٹھہرتا ہے اور انہی کے اتباع میں ہی اس کی دین و دنیا کی فلاح وبہبود ہے، آپ ہی نے دین و دنیا کی اس کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کی جس پر چل کر انسان اپنے مسائل بھی حل کر سکتا ہے۔ یہی وہ ضابطہ حیات ہے جو انسانیت کی ہر دور میں اور ہر شکل میں رہنمائی کرتا رہے گا۔ یہ ضابطہ حیات قرآن میں محفوظ ہے اور اس پیغام کی حفاظت کا ذمہ دار خود اللہ جل شانہ نے لیا ہے۔
اس ضابطہ حیات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً تشکیل کر کے دکھایا تاکہ بعد میں آنے والے عمل میں کہیں حیص بیص میں نہ پڑ جائیں اور اس پیغام کا ناقابل عمل نہ سمجھنے لگیں۔ اس عملی نظام کی تفاصیل حضور کی سیرت طیبہ کی صورت میں اور پیغام خدا وندی کی روشنی میں امت مسلمہ نے محفوظ کر لی ہیں۔ آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا احکام خداوندی میں شامل ہے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی، حضور کی سیرت طیبہ کو اسلام کے نظام سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ ارشاد ہے بے شک تمھارے لئے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ عمل ہے۔ اس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر سے پرُ امید ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے۔(سورة احزاب ۱۲)
قرآن پاک نے محض آپ پر ایمان لانے کو ہی کافی نہیں سمجھا۔ بلکہ وہ آپ کے لئے انتہائی اعزاز و اکرام کا دل کی گہرائیوں سے طالب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قلبی محبت کے بغیر دراصل ایمان کی تکمیل ہی نہیں ہوتی۔ اسلام افراد امت کا آپ سے صرف رسمی تعلق کو کافی نہیں سمجھتا۔ ایک مسلمان کے لئے فرائض اسلام کی ادائیگی ضروری ہے۔ لیکن یہ فرائض کماحقہ، اس دقت ہی ادا ہو سکتے ہیں جب کہ ان کی ادائیگی کا جذبہ دل کی گہرائیوں سے ابھرے۔ کیونکہ یہ جملہ تعلیم آپ ہی کی لائی ہوئی ہے اور آپ ہی کے حس توسط کا عطیہ ہے۔ جب تک حضور کی صداقت آپ کی سیریت طیبہ پر مکمل ایمان نہیں ہو گا، اعمالِ حسنہ بھی اپنے نتائج نہ پیدا کر سکیں گے۔ اس لئے آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ اس کا فہم اور اس پر عمل ہرفرد امت کے ایمان کا تقاضا ہے۔ سورة الفتح آیت ۹ میں ارشاد ہے۔ ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا¶ اور اس کی مدد کرو اور اس کی عزت اور تعظیم کرو۔“
اس لئے حضور کی اطاعت، ان کے مقام اور ان کی عزّت، حرمت کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس بارہ میں قرآن کریم میں آپ کے صحابہ کرامؓ کو عزت و حرمت کے بارے میں جو احکامات دیئے گئے ہیں وہ ہر مسلمان پر زمانہ میں فرض ہیں اور یہی آپ کے اسوہ حسنّہ کا اتباع ہے بلکہ حضور کے فیصلوں کے خلاف ذرا سی بھی کبیدگی مسلمان کے لئے داخل معصیت ہے۔ اور گناہ عظیم ہے۔ آپ کو تمام دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (نساء۹۷) سورة اعراف آیت ۸۵۱، میں آپ کو یہ فرمانے کا حکم دیا گیا ہے:۔
اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں جس کی ارض و مساوات میں بادشاہی ہے …. گویا جس طرح احکامِ قرآنی رہتی دنیا تک کے لئے ہیں آپ کی سیرت طیبہ بھی رہتی دنیا تک کے لئے ہے۔ اسی آیت کے آخری ٹکڑے میں بات مزید واضح کر دی گئی ہے…. سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور اس کے نبی امّی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکامات پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو۔ تاکہ تم ہدیات پا جائو۔ گویا آپ کی سیرت طیبہ کا اتباع ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ اس پر عمل کئے بغیر نجات و فلاح ممکن نہیں۔
سیاست میں اسوہ حسنہ:
حضور محمد مصطفی احمد مجتبےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کی طرف سے مبعوث پیغمبر برحق تھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص مشن سونپا گیا تھا اور اس مشن کی تکمیل آپکی زندگی کا مقصد تھا۔ اس مشن کے لئے آپ نے ہر طرح کا تکلیفیں برداشت فرمائیں اور اس کے لئے اپنے آرام تک کو قربان کر دیا۔ اپنے وطن کو چھوڑا۔ اپنے عزیز و اقارب سے مفارقت گوارا کی۔ حتیٰ کہ جب مخالفین جنگوں پر آمادہ ہو گئے تو ان سے جنگ بھی کی۔ اس مشن کی غایت نوع انسانی کو اس کی تخلیق کے مقصد یعنی رجعت الیٰ اللہ اور توحید الٰہی کا قائم اور اُسے اس عقیدہ پر اس طرح عامل بنانا تھا کہ یہ عقیدہ توحید اس کی پوری زندگی پر محیط ہو جائے چونکہ اس پیغام نے ابدالاباد تک انسانی رہنمائی کرنی تھی اس لئے آپ کے مشن کو ان کو ان تمام مراحل سے گزرنا پڑا جو رہتی دنیا تک کے انسانوں کو پیش آسکتے تھے چنانچہ آپ کا اسوہ حسنہ سے زندگی کا کوئی وظیفہ خارج نہیں۔ آپ نے ایک مملکت قائم کی اوراُسے وحی خداوندی کے اصولوں کے مطابق چلایا حضور کے اسوہ حسنہ میں یہ وہ سیاسی رہنمائی ہے جوایچ پیچ دھوکا فریب ہیرا پھیری اور پاک ہے اور جس کا نقطہ، سکہ امن کا قیام ہے حلف الغفول اور خانہ کعبہ میں حجر اسواد کے نصب کرنے کے موقع پر قیام امن کے لئے آپ کی کوششیں یادگار کارنامے ہیں مدینہ پہنچتے ہی آپ نے غیر مسلم اقوام سے امن کے معاہدے کر لئے جن میں بیرونی حملہ آوروں کا متحدہ مقابلہ کرنے کی شق درج تھی۔
عبداللہ بن ابی نے جب قریش مکّہ کے جھانسے میں آکر مدینہ کے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کا ارادہ کیا تو حضور نے اُسے دلائل سے قائم کر کے اس فعل سے باز رکھا اور یوں اندرون مدینہ خانہ جنگی کا خطرہ محض آپ کی فراست اور سیاسی سوجھ بوجھ سے ٹل گیا آپ نے اردگرد کے تمام قبائل سے معاہدے کر لئے تاکہ جہاں تک ممکن ہو ان کو دشمنوں کا آلہ کار بننے سے بچا لیا جائے آپ کی سیاست کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ مخالفین کو ختم کر دینے کی بجائے ان کو سیاسی اعتبار سے بے اثرو عسکری لحاظ سے بے دست وپا بنا دیا جائے۔ یہ مخالفین کو سیاسی لحاظ سے بے اثر کرنے کے لئے آپ کی معاہدات کی پالیسی انتہائی کامیاب رہی عربوں میں ایفا عہد کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ عسکری طور پر مخالفین کو اتنا کمزور کرنے کے لئے کہ وہ مسلمانوں کے لئے خطرہ کا باعث نہ رہیں آپ کا رعب و دبدہ ہی کافی تھا آپ محسن اعدا بھی تھے آپ کی رحمدلی عفودرگزر کریمانہ اور مشفقانہ سلوک دشمن کو دشمن نہیں رہنے دیتا تھا جنگِ بدر سے قبل آپ نے مکہ والوں کی تجارتی و معاشی ناکہ بندی کی جب اہل طائف اس قدر کمزور ہو گئے کہ ان میں مقابلہ کی سکت نہ رہی تو آپ نے ان کا محاصرہ اٹھا لیا اسی طرح غزوہ تبوک میں بھی جب قیصر روم نے از خود حملہ نہ کیا تو آپ نے بھی پیش قدمی سے احتراز کیا۔
آپ کی سیاست کا سب سے بڑا کارنامہ صلح حدیبیہ ہے یہ آپ کے حسن تدبر کا شکار ہے اس صلح میں آپ نے ایک دو شرائط میں دب کر معاہدہ کر لیا جو بعض اصحابہ کرامؓ کو ناگوار بھی گزرا لیکن آپ فروغ اسلام کے لئے قریش مکّہ سے صلح کر کے اس طرح سے بے فکر ہونا چاہتے تھے اس معاہدہ کی رو سے جب غیر مسلموں کو مسلمانوں سے ملنے جلنے کا موقع ملا تو وہ مسلمانوں کے کردار سے بے حد متاثر ہوئے اور اسلام کی حقانیت ان کے دلوں پر نقش ہو گئی اس صلح کے بعد ہی آپ نے خطوط کے ذریعے تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا جس کے بہت عمدہ نتائج برآمد ہوئے قیدیوں سے حسن سلوک آپ کا ایک ایسا کارنامہ تھا جس کی مثال اس سے قبل کی تاریخ میں نہیں ملتی ان قیدیوں کے دلوں میں اسلام راسخ ہو گیا فتح مکہ کے بعد تو خود گروہ قریش غزوہ حنین میں آپ کے ہمرکاب ہو گیا خود ابو جہل کے سوتیلے بھائی عبداللہ بن ربیعہ نے مصارف جنگ کے لئے تیس ہزار درہم قرض دیئے۔
رسول مقبول کا سراپا مبارک:
قرآن کریم میں ملت اسلامیہ کی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے یہ اسی حکم کا اثر ہے کہ آپ کے ہر حکم پر تقریر اور ہر فعل و حرکت کو امت نے اتباع کے لئے قلم بند کر لیا ہے۔ تاکہ وہ ابدالآباد تک امت کی رہنمائی کا کام دے، یہ تفاصیل یہاں تک قلم بند کی گئی ہیں کہ یہ تک بھی ریکارڈ میں آگیا ہے کہ حضور کے سر اقدس اور ریش مبارک میں کتنے بال سفید تھے۔ اسی نسبت سے آپ کا حلیہ مبارک میں بھی محفوظ کر لیا گیا ہے، تاکہ امتی آپ کے باطنی کمالات کے علاوہ ظاہری جمال کی تفاصیل سے بھی اپنے قلوب کو تسکین دے سکیں۔ اگرچہ قرطبی کے مطابق نبی کریم کا حسن سراپا ہم پر ظاہر نہیں کیا گیا، اگر یہ پورے طور پر ظاہر کر دیا جاتا تو آنکھیں اس کے دیدار سے عاجزو درماندہ ہو جاتیں۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ تحیة والسلام نہ بہت دراز قامت تھے نہ پسة قد، بلکہ آپ کا قد درمیانہ تھا۔ نہ آپ کا رنگ چونے کی طرح بالکل سفید تھا اور نہ زیادہ گندم گوں، یک گونہ ملاحت لئے ہوئے تھا۔ بال نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ زیادہ پیچ دار بلکہ ان میں ہلکا سا گھنگریالہ پن تھا۔ آپ کے دونوں شانوں کے درمیان اوروں کی بہ نسبت زیادہ فاصلہ تھا۔ سر کے بال گھنے تھے جو کانوں کی لوئوں تک آئے رہتے تھے۔ آپ کی ہتھیلیاں اور دونوں پائوں گوشت سے بھرے ہوئے تھے۔ سر اقدس بڑا تھا اور اعضاءکے جوڑوں کی ہڈیاں بھی بڑی تھیں۔ سینہ سے لے کر ناف تک بالوں کی باریک دھاری تھی نہ آپ کا بدن بہت بھاری تھا اور نہ چہرہ بالکل گول، آپ کے چہرہ مبارک میں معمولی گولائی تھی۔ رنگ سفید سرخی مائل تھا۔ آنکھیں خوب سیاہ تھیں اور پلکیں دراز، دونوں آنکھوں کے درمیان کی جگہ موٹی اور پُر گوشت تھی۔
آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی آپ انبیاءکا سلسلہ ختم کرنے والے تھے سب سے زیادہ دریا دل سب سے زیادہ راست گو، سب سے زیادہ نرم طبیعت والے اور سب سے زیادہ خاندانی شرافت والے تھے۔ آپ کو جو بھی اچانک دیکھتا مرعوب ہو جاتا ہو شخص پہچان کر میل جول رکھتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ کا سراپا بیان کرنے والا یقینا یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے حضور جیسا جمال کمال کا مرقع نہ حضور سے کبھی پہلے دیکھا اور نہ بعد میں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک بھرے ہوئے دہن مبارک اعتدال کے ساتھ کشادہ تھا۔ پیٹ اور سینہ ہموار تھا۔ دونوں بازوئوں اور شانہ مبارک اور سینہ کے بالائی حصہ پر بال تھے۔ کلائیاں دراز اور ہتھیلیاں فراخ تھیں۔ ہتھیلیاں اور قدم گدانہ اور پُر گوشت تھے۔ آنکھیں بڑی تھیں۔ آپ کے ابر و باریک خمدار اور جُدا جُدا تھے ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں تھے۔ جب چلتے تو قوت سے قدم اٹھاق کر چلتے ڈھیلے قدم نہیںرکھتے تھے۔ جب شانہ مبارک سے چادر ہٹاتے تو یوں معلوم ہوتا کہ چاندی کی ڈلیاں ہیں جب مسکراتے تو دندان مبارک موتیوں کی لڑی نظر آتے۔
خصائص میں ہے ”نبی علیہ السلام مجلس میں تشریف فرما ہو گئے تھے کہ شانہ ہائے ۔ نصب کرے سب سے بلند ہوتے آپ کی شخصیت بھرپور اور جاب نظر تھی اور مبارک چودھویں کے چاند کی طرح نہیں۔
حصول معاش اور اسوہ حسنہ:
فکرِمعاش سے دنیا کے کسی بھی انسان کو مضر نہیں۔انسانوں کے وضع کردہ نظام معیشت میں تو اس فکر نے ایک مہیب صورت اختیار کر لی ہے۔ امریکہ میں بیس لاکھ اور برطانیہ میں تیس لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مادیت پر مبنی متفرح معاشروں میں ہر شخص اپنے لئے سب کچھ سمیٹ لینا چاہتا ہے۔ اگر معاشرہ کا فرد دو دو تین تین افراد کی ضروریات کو اپنے لئے مختص کرنے کی کوشش کرے تو نتیجہ میں کوئی بھی آدمی ان ضروریات سے محروم نہ رہے گا۔ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے۔ اس لئے ایک اسلامی معاشرہ میں ایا نہیں ہوتا۔ شارع اسلام علیہ تحیة والسلام نے جس نظام کی امت کو تعلیم دی ہے۔ اور جو عملی ضابطہ حیات پیش فرمایا ہے۔ وہ انتا مکمل ہے کہ معاشرہ میں کسی کے بیکار رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بیکاری الائونس پر گزارہ کرنے والے ایک صحیح اسلامی معاشرہ میں ملتے ہی نہیں، کیونکہ حضور کے ارشاد کے مطابق ”کسب حلال کاطلب کرنا فرض ہے بعد مذہبی فریضہ کے۔ (بخاری) قرآن کریم میں تلاش رزق کی بار بار تاکید آئی ہے۔سورہ بقرہ آیت ۸۹۱۔ سورةبنی اسرائیل اورآیت ۶۶ وغیرہ۔
حصول معاش کو اللہ تعالیٰ کے فضل کی تلاش سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا ذکر قرآن کریم میں ۸۲ جگہ فضل ۱۲ جگہ کیر اور ۲۱ جگہ حسنہ سے آیا ہے۔ ایک پاکیزہ معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ہر فرد خوب محنت سے کام کرے، حصولِ رزق کے جائز ذرائع اختیار کرے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد جو بچ رہے اس انفاق فی سبیل اللہ کے لئے کھلا رکھے۔ اسی لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصولِ معاش اور اس کے لئے محنت کرنے پر زور دیا ہے، حضور نے خود تجارت کے پیشے کو اپنایا اور اس پیشے میں بعثت سے قبل خوب محنت فرمائی۔
جملہ انبیائے سابق بھی کسی نہ کسی پیشے سے متعلق تھے۔ حضرت آدمؑ زراعت کرتے تھے۔ حضرت نوحؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔انہوں نے خود اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے تحت کشتی بنائی۔ حضرت دائود زرہ بناتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ اتنے جلیل القدر پیغمبر اور بادشاہ ہونے کے باوجود زنبیلیں بناتے تھے۔ حضرت اورلیئل خیاطی کا کام کرتے تھے۔ حضرت ذکریاؑ نجار تھے۔ جملہ صحابہ کرام نے ایک نہ ایک پیشہ ضرور اختیار کیا۔ کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ لیکن حضور نے اس چیز کی تاکید فرمائی وہ اکل حلال ہے ترمذی شریف میں ہے۔ سب سے پاکیزہ مال وہ ہے جو تم اپنے کسب سے کھاتے ہو۔جناب رسالت مآب نے کا سب کو حبیب اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کا دوست کہا ہے۔ اور سوال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ عبادت کے ستر باب ہیں۔ طلب معاش حلال ان میں افضل تر ہے۔ جو لوگ کسی معذوری کے باعث خود اپنی روزی کا بندوبست کرنے سے قاصر ہیں یا اتنا نہیں کما سکتے کہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ کیونکہ حصولِ رزق معاش میں ذہنی اور جسمانی فرة کی وجہ سے تفادت قانون قدرت ہے۔ ان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر ہے ۔لیکن کام کے قابل افراد کے لئے روری ہے کہ وہ پوری جانفشانی سے کام کریں ۔آپ نے فرمایا ،خدا اس پر مہربان ہوتا ہے جو اپنی معاش اپنی محنت سے پیدا کرتا ہے ۔مزید فرمایا ۔جو شخص دینا اور اس کے مال کو جائز طریق پر چاہتا ہے تاکہ وہ بھیک مانگنے سے بچے اور اپنے اہل و عیال کے لئے معاش پیدا کرے اور اپنے ہمسائے سے مہربانی اور سلوک کے ساتھ پیش آئے۔ وہ خدا کے سامنے ایسی صورت سے آئے گا کہ اس کا منہ چودھویں کے چاند کے مانند چمکتا ہو گا۔“
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اس مسلمان سے محبت کرتا ہے جو غریب ہو، عیالدار ہو اور پھر بھیک مانگنے اور ناجائز طور پر کمانے سے خود کو بچائے۔“ ایک عبادت گزار کے بارے میں آپ کو معلوم ہوا کہ وہ خود کچھ نہیں کرتا اور نان نفقہ کے لئے اپنے بھائی پر انحصار کرتا ہے۔توفرمایا”تو پھر وہ (اس کا بھائی) اس سے بہتر ہے۔“ غیر اسلامی معاشرے عموماً دوسروں کی کمائی پر گزارہ کرنے والے افراد پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً سرمایہ دار اور سود خور، لیکن حضور کی تعلیم سے ایک ایسا معاشرہ وجود میںآتا ہے جس میں ہر مومن جی توڑ کر محبت کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دوسرے بھائی کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دیتا ہے۔ کیونکہ یہ خدا اس کی نجات اخروی کا تقاضا ہے۔ مادیت پر مبنی معاشرے اس نعمت سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شعبان کی اہمیت