imran_khan_housing

ہم لاک ڈاؤن کی جانب واپس نہیں جاسکتے یہ ملک مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتا:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف 2 ملک تھے جنہوں نے اس بات کا ادراک کیا کہ کرونا کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں رضاکاروں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے رضاکاروں کی ضرورت تھی جو عوام میں جا کر کرونا وائرس سے بچاؤ کے طریقوں کے حوالے سے عوام کو آگاہی دیں۔
اپنی گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم واحد مسلمان ملک تھے جس نے یہ فیصلہ کیا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کھلی رکھی جائیں گی اور اس سلسلے میں ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جائے گا۔ مخالفین نے بہت شور مچایا کہ مساجد بند کی جائیں، وباپوری دنیا میں پھیل گئی ہے لیکن ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ مساجد سے کرونا کا پھیلاؤ نہیں ہوا اور آج دنیا کے دیگر ممالک بھی ایس او پیز پر عمل کر کے مساجد کھول رہے ہیں۔ اگر ہم اب بھی عوام کو احتیاط کروائیں تو ہم اس مشکل وقت سے نہیں گزریں گے جس سے دنیا کے دیگر ممالک گزرے۔
وزیراعظم عمران خان کا خطاب میں کہنا تھا کہ برازیل اور امریکہ میں شرح اموات بہت بلند ہے لیکن اس کے مقابلے پاکستان میں حالت خاصی بہتر ہے لیکن پھر بھی افسوس کی بات ہے کہ اتنی اموات ہوئیں۔ ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو عوام میں شعور پیدا کرنا ہے، اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کرونا کے کیسز میں کمی آسکتی ہے۔ یہ وائرس ہے اور اسے پھیلنا ہے ہم لوگوں کو کمرے میں بند نہیں کرسکتے کیونکہ صرف اس صورت میں وائرس کا پھیلاؤ شاید رک جائے لیکن ہمارے جیسے ملک لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں شدید غربت کے باوجود سخت لاک ڈاؤن لگایا گیا جس سے تباہی مچ گئی اور وہاں لوگ مرر ہے ہیں۔ہم نے احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو ریلیف پہنچایا ہے، اگر ہم یہ اقدام نہ اٹھاتے تو پاکستان میں برا حال ہوجاتا۔ہم لاک ڈاؤن کی جانب واپس نہیں جاسکتے یہ ملک مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم تھا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے پر دباؤ بڑھے گا اور پوری دنیا میں طبی عملے اس دباؤ کا شکار ہیں لیکن اگر ایس او پیز پر عمل کروایا گیا تو اس دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔ ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا اس کے باوجود ٹیکس ریونیو میں 8 کھرب روپے کی کمی آئی اب تک ہم گزشتہ حکومتوں کے لیے گئے قرضوں پر 5 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی کرچکے ہیں اس لیے ریونیو میں یہ کمی ہمارے لیے مشکلات کا سبب بنے گی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور اخراجات کم کرتے ہوئے آمدن بڑھانے کے طریقوں پر توجہ دینی ہوگی۔
ٹائیگر فورس کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا ٹائیگر فورس کو خصوصی کارڈز دئیے جائیں گے اس کا فائدہ یہ ہے کہ انتظامیہ کو آپ کی شناخت معلوم ہوگی اور جو افراد بے روزگار ہوئے ان کی معلومات آپ حکومت کو فراہم کریں گے جبکہ ہم پہلے سے دی گئی معلومات پر کام کررہے ہیں۔مجھے مزید 2 شعبوں میں ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے جس میں ایک ٹڈی دل ہے جو 30 سال بعد پاکستان میں اس طرح حملہ آور ہوئی ہے اس سلسلے میں آپ کو بتایا جائے گا کہ کس طرح آپ انتظامیہ کی معاونت کرسکتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب پاکستان کے گلیشئرز پگھل رہے ہیں اور دریاؤں میں پانی بھی یہاں سے آتا ہے جو وقت کے ساتھ کم ہوتا جائے گا اس سلسلے میں ہم نے شجرکاری کی مہم شروع کی تھی جس میں اب ٹائیگر فورس کی مدد بھی لی جائے گی۔ آئندہ آنے والے وقت میں ہمیں جس بھی شعبے میں ٹائیگر فورس کی ضرورت پڑے گی ہم ان ذمہ داریوں سے آگاہ کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  حقیقت فارنزک آڈٹ کے بعد سامنے آئے گی: ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان