Palmyra

رومیو سے ٹکرا جانے والی ملکہ

EjazNews

نیشنل جغرافیائی میں زینوبیا نامی ایک ملکہ کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا ہے۔ یہ درحقیقت پامیرا ( Palmyra) کی ملکہ تھیں۔ لیکن اسے کبھی چین نہ آیا۔ اس نے ایک ایک کر کے رومیو کے کئی صوبوں کو ہتھیا لیا۔ اور اس کے بعد اس نے رومیو کے برابر اس کے ہم پلہ ایک سلطنت قائم کرلی دولت اور طاقت دونوں اس کے پاس تھیں اس نے ایسی تہذیب و ثقافت کو جنم دیا جس کی باقیات آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ سٹی آف پامیرا 30ویں صدی کا ایک عالی شان شہر تھا کھنڈرات بتا رہے تھے کہ عمارت عظیم تھی اسی کے نام کا ایک اور شہر رومن سلطنت کا حصہ تھے اوریہ اس کے مشرقی سرحدوں کے قریب واقع تھا۔ ملکہ زنوبیا کی اسی خطے پر نظر تھی کئی سال تک اس نے مملکت کو ہتھیانے کے جتن کیے۔ رومی سلطنت اگرچہ 30ویں صدی کے وسعت میں سیاسی اور معاشی کی زد میں تھی۔ مگر اس کو بحران نے آلیا۔ یہ بحران کسی اور کا نہیں ملکہ زنوبیا کا پیدا کر دہ تھا۔ جو اس کی کئی سرحدوں پر مختلف اطراف سے پہ در پہ حملے کر رہی تھی۔ ملکہ زنوبیا کے حملوں نے رومیو کی معیشت اور سیاست کا شیرازہ بکھیر دیا۔ ان کے لیے اپنا اقتدار اور مرکزیت قائم رکھنا مشکل ہوگیا۔اور ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی زمانے میں یور پ میں گالک سلطنت (Gallic) سلطنت نے بھی رومیو سے منہ موڑنا شروع کر دیا۔چنانچہ ہر طرف سے خطرات سے گھری ہوئی تھی ملکہ زنوبیا نے موقع غنیمت جانا اور آج کل کے ترکی ، شام اور مصرتک اپنی سلطنت وسیع کرلی۔ بحر قلزم اور نیڈٹیرین سی پر بھی اسے غلبہ حاصل ہوگیا۔
تاریخی طور پر ملکہ زنوبیا رومیو کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ کئی خطے صحرائی تھے ملکہ اور رومیو کی اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ رومیو پہلی صدی عیسوی میں رومی سلطنت کا حصہ ہونے کے با عث سٹی آف پامیرا نے بہت ترقی کی ۔ ایک جانب نیجیٹرین سی تھا جہاں رومیو کی حکومت تھی اور دوسری جانب ایشیاءکی عظیم ترین سلطنتیں ۔ یوں پامیرا قوم دو عظیم ممالک کے مابین ایک انتہائی تجارتی راستہ بن گیا۔ اور انہوں نے خود کو بی منوانا شروع کر دیا ان کا اعتماد بڑھا اور وہ خود کو صحرائی موتی کہنے لگے۔اور کسی حد تک رومیو کے تسلط سے آزادی حاصل کر چکے تھے۔ خوبصورت نقش و نگار والی عمارتوں کی باقیات آج کی خوشنما عمارتوں سے ملتی جلتی ہیں۔ ادھر ملکہ زنوبیا(Ptolemies) پلوٹومیس سے بھی جوڑتے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ کلوپترا اسی کی رشتہ دار تھیں 9ویں صدی کے مشہور فارسی تحقیق دان الطباری کویقین تھا کہ زنوبیا کا تعلق یونانی تہذیب سے نہیں بلکہ وہ عربی النسل تھی۔ جدید مغربی مصنف بھی کوئین آف پامیرا کو پولیمیس آف نسل نہیں سمجھتے۔تاہم اس کی تعلیم و تربیت اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں 18ویں صدی میں برطانوی مورخ ایڈورڈ گبن نے اپنی کتاب رومی سلطنت عروج و زوال کی چھٹی جلد میں اس کے بارے میں کچھ لکھا ہے۔ زنوبیا کے ایک عرب باشندے اودھے ناژث سے شادی کی وہی در حقیقت سٹی آف پامیرا کا حکمران تھا۔ 263ءسے وہ پامیرا کو ایک سلطنت کے طور پر پروان چڑھا رہا تھا۔ ابتدائی طورپر اس کے رومیو کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے تاہم فارسی ، پرشین زندگی چھوڑ کر اس نے اپنی الگ انفرادیت قائم کی۔ کچھ کا کہنا ہے اودھے ناژث درحقیقت رومیو کی ایما پر ایسا کررہا تھا ایسا نہ تھا وہ مشرق میں اپنی بادشاہت قائم کرنا چاہتا تھا۔ تاریخ دان اس کی طاقت کو مانتے ہیں اور اسے بادشاہوں کا بادشاہ گردانتے ہیں۔ کیونکہ اس نے ہی شہر پامیرا کو نئی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ اس نے ترکی کے مرکزی حصے پر بھی چڑھائی کی اورمحل میں مقیم کئی پیشہ داروں کو مار ڈالا۔ زنوبیا کے بیٹے کا نام (Wahdallat)وابلٹ تھا بعد میں وہی تخت نشین ہوا۔ رومی حکمرن کلوڈیس گوتھی کس نے زنوبیا کے آگے سر جھکا دیا اور اپنی ریاست کا کچھ حصہ اس میں شامل کرادیا۔ زنوبیا کا مقصد پورا ہوگیا۔ وہ رومیو کے ہم پلہ ریاست کی حکمران تھی۔ اناتولیہ کا بیشتر حصہ جسے آج ترکی کہا جاتا ہے شام کا مکمل حصہ حاصل کرنے کے بعد 269ءمیں اس نے اپنی فوجیں مصر میں داخل کر دیں۔ اور سکندریہ پر قابض ہو گئی صرف ایک سال کے اندر اندر اس نے پورے مصر پر قبضہ جمالیا۔اسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔
بعد میں رومیونے اپنی ساری طاقت مجتمع کی اور ان کے رہنما اورے لیان (Aurelian) نے زنوبیا پر پے در پے کئی حملے کیے۔ 70ہزار جوانوں کی مد د سے وہ اسے شکست دینے میں کامیاب ہو گیا۔ 272ءتک ا س نے 2سال تک شہر پامیرا کا محاصرہ جاری رکھا۔ قریب تھا کہ محاصرہ کرنے والے سپاہی بے رحم موسم اوردھوپ کے آگے ہتھیار ڈال دیتے لیکن بقول اوگسٹن ملکہ زنوبیانے اسے ایک پیغام بھیجا من جانب زنوبیا ملکہ مشرق با جانب اورلیان ۔ آپ میرا استعفیٰ چاہتے ہو مگر آپ نہیںجانتے کہ کلو پترا نے ایک ملکہ کے طور پر موت کو زندگی پر ترجیح دی مرتبہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو غلامی سے موت بہتر ہے۔ تاہم آگسٹس شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا ملکہ زنوبیا کو پرشیا کے مغرب کی جانب فرار ہو گئی تاہم اسے حراست میں لے لیا گیا۔ وہ دریائے فرات کے قریب ہی پہنچی تھی کہ آگسٹس کی فوجوں نے جا لیا اس کی پیدائش کی طرح اس کی موت بھی سر بستہ راز ہے عرب محققین کے مطابق اس نے خودکشی کی ۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اسے گرفتار کر کے روم میں کسی قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ مگر اس بارے میں کچھ بھی وثوق سے کہنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہراسانی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے