parliment-house

کرونا وائرس سے کون کون سے رکن اسمبلی متاثر ہوئے

EjazNews

شیخ رشید دو ہفتے کیلئے سیلف آئسولیشن میں چلے گئے ہیں۔ ڈاکٹر نے انہیں 2 ہفتے تک خود ساختہ قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی ہے ۔
وزیر ریلوے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی رپورٹ سے کچھ گھنٹے قبل ہی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا تھا۔
ملک بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اموات کی تعداد 2 ہزار سے زائد ہے، یہ وائرس نہ صرف عام لوگوں کو متاثر کررہا ہے بلکہ سیاست دان بھی اس میں مبتلا ہورہے ہیں۔
ان سے پہلے بھی سیاستدان اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں اور بعض سیاستدانوں کی جان تو اس وائرس نے لی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی ملک کے پہلے سیاستدان تھے جن میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ آئیسولیشن میں رہنے کے بعد صحتیاب ہو گئے تھے۔گورنر سندھ بھی کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں ۔
اپریل میں ضلع مردان سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے ۔رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی ،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ان کے دو بچوں بھی اس وائرس میں مبتلا تھے۔ قومی اسمبلی کے دو اراکین محبوب شاہ اور گل ظفر خان بھی کرونا وائرس میں مبتلا تھے۔رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر انجینئر امیر مقام بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے اور انہوں نے خود کو قرنطینہ منتقل کرلیا تھا۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے۔ کہ کرونا سے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے دو اسمبلی کے رکن زندگی کی بازی بھی ہار گئے تھے۔ جن میں سے ایک کا تعلق تحریک انصاف سے تھے اور دوسرے مسلم لیگ ن سے تھے۔
اس ویکسین کی ابھی تک کوئی دوا تیار نہیں ہوئی ہے ۔ اس لیے اس کا علاج صرف اور صرف خود کو قرنطینہ کرنا ہی ہے۔ اپنی حفاظت بھی کیجئے اور اپنوں کی بھی۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں پہلی ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ سیریز ہوگی