imran_khan_package_industry

اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو بڑا مشکل وقت آنے والا ہے:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا عوام ایس او پیز پر عمل کریں تو یہ وائرس تیزی سے نہیں پھیلیں گے۔ اگر آپ احتیاط کرلیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اس تباہی سے نہیں گزرے گا جو کئی امیر ترین ممالک میں آئی لیکن اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو بڑا مشکل وقت آنے والا ہے۔جب کوئی ملک لاک ڈاؤن کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کرونا وائرس ختم ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس تیزی سے یہ وائرس پھیلتا ہے تو لاک ڈاؤن سے اس کے پھیلاؤ میں کمی آجاتی ہے کیونکہ جتنے لوگ جمع ہوتے ہیں اتنی تیزی سے یہ وائرس پھیلتا ہے۔ لوگوں کا جمع ہونا اور باہر نکلنا بند کردیں تو وبا ختم نہیں ہوتی لیکن اس کا پھیلاؤ سست ہوجاتا ہے۔ہم نے جب لاک ڈاؤن کیا تو لوگ ایک مشکل وقت سے گزرے، بیروزگاری کی انتہا ہے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے کے گھروں میں مشکلات تھیں، بیروزگاری کی انتہائی ہوگئی۔ ہم نے بہت کم وقت میں لوگوں میں شفاف طریقے سے رقم تقسیم کی جس کی وجہ سے وہ مسائل پیدا نہیں ہوئے جو دیگر غریب ممالک سامنے آرہے ہیں۔ اب پوری دنیا نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہے کیونکہ امیر ترین ممالک بھی یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ کوئی ملک لاک ڈاؤن زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا کیونکہ لاک ڈاؤن کے جو اثرات لوگوں ، معیشت پر پڑتے ہیں، جس کے باعث بیروزگاری ہوتی ہے، غریب ممالک میں غربت اور بھوک بڑھ جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا امریکہ جیسا ملک، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد کرونا سے مرچکے ہیں، انہوں نے بھی ملک کو ایس او پیز کے ساتھ کھول دیا ہے اور وہ مجبوری میں ملک کھول رہے ہیں اور اس دوران وائرس پھر سے پھیلنا شروع ہوگا لہٰذا لوگ ایس او پیز پر عمل کرکے کاروبار کریں اس سے وبا آہستہ پھیلے گی۔ اس وقت ہماری جدوجہد یہ ہے کہ کرونا وائرس تیزی سے نہیں بلکہ اس کا پھیلاؤ سست کرنا ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ کرونا نے پھیلنا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ دنیا میں یہ رجحان ہے کہ کرونا پھیلتا چلا جاتا ہے، پھر عروج پرجاتا ہے اور اس کے بعد پھیلاؤ میں کمی آجاتی ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا عروج تیزی سے نہ آئے بلکہ یہ آہستہ آہستہ اوپر جائے تاکہ ہسپتالوں پر دباؤ نہ بڑھے، ہمارے انتہائی آئی سی یوز جہاں وینٹی لیٹرز اور آکسیجن ہے ان پر زیادہ دباؤ نہ بڑھے۔ اس لیے پہلے ہم نے لاک ڈاؤن کی کوشش کی اور اب ایس او پیز کے ذریعے یہ کوشش کررہے ہیں کہ اگر عوام ان پر عمل کریں گے تو کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے نہیں پھیلیں گے۔ ہمارے تخمینے کے مطابق اگر ہم احتیاط کریں گے، ایس او پیز پر عمل کریں گے تو ہم وبا سے نمٹ لیں گے، ہمارے خیال میں وبا جولائی کے آخر یا اگست میں عروج پر جائے گی جس کے بعد کیسز کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔ ہمارا پورا چیلنج یہ ہےکہ اب سے لے کر لوگ جو بھی کاروبار کریں لیکن ایس او پیز کے ساتھ کریں۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے لیے احتیاط کریں آپ کے گھر میں بزرگ ہوں گے، کئی لوگ بیمار ہیں جنہیں بلڈ پریشر اور ذیابیطس ہے ان کی جانیں خطرے میں ہیں، اگر ان کو کورونا ہوتا ہے تو ان کے لیے یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ دیگر لوگوں کے لیے خطرہ نہیں ہے تو اس لیے میں دیکھ رہا ہوں کہ جتنا ہم اس حوالے سے کہہ رہے ہیں لوگ سنجیدہ نہیں لے رہے، لوگ دھیان نہیں دیتے تو ایس او پیز پر بھی عمل نہیں کرتے۔ اگر آپ نے اسی طرح کی بے احتیاطی کی تو آپ اپنے بزرگوں، بیماروں کی زندگی اور ملک کو مشکل میں ڈال رہے ہیں، اس لیے جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو ماسک پہنیں، یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ ماسک کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں 50 فیصد فرق پیدا کرتا ہے۔ہم نے ہر شعبے کے لیے ایس او پیز جاری کی ہیں، ان پر عمل کریں ورنہ بہت مشکل پیدا ہوجائے گی۔ کوشش کررہے ہیں رواں ماہ ایک ہزار بستروں کی دستیابی یقینی بنائے جن پر آکسیجن بھی دستیاب ہو۔
وزیراعظم نے پاک نگہبان ایپ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا کہ اس سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کہاں پر کتنے بیڈز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد جموں و کشمیر کی پوری آبادی اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کو ہیلتھ کارڈ ملیں گے: وزیراعظم