Caesars-Civil-War

پاتھیا رومی ادوار کی خواتین مشیر

EjazNews

آپ سب کویہ سن کر حیرت ہو گی کہ رومی سلطنت کی بنیادوں میں خواتین کے مشورے شامل تھے ۔ رومی سلطنت نے جو عروج دیکھا اس کے پس منظر میں رومی بادشاہوں کی مشیر سیاسی خواتین تھیں۔ جنہوں نے ہمیشہ اپنے شہنشاہوں بادشاہوں اور امور مملکت چلانے والے ارباب اختیار کو صحیح صحیح مشورے عنایت کیے۔ پائتھیاPythia بھی انہی خواتین میں سے ایک تھیں۔ 480 قبل از مسیح میں بادشاہ Darius the Greatکا بیٹا Xerxesانہی سے مشورے لیتا تھا۔ ان کے والد دارئیس ایک ہنگامہ خیز نظام چھوڑ کر گئے تھے۔ افرا تفری کا عالم تھا ۔ 490 قبل از مسیح میں جنگ میراتھن کے اثرات نمایاں تھے۔ اس کے کوئی دس سال بعد ایتھنز کی فوج نے زر سکس کی نگرانی میں یونان کو فتح کر لیا۔ یہی وہ کام تھا جو اس کا باپ دارئیس اس کے لیے چھوڑ گیا تھا۔ بقول معروف تاریخ دان ہیروڈوٹس زرسکس نے یونان کو فتح کرنے کے لیے اپنے 50لاکھ سپاہی جھونک دئیے ۔ جدید تاریخ دان اور دانشور رومیوکی فوج کی تعداد 3لاکھ 60ہزار بتاتے ہیں جنہیں ساڑھے سات سو سے زائد بحری جہازوں کی مدد حاصل تھی۔سیاسی اور جنگی مسائل سے نبٹنے کے لیے ایتھنز کی قیادت نے اس معاملے کی جانچ رکھنے والے کنسلٹنٹ سے رابطہ قائم کیا۔ اسی زمانہ میںدی پاتھیا آف ڈیلفی نام کا ایک معروف ادارہ بھی وہاں کام کر رہا تھا۔ اسے اوریکل آف ڈیفکلی کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ پاتھیا نام کی ایک عورت اپالو کی عبادت گاہ میں ایک سینئر پادری تھی۔ دنیا بھر سے لوگ اس عبادت گاہ میں آتے تھے ۔ اور وہ ماﺅنٹ پارنسس Mount Parnassus کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا مدہ اونچی آواز میں بیان کرتے تھے اور اسی عبادت گاہ کے زیر زمین بند کمرے سے پاتھیا نامی سینئر پادری جواب دیتی تھی۔ انہیں دو دوسری پادریوں کی خدمات بھی حاصل تھیں۔ وہ ہر آواز کا جواب دینے کے لیے ہمہ تن تیار تھیں۔ یہ ماﺅنٹ پارنسنز دراصل دو آتش فشا ں پلیٹوں کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ پاتھیا ایک خطرناک جگہ پر مقیم تھیں۔ یاتریوں کے بقول وہ سانس لینے کے لیے اپنے بالوں سے بخارات کو اپنی ناک میں کھینچتی تھیں تب ان کا رنگ بدل جاتا تھا۔ ان کی یہ آواز حرکات و سکنات سب کچھ بدل جاتا تھا۔ کلاسیکی دنوں میں کہا جاتا ہے کہ پاتھیا کا لب و لہجہ شاعرانہ تھا۔ وہ ہر وقت ترو تازہ اور مطمئن دکھائی دیتی تھیں۔ ڈیفلی کا یہ ٹمپل سیاسی خطرات سے مشاورت کرنے والا پہلا ادارہ تھا ۔پرشین وار کے دنوں میں بے شمار سیاست دانوں اور بزنس مینوں نے اس کی جادوئی صلا حیتوں اور علم سے فائدہ اٹھایا ۔ اب اگرچہ دنیا میں رسک مینجمنٹ کے انداز بدل گئے ہیں۔ لیکن زمانہ قدیم میں پاتھیا اس کا تعلق روحانیت سے بھی جوڑتی تھیں مگر کیا ہم اس پاتھیا کے واقعات کے بارے میں یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ درست تھے یا غلط کیا وہ کسی ایک خاص شرفاءکے نرغے میں تھیں یا نہیں اور انہوں نے جو کچھ کہا کہ وہ ٹھیک تھا یا غلط شاید اس لیے کہ وہ ایک بند کمرے میں تھیں اور اسے بیرونی دنیا کی کوئی خبر نہ تھی وہ جسمانی جذباتی اور روحانی طور پر اس دنیا سے کٹی ہوئی تھیں۔ تاہم ان کا روز مرہ کے معاملات میں ٹمپل آف اوپولو میں آنے والوں کے ساتھ رابطہ تو رہتا تھا۔
یاد رکھنے کی با ت یہ ہے کہ پاتھیا کا انتخاب اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین سے کیا گیا تھا جن کی عالمی معاملات پر نظر گہری تھی۔ تعلیم ، دنیاوی علم کے ملاپ سے پاتھیا نے سوچ کی ایک نئی طاقت کو جنم دیا جو بدعنوانی اور اقتدار کے مراکز سے کوسوں دور تھی۔ ہمارے آج کے تجزیہ کاروں کے لیے بدعنوانی اور اختیارات کا منبع ہی اصل خطرہ ہے۔ اور پاتھیا ان دونوں خطرات سے کوسوں دور تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایتھنز کے قائدین نے نیوی میں جو مخصوص قسم کی لکڑی استعما ل کی وہ پاتھیا ہی کے مشورے پر استعما ل کی گئی اور اس کا تعلق سیاست سے تھا۔ کیونکہ ایتھنز کے بحریہ نے ہیBattle of Salamisمیں حصہ لیا۔ اور اسی میں ایتھنز کی بقا کے لیے نبٹنے میں کلیدی کر دار ادا کیا۔ زمانہ قدیم میں رومی سلطنت میں خواتین کے مشوروں سے عروج حاصل کیا اور شاید اٹلی میں آج بڑھتی ہو ئی کرپشن اور مافیا کا راج اسی وجہ سے ہے کہ اس زمانے کے سیاسی دانشور اقتدار کے ایوانوں سے کوسوں دور تھے اور آج اتنا ہی قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے، غسل کے دوران عورت زندہ ہو گئی