khaliq_deena_hall

خالق دینا ہال، ایک صدی کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے

EjazNews

شہر قائد کی معروف شاہراہ، ایم اے جناح روڈ پرخالق دینا ہال کی پُر شکوہ عمارت، حریت اور جرأت کی شان دار تاریخ کی امین ہے۔ یہی وہ عمارت ہے، جس کے ہال کو انگریز سرکار نے عدالت کی حیثیت دے کر تحریک خلافت کے رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، اُن کے بھائی مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا نثار احمد کانپوری، پیر غلام مجدد سرہندی اور سوامی شنکر اچاریہ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا اور 26 دسمبر 1921 ء کو اسی ہال میں اُنہیں دو، دو سال کی سزا سنائی گئی۔ قیامِ پاکستان کے چار ماہ بعد، اسی ہال میں قائداعظم محمّد علی جناحؒ کی سربراہی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا وہ غیر معمولی اجلاس ہوا، جس میں مسلم لیگ سے آل انڈیا کے الفاظ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی قائد اعظم محمد علی جناح یہاں تشریف لاتے رہے اور مختلف اجلاسوں سے خطاب بھی فرمایا۔
دراصل یہ تاریخی عمارت، بنیادی طور پر ایک لائبریری تھی، جسے 1856 ء میں’’ نیٹیو جنرل لائبریری‘‘ کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ گو کہ اس سے قبل بھی کراچی میں چند ایک کتب خانے موجود تھے، لیکن صحیح معنوں میں پہلا عوامی کتب خانہ یہی تھا، جس کے بانیان میں کمشنر سندھ سر باٹرلے فریئر، دیورن جگن ورسودیو، نارائن وشوا ناتھ، لکشمی کرشن اور مہادیو شاستری شامل تھے۔ حکومت نے لائبریری کے لیے 2289 مربع گز زمین مفت فراہم کی تھی۔ 19 ویں صدی کے آخر میں یعنی لائبریری کے قیام کے تقریباً پچاس برس بعد، شہر کی ممتاز شخصیت، سیٹھ غلام حسین خالقدینا نے اپنے وصیت نامے میں 18 ہزار روپے اس لائبریری کے لیے مختص کیے، لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کردی کہ اس رقم سے لائبریری کی نئی عمارت تعمیر کی جائے، جس میں ایک بڑا ہال بھی ہو، جسے کرائے پر دے کر لائبریری کے لیے مالی وسائل پیدا کیے جائیں اور اُس ہال کو اُن کے نام سے منسوب کیا جائے۔
اُس وقت کی لائبریری کمیٹی نے نئی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے 2522 مربع گز کا ملحقہ پلاٹ بھی حکومت سے حاصل کرلیا گیا۔ چونکہ صرف 18 ہزار روپے میں عمارت کی تکمیل ممکن نہ تھی، لہٰذا کراچی میونسپلٹی سے بھی مدد کی درخواست کی گئی، جس نے 16 ہزار روپے کا عطیہ دیا، جو بعدازاں بڑے تنازع کا بھی سبب بنا۔ کچھ رقم مخیّر افراد نے بھی فراہم کی،یوں 38 ہزار روپے کی لاگت سے دو کشادہ کمروں اور ایک 70 فٹ لمبے اور 40 فٹ چوڑے ہال پر مشتمل عمارت مکمل ہوئی، جس کا 16 جولائی 1906 ء کو اُس وقت کے کمشنر کراچی، اے ڈی ینگ نے افتتاح کیا اور حسب وصیت، ہال کو غلام حسین خالق دینا کے نام سے موسوم کردیا گیا۔ چونکہ’’ خالق دینا ہال لائبریری‘‘ کمیٹی کے ارکان انگریز سامراج سے آزادی کی تحریک کے حامی تھے، اس لیے حکومت نے علی برادران کے مقدمے سے فارغ ہو کر اُنھیں بھی سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں حکم جاری کیا گیا کہ کمیٹی فوری طور پر’’ کے ایم سی‘‘ کو عمارت اور باقی زمین میں برابر کی حصے دار بنائے، کیونکہ کے ایم سی نے عمارت کی تعمیر کے لیے تقریباً نصف رقم فراہم کی تھی۔ کمیٹی نے کچھ مزاحمت تو کی، لیکن بالآخر حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے اور دو کمروں کے علاوہ، باقی عمارت اور خالی زمین سے دست بردار ہوگئی۔ اب ایک کمرے میں لائبریری قائم ہے اور دوسرا کمرا،’’ سٹوڈنٹس ویلفئیر آرگنائزیشن‘‘ کے استعمال میں ہے، جن کا کسی حکومتی ادارے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ ہال اور باقی اراضی کے ایم سی کی ملکیت ہے۔ اس کمپاؤنڈ میں ملازمین کی رہائش کے لیے چار مکانات اور انتظامیہ کے دفاتر بھی ہیں۔ سطح زمین سے کئی فٹ اونچائی پر تعمیر کی گئی عمارت کا مرکزی دروازہ کئی گول ستونوں پر مشتمل ہے، جن کے اوپر ایک تکون سی تعمیر کی گئی ہے، جس پر عمارت کا نام اور سن تعمیر تحریر ہے۔ اس طرز کی عمارتیں ہمیں نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان اور بھارت کے کئی دیگر علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہال کے پچھلے دروازے اور دونوں اطراف کشادہ راہ داریاں ہیں، جنھوں نے عمارت کی خُوبصورتی میں مزید نکھار پیدا کیا ہے۔ سامنے کے حصے میں خاصی خالی جگہ پڑی ہے، جس میں باغیچہ ہے، مگر اب اُس میں لگائے گئے پودے سوکھ چکے ہیں۔
خالق دینا ہال میں کم و بیش چار سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور پھر یہ کہ اس کا محل وقوع بھی عوامی تقریبات کے لیے انتہائی آئیڈیل ہے، مگر اس کے باوجود روایتی افسر شاہی رویے کے سبب اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، حالانکہ قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی یہ ہال سیاسی، سماجی اور مذہبی تقریبات کا مرکز رہا ۔

یہ بھی پڑھیں:  قبیلے ذاتیں اور نامور خاندان